اگر قائد اعظم نے نہیں فرمایا تو فرمانا چاہیے تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ان احباب کو یاد ہوگا جو آج سے تیس، پنتیس سال پہلے ٹین ایجر تھے اور صرف پی ٹی وی دیکھا کرتے تھے کیونکہ اس وقت نہ کیبل تھی نہ ڈش نہ کوئی اور چینل، بس پی ٹی وی ہی واحد ذریعہ تفریح تھا اور ہم جیسے ندیدے لوگ ٹی وی کا کھیڑا اس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک وہاں سے قومی ترانہ نشر نہیں ہوجاتا تھا اور ٹی وی پر مکھیاں بھنبھنانا شروع نہیں کردیتی تھیں۔ یا والد صاحب کی گرجدار آواز کہ ”ھُن کنجر خانہ بند وی کر دے“ تو فوراً شاں شاں کی آواز بند کردیتے تھے۔ ٹی وی کو بعض اوقات اس لیے بھی تاکتے رہتے تھے کہ شاید غلطی سے پھر کچھ نشر ہونا شروع ہوجائے اور ہم اس سے محروم رہ جائیں۔ مگر افسوس ایسا کبھی نہ ہوتا۔

ہاں البتہ پی ٹی وی کی الوداعی نشریات میں کچھ الوداعی کلمات ضرور دیکھنے اور سننے کو ملتے مثلاً ”قائداعظم کا فرمان، فرمان الٰہی“ وغیرہ۔ میرے استاد محترم جناب رفیق جعفر صاحب نے اسی ضمن میں ایک قصہ سنایا کہ وہ بندہ عظیم جو قائداعظم کے فرمان، پی ٹی وی پر لگاتا تھا و ہ ان کا دوست ہے، اور ہم بعض قائد سے منسوب فرامین کے بارے میں جب وہ شکوک وشبہات کا شکار ہوئے تو انہوں نے اس دوست سے پوچھ ہی لیا کہ ”کہ یار یہ جو تم قائداعظم کے فرمان لگاتے ہو ان میں سے اکثر تو قائداعظم نے نہیں فرمائے“ تو وہ دوست مسکرایا اور بولا کہ دیکھو اگر قائداعظم نے نہیں فرمایا تو انہیں فرمانا چاہیے تھا۔

بات اگر یہیں تک محدود رہے تو چلو نظر انداز کی جاسکتی ہے مگر دیکھا جائے تو ہم بحثیت قوم اب بھی وہ بات سن کر خوش ہوتے ہیں جنہیں سننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ہماری اسی خواہشاتی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے، عام دانشور سے لے کر سیاستدان، مذہبی رہنما، صحافی، لکھاری، شاعر، تنقید نگار، تجزیہ کار سب وہی کہتے ہیں جس کی عوام دل سے خواہش رکھتے ہیں۔

آپ نے اکثر اپنے برادر مسلم ممالک کے سفیروں یا مہمانان خصوصی کی ان کی اپنی زبان میں مختلف تقریبات میں مثلاً عربی یا فارسی میں تقاریر سنی ہوں گی جن کے ساتھ پاکستانی مترجم بھی ہوتے ہیں۔ اگر آپ بدقسمتی سے اس غیرملکی کی زبان کی شد بد رکھتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ مترجم، غیر ملکی مہمان کی تقریر کا ہوبہو ترجمہ کرنے کی بجائے جذبات میں آکر اپنی تقریر شروع کردیتے ہیں۔ کیونکہ مترجم جب دیکھتا ہے کہ عربی یا فارسی مہمان ان کے جذبات کی عکاسی نہیں کررہا تو وہ اپنے جذبات کر خود اظہار کرنا شروع کردیتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ داد و تحسین لے سکیں۔

اسی طرح محقق ہم اتنے ہیں کہ کسی مقامی تحقیقی مقالے یا تھیسسز کو اٹھا کر دیکھ لیں وہ کسی نہ کسی اور کی تحقیق کا سرقہ نکلے گا یا مکھی پر مکھی ماری گئی ہوگی۔ اور تو اور جہاں سوشل میڈیا نے انسان کو اس کا اصلی چہرہ دکھایا ہے وہیں یہ بھی آپکو علم ہوگیا ہوگا کہ بقول شخصے پاکستان میں ہر بندہ اگر عظیم مفکر نہیں تو عظیم حکیم ضرور ہے اگر وہ بھی نہیں تو آپا زبیدہ کاپرتو لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی مفکرانہ سوچ اور تدبّر ثابت کرنے کے لیے دوسروں کے اقوال زریں، انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے اپنے نام سے فیس بک پر لگا کر، دوستوں سے داد و تحسین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور تو اور ہم حضرت علیؑ کے اقوال بھی اپنے نام سے لگانے سے گریز نہیں کرتے کہ یہ ان کو نہیں ہمیں فرمانا چاہیے تھا۔

اسی طرح جہاں سیاستدان، غریبوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں وہیں مذہبی اکابرین بھی اپنے اپنے فرقے کی سچائی کے لئے مقدس کتابوں سے وہ وہ تاویلیں نکال نکال کر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں یہاں حوالاجات سے لکھو ں تو فوراً توھین مذہب کا پرچہ داغ دیا جائے گا۔

مثال کے طور پر آج کل کرونا کی وبا چل رہی ہے تو اس وائرس کو پہلے ایغور کے مسلمانوں کے خلاف اسے اللہ کا عذاب قرار دیا گیا پھر جب یہ وائرس مسلمان ممالک پ حملہ آور ہوا تو اسے آزمائش میں بدل دیا گیا کہ کعبۃاللہ میں بھی طواف محدود ہوگیا۔ پھر جب ایران میں یہ وائرس حملہ آور ہوا ور زائرین پاکستان میں داخل ہوئے تو اسے پاکستان کے خلاف، ایران کی سازش قرار دیا گیا کہ وہ وائرس زدہ زائرین کو پاکستان میں جان بوجھ کر بھیج رہا ہے تاکہ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو وائرس سے معتوب کیا جائے۔

مگر جب عرب ممالک بشمول سعودی عرب سے پاکستانی، وائرس سے مسلح ہوکر پاکستان داخل ہوئے تو پھر دوسرے فرقے کی مذاق اڑانے کی باری آگئی، اور پھر جب پتہ چلا کہ تبلیغی جماعت بھی کرونہ وائرس سے داغدار ہو چکی ہے تو پھر بھی مذہبیوں کو سوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اس کے تدارک کی نہ سوجھی۔ ہم نے اس وبا کو انسانی وبا کی بجائے اسے فرقوں کا لباس پہنا کر ہی عافیت جانی۔

جب پھر سب مذہبی حلقوں کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑ گئی تو پھر بھی انہوں نے اس وبا سے نجات کے لیے متعلقہ تحقیق کاروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملانے کی بجائے اپنے اپنے طریقے سے دبانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اور تو اور وزیراعظم نے بھی بجائے اپنے تحقیق اداروں سے مشورہ لینے کے سب سے پہلے مذہبی عالم کو خصوصی طور پر دم کرنے کے لیے بلایا۔ کیونکہ ان کو بھی علم تھا کہ آج کل یہی کچھ بازار میں بکتا ہے۔ بس پھر کیا تھا کہیں ٹی وی پر رقت آمیز دعائیں کرائی جانے لگیں تو کہیں لڈن میاں نے علاج تو دریافت کرلیا مگر اپنا مقالہ چھپوانے کی بجائے چُھپا لیا۔

کہ اگرچہ ان کے بقول، انہوں نے ایسا روحانی علاج کردیا ہے کہ یہ وائرس پاکستان پر اثر انداز نہیں ہوگا مگر مذاق کے ڈر سے اڑ گئے ”نہیں بتاؤں گاخواہ جو مرضی کر لو“۔ اور کوئی تیسرامذہبی، جب اس وائرس کے آگے بے بس نظر آیا تو اس نے عجیب و غریب خواب دیکھنے شروع کردیے۔ کسی چوتھے کا بس نہیں چلا تو اس نے کافروں کو کوسنے اور بدعائیں دینی شروع کردیں۔ اور انہی کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے، الیکٹرانک میڈیا کے پانچویں ستون، ہمارے ملک کے عظیم مذہبی اسکالر اور اسلامی دنیا کے ناسٹر ڈم ثانی جناب اوریا مقبول خان صاحب نے مذہبی کتابوں کی عرق ریزی کے بعد دنیا کی تباہی کی شدید خواہش کی عملی تعبیر ہوتی دیکھ لی۔

یقیناً یہ سب حرکتیں انتہائی غیر سنجیدہ ہیں اور تھیں مگر شاید مذہبی دکانداروں کی اپنی دکانداری بچانے کے لیے آخری بھونڈی کوشش بھی۔

تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بے سروپا خیالات، خواہشات، افواھوں کے پھیلنے یا پھیلانے کے اصل محرکات کیا ہیں؟ اس کا جواب ماہرین نفسیات اس طرح دیتے ہیں کہ ہماری ذہنی و روحانی تربیت اس معاشرے میں ایسے پروان چڑھی ہے کہ ہم عملی زندگی میں ہاتھ پیر ہلانے کی بجائے جھاڑ پونچھ، ٹونے ٹوٹکوں، غیبی امداد، خوابوں کے ذریعے خوشخبری کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کس بھی چھوٹی سے چھوٹی یا بڑی سے بڑی مصیبت کے اسباب تلاش کرنے کی بجائے ہم پیروں، فقیروں، بابوں، اور مذہبی دکانداروں کی طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ وہ کسی طرح اس مصیبت سے انہیں نکالیں جیسے کہ پینسٹھ کی جنگ کے واقعات کی طرح کہ کس طرح بابا اپنے شہر میں گرنے والے بم کو ہاتھ مار کر شہر سے باہر گرا دیتا تھا جیسے کوئی گول کیپر، فٹبال کو گول پوسٹ سے نکال باہر کر تا ہے۔ یا ساری مصیبتیں اپنے اوپر لے لیتا تھا۔

ظاہر ہے کہ ملک صرف دعا، جھاڑ پونچھ سے نہیں چلتے، اور کسی بھی مصیبت کا مقابلہ عرق ریزی، حکمت عملی اور مردانہ وار لڑ کر کیا جاتا ہے۔

اب جبکہ اس کرونا نے ہمیں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ جنگی اسلحوں کے انبار سے یا جنگیں مسلط کرنے سے انسانیت کی خدمت نہیں ہوتی بلکہ انسان اور ماحول، دونو ں کو صحت مند رکھ کر زمین کی بہتریں خدمت کی جاسکتی ہے۔ اور پھر بقول شخصے، اس کرونا نے انسان کو ایک دفعہ پھر اپنی اصلاح اور جانچ کا موقع دیا ہے کیونکہ لوگوں کو پتہ چل چکا ہے کہ پادری، پنڈت یا ملاں کے پاس اس کا علاج نہیں اور انسان کی قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ سے کیسی کیسی تباہی آسکتی ہے۔

اس وبا نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کا بھی پول کھول دیا ہے کہ وہ ابھی تک اتنی ترقی کے باوجود کسی ناگہانی آفت کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور یہ وبا ان لوگوں کے لئے بھی سبق ہے جو صرف عذاب، آزمائش کا راگ الاپنے سے آگے نہیں جاتے جبکہ اس ناگہانی آفت میں عوام کو مزید کوسنے اور شرمندہ کرنے کی بجائے عملی قدامات کی جانب قد م اور احتیاط ہی اس کا حل ہے ورنہ کم ترقی یافتہ ممالک کیا، مغربی ممالک جیسے زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ پڑھے لکھے ممالک کو بھی اس وبا کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے ہیں۔

آخری الفاظ میں کیا ہم امید کرسکتے ہیں کہ کرونا وائرس سے اب بھی کچھ سیکھ ہی لیں؟ کیا ہم اپنی خواہشات، تاویلوں، خوابوں سے نکل کر حقیقی اور سادہ زندگی گزار نے کے لیے تیار ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *