نیو لبرل سرمایہ داری کا مجرمانہ چہرہ اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اک دور تھا جب یہاں جاگیرداری نظام تھا۔ زمین کے مالک عوام پہ حکومت کرتے تھے۔ زراعت بڑی انڈسٹری سمجھی جاتی تھی۔ پھر وقت بدلا اور سرمایہ داری نظام نے آہستگی سے جاگیرداری کی جگہ لے لی۔ آج ہم نیو لبرل سرمایہ داری نظام میں سانس لے رہے ہیں۔ تھرڈ ورلڈ ممالک سے لے کر سپر پاورز تک نیو لبرل سرمایہ داری نظام کے شکنجے میں ہے۔ کیا آپ نے سوچا ہے کہ چند دہائیاں قبل تک اک سیاستدان کو الیکشن کے لیے کتنا پیسہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔

چند ہزار روپے اور اکثر جاگیردار تو کسی کے ہاتھ پیغام بھیج کر انتخابی نشان بتا دیا کرتے تھے۔ آج الیکشن کمپین انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پمفلٹ، بینرز، پوسٹرز، ریلیاں، جلسے، ترانے، ڈی جے جھنڈیاں اور فیس پینٹنگز پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا منشور کی تشہیر انٹریوز اور پریس کانفرنسز بھی لازم ہو چکے ہیں۔ آج بڑے بڑے سرمایہ دار سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں پہ انویسٹ کرتی ہیں۔ ان کو فنڈ کرتی ہیں تا کہ وہ برسر اقتدار آ کر ان کے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔

یہ صرف امبانی اور مودی، جہانگیر ترین اور عمران خان تک موقوف نہیں بڑی بڑی سپر پاورز کا یہی حال ہے۔ ہماری دادیاں نانیاں بتاتی ہیں کہ ان کے دور میں گورے کالے کا کوئی کمپلیکس نہیں ہوتا تھا بالوں کے لیے نت نئے شیمپوز نہیں ہوتے تھے۔ زیادہ کیا تو چہرے پہ ملتانی مٹی لگا لی بالوں کے لیے آملہ ریٹھا اور سیکا کائی جیسی جڑی بوٹیوں کو پانی میں ڈال کر سر دھو لیا۔ آج میک اپ انڈسٹری بلین ڈالرز انڈسٹری ہے۔ سرمایہ داری نظام کا بنیادی مقصد منافع کمانا ہے۔

یہ سوٹڈ بونڈ برانڈز پہننے والے خوشبووں سے مہکتے سرمایہ دار اندر سے کتنے بدبودار نکلتے ہیں عام آدمی کے لیے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ یہ سرمایہ دار کس قدر طاقتور ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ امریکہ جیسے ملک میں ڈیو پونٹ نامی اک کمپنی کے خلاف اک کیس انیس سو اٹھانوے میں شروع کیا گیا اور آج تک وہ کیس چل رہا ہے۔

روب بلوٹ نامی اک وکیل نے انیس سو نوے میں اپنا کیرئیر شروع کیا اور آٹھ سال وہ اک فرم کے ساتھ کیمیکل انڈسٹری کو قانونی مشاورت فراہم کرتا رہا انیس سو اٹھانوے وہ سال تھا جب وہ اس کمپنی کا شریک مالک بنا۔ اک دن اس کے آفس میں اس کی دادی کی سفارش کے ساتھ اک کسان ولبر ٹینیٹ داخل ہوا۔ پارکس پرگ کے علاقے میں اس کا مویشی فارم تھا۔ اچانک اس کی گائیں پراسرار طور پہ مرنے لگیں۔ ولبر کے مطابق سینکڑوں گائیں اس نہر کا پانی پینے کی وجہ سے مریں جس مین ڈیو پونٹ نامی کیمیکل کمپنی اپنا کیمیائی فضلہ پھینکتی ہے

White smoke hovers over the DuPont plant in Belle (AP Photo/Jeff Gentner)

روب بلوٹ اس کیمیکل کمپنی کو جانتا تھا۔ ڈیو پونٹ کمپنی کیمیکل کی دنیا کی ملکہ کہلائی جا سکتی ہے۔ 1802 ء میں بنائی گئی یہ کمپنی شروعات میں بندوقوں کے لیے گن پاؤڈر بناتی تھی مگر وقت کے ساتھ اس کام پھیلتا گیا۔ پلاسٹک سے لے کر الیکٹرونکس تک، زراعت سے لے کر اسلحہ سازی تک، الیکٹرونک سے لے کر خوراک تک کون سی ایسی چیز ہے جس میں ڈیوپونٹ نے ہاتھ نہ ڈالا ہو۔ یہ امریکہ کی چند بہت بڑی کمپنیوں میں سے اک مانی جاتی تھی۔

روب بلوٹ خود اس کمپنی کی وکالت کر چکا تھا۔ اس نے پہلے تو کسان کو ٹالنے کی کوشش کی مگر اس کے اصرار پہ جان چھڑانے کے لیے اس نے انوائرمنٹل ایجنسی کو انوالو کر کے کسان کا اک کیس بنا دیا۔ ای پی اے اور ڈیوپونٹ نے مل کر جانوروں کے ڈاکٹرز پہ مبنی اک ٹیم تشکیل دی تا کہ وہ تفتیش کر کے بتا سکیں کہ آیا ولبر کی گائیوں کی موت کی وجہ ندی کا پانی ہے یا کچھ اور۔ اس کمیٹی کی رپورٹس آئیں تو اس نے روب بلوٹ کو بھی چونکا دیا۔

رپورٹ کے مطابق ولبر کی گائیں خوراک کی کمی اور مکھیوں کی وجہ سے مری ہیں۔ حالانکہ ویسٹ ورجینیا کا وہ علاقہ انتہائی سرسبز ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا ٹھنڈا تھا کہ وہاں مکھیاں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا؟ اس رپورٹ نے روب کو شک میں مبتلا کر دیا لہذا اس نے انوائرمنٹل ایجنسی کو فریق بنا کر ڈیوپونٹ کے خلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔ جب ڈیوپونٹ کے سرکردہ کو روب نے جواب دہ کرنے کی کوشش کی تو ڈیوپونٹ نے ٹرک بھر کر کاغذات وکیل روب بلاٹ کے دفتر بھجوا دیے اور یہی ان کی غلطی تھی۔

روب نے دن رات اک کر کے ان کاغذات کی جانچ شروع کردی۔ اسے پتا چلا کہ ڈیوپونٹ اک POFA نام کا اک کیمیکل استعمال کر رہی ہے جسے ضائع کرنے کے لیے کمپنی نے سٹیل کے ڈرمز استعمال کرنے کا دعویٰ کیا۔ جب روب نے مزید تحقیق کی تو بہت سے خوفناک انکشافات سامنے آئے۔ پی او ایف اے نامی کیمیکل واٹر پروف ہونے کی وجہ سے سب سے پہلے ٹینکوں کی کوٹنگ کے لیے استعمال ہوتا۔ لیکن پھر ڈیو پانٹ نے اسے گھر کی اشیا بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا اسے ٹیفلون کا نام دیا ٹیفلون نان سٹک پین سے لے کر رین کوٹس اور بوٹ تک کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کیمیکل کا نام تبدیل کر کے سی ایٹ C 8 کر دیا تا کہ کسی کو پتا نہ چل سکے۔ سالوں پہ سال گزرتے گئے روب کو معلوم ہوا کہ اس سی ایٹ کی وجہ سے کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین پہ بہت برا اثر پڑا کئی ملازمین بیماری کا شکار بن گئے؟ کئی خواتین ورکر کے بچوں پہ اثر پڑا عورتوں نے معذور بچے دیے کچھ عورتیں بانجھ ہو گئیں۔ لیکن کمپنی سب کچھ جان کر بھی انجان بنی رہی۔ جب کیس چلا تو کمپنی نے کسان کے گھر ہیلی کاپٹر بھیج کر اسے ڈرانے کی کوشش کی۔

Rob Bilott lawyer

تین سال کمپنی کیس کو لٹکاتی رہی۔ کسی امریکی ادارے کو جرات نہ ہو سکی کہ فوری انصاف کر سکتا۔ اس بیچ ڈیو پونٹ کے ان ملازمین کے کیس روب کے علم میں آئے جو سی ایٹ یا POFA نامی کیمیکل کا کام کرتے تھے ان میں سے اکثر کینسر کا شکار ہو چکے تھے خواتین بانجھ ہو چکی تھیں معذور بچے بھی سامنے آئے۔ اور سب سے خطرناک بات سامنے آئی کہ یہ کیمیکل شہریوں کو دیے جانے والے پانی میں بھی موجود تھا کمپنی نے خود سے ہی اک معیار طے کر رکھا تھا کہ پانی میں اتنے فیصد تک اس کی موجودگی نقصان دہ نہیں جبکہ پانی میں اس کی مقدار اس معیار سے بھی کئی گنا زیادہ تھی۔

جب یہ بات سامنے آئی تو شہری بھڑک گئے مگر ڈیوپونٹ نے میڈیا پہ مہم شروع کر دی کہ کیمیکل سے تیارکردہ ٹیفلون سے بنی چیزیں بالکل مضر صحت نہیں۔ بڑے بڑے سٹار ٹیفلون نان سٹک پین پہ آملیٹ بنا کر کھاتے دکھائے جاتے۔ مگر روب نے ہمت نہیں ہاری وہ دلجمعی سے کیس لڑتا رہا۔ آخر کار عدالت نے شہریوں کے خون کے نمونے لینے اور سائنسدانوں کو کیمیکل کے انسانی صحت پہ اثرات پرکھنے کا حکم دیا۔ ہزاروں شہریوں نے خون کے نمونے دیے مگر ڈیو پانٹ نے اپنے اثر و رسوخ سے کئی سال اس سٹڈی کے نتائج رکوائے رکھے اور آخر کار کیس دائر کرنے تیرہ سال بعد سٹڈی کی رپورٹ آئی جس میں بتایا گیا کہ کیمیکل پھیپھڑوں کے کینسر سانس کی بیماریوں فوطوں کے کینسر سمیت کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

اس دوران کسان اور اس کی بیوی دونوں کو کینسر ہو چکا تھا؟ 3535 درخواستوں کی سیٹلمنٹ کے طور پہ ڈیوپانٹ نے 670 ملین سے زائد رقم ادا کی۔ مگر نہ تو کمپنی بند ہوئی نہ ہی کسی کو سزا ہوئی۔ الٹا 2014 میں ڈیوپانٹ امریکہ کی چوتھی بڑی کیمیکل کمپنی قرار پائی۔ دو ہزار سترہ میں ڈیوپانٹ کو ڈاؤ انک میں ضم کر دیا گیا اور آج بھی یہ کمپنی اپنی سینکڑوں مصنوعات کے ساتھ امریکہ یورپ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا کاروبار کر رہی ہے۔

ہمارے کوٹ ادو میں ڈیوپانٹ کا کردار ادا کرنے والے ادارے کا نام کیپکو ہے کوٹ ادو تھرمل پاور سٹیشن یعنی کیپکو ماحولیاتی آلودگی اور زیر زمین پانی کو زہریلا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کوٹ ادو میں زیرزمین پانی میں آرسینک کی مقدار خطرناک حد عبور کر چکی ہے کوٹ ادو میں ہر دس میں سے آٹھواں شخص ہیپاٹائٹس، جلدی آنکھوں یا سانس کی بیماری میں مبتلا ہے۔ کیپکو کی جانب سے کیمیائی فضلہ نہر میں ڈالا جاتا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹ کام نہیں کرتے مگر ہماری ای پی اے ان کو ہر سال سرٹیفکیٹ عطا کر دیتی ہے۔

کوٹ ادو کے نواح میں واقع شوگر ملز اپنا کیمائی فضلہ کھلے میدانوں میں پھینکتی آ رہی ہیں تعفن کی وجہ سے وہاں سے گزرنا محال ہے ان ملز کی کیمائی نہر میں گر کر کئی بچے اپنی ٹانگوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ میڈیا نے ان کی سٹوری بھی بریک کی مگر مجال ہے جو ان دیسی ڈیوپانٹ کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے؟ آج اس نیو لبرل سرمایہ داری کے دور میں ہمیں اک روب بلوٹ کی ضرورت ہے جو سال میں اک بار نزلہ زکام کی دوائیوں پہ مشتمل ہیلتھ کیمپ لگا کر دمہ و یرقان دینے والے ان اداروں کو لگام ڈال سکے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *