کرونا کی وبا: کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سچ کیا ہے؟ کیا وہ سب کچھ سچ ہے جو کہ میڈیا پر بتا یا جا رہا ہے؟ کیا حکومتی اعداد و شمار صحیح ہیں؟

دنیا میں جہاں کہیں بھی اور جب کبھی بھی کوئی وبا پھوٹتی ہے تو لوگ، حکومتیں، میڈیا اور صحت کے ادارے ہمیشہ ایک ہی طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، ایک وبا شروع ہو چکی ہے۔ یہ سٹیج انکار کی ہو تی ہے۔ چین کا بھی شروع میں یہی رویہ تھا۔ (جس ڈاکٹر کو اب نیشنل ہیرو قرار دیا جارہا ہے اسے معاشرہ میں جھوٹی خبر پہلا کر خوف پیدا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ )

جب حقائق اس کا اقرار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں تو اس کے بع دلوگ حکومتیں اور ادارے سب پریشان (دوسری سٹیج) ہو جاتے ہیں۔ وہ کوئی فیصلہ ہی نہیں کر سکتے کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ ( ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان کے بعض بیانات دوسری سٹیج کا اظہار ہیں۔ ) تیسرے درجہ میں ان پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔ ( عمران خاں کا لاک ڈاؤن سے مسلسل انکار اس کی ایک مثال ہے ) ۔ ان تمام ادوار میں وہ اپنے نقصان میں اضافہ کرتے جاتے ہپں۔ اس دوران توہمات، الزامات، افواہیں اور جھوٹی سچی خبریں مل کر قوم کی زندگی کے اس مرحلہ میں مشکلات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

یہ تینوں ادوار جتنے چھوٹے ہوں گے اتنا نقصان کم ہوتا ہے۔

پاکستانی ائرپورٹس اور تافتان میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے انکار کی (پہلی) سٹیج تھی۔ ہم اس وقت دوسری اور تیسری سٹیج سے گزر رہے ہیں لیکن ہم میں سے بہت سے افراد اب بھی قبول کرنے کو تیار نہیں کہ یہ ایک وبا ہے۔ کوئی اسے بائیو کیمیکل وار کا نام دے رہا ہے اور کوئی اسے خدائی عذاب گردانتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے 189 عیسوی کی روم میں پھیلنے والی چیچک کی وبا کے بارے میں ایک پروہت کا کہنا تھا کہ دیوتاؤں کے بادشاہ جیوپیٹر ناراض ہو گئے ہیں۔ ایک اور کا خیال تھا یہ سب زہریلی شراب پینے کی وجہ سے ہے۔

انسان وباؤں سے لڑتے لڑتے یہاں تک پہنچا ہے اگر آج ہم زندہ ہیں، بیماریوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایک صحتمند زندگی گزار رہے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے بیماریوں سے لڑ کر ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لی ہے۔ انسان ہمیشہ سیلاب، طوفان، زلزلہ اور دوسری نظر آنے والی آفات کے ساتھ ساتھ عام آنکھ سے اوجھل، بیماریاں پیدا کرنے والے جراثیم سے بھی لڑتا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان وباؤں اور جراثیم سے ہلاکتوں کی تعداد باقی تمام قسم کی اموات سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی وجہ سے ان کا خوف انسان کے تحت الشعور میں رچا بسا ہے۔ ہیضہ، چیچک، طاعون اور کوڑھ جیسی خوفناک وبائی امراض پر انسان کافی حد تک قابو پا چکا ہے لیکن ان کا نام ابھی بھی اس کے لیے ڈراؤنے خواب جیسا ہے۔ وبا ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں انسان جانچ پڑتال کر کے نہیں بتا سکتا کہ وہ انسانی جانوں کا کتنا نقصان کرے گی اور معیشت کو کس حد تک تباہ کر دے گی۔ یہ ایک ڈراؤنا خواب ہوتا ہے جس کا پتا صرف جاگنے کے بعد ہی چلتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ قوم اور ان کے لیڈر جاگ جائیں اور حالات کا صحیح ادراک کر لیں۔ اور یہی وبا کی چوتھی سٹیج ہے۔

عقلمندی یہ کہتی ہے کہ اس سے ڈرا نہ جائے، خوف زدہ نہ ہوا جائے بلکہ نقصانات کا صحیح اندازہ لگا کر اس کا مقابلہ کیا جائے۔

کرونا کی وبا جب سے پاکستان کہ میں آئی ہے ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ہمارا کتنا نقصان ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک کے کتنے افراد اس کا شکار ہیں۔ اوران میں مزید کتنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ کون سے علاقہ جات میں یہ بیماری زیادہ پھیل سکتی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہسپتالوں میں ابھی تک اس کے ٹیسٹ کرنے کی سہولیات ہی میسر نہیں۔ صرف میڈیا اوردورہ کرنے والوں کو دکھانے کے لئے کچھ کٹس رکھی ہوئی ہیں۔ یہ حالات ضلعی سطح کے ہسپتالوں کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد نہ ہو نے کے برابر ہے۔ بڑے شہروں میں واقع اعلیٰ درجہ کے ہسپتالوں کو دیکھا جائے تو ان میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ جب کسی مشکوک مریض کو ٹیسٹ کروانے کا کہا جاتا ہے تو ان میں سے اکثر بھاگ جاتے ہیں۔ جن کا ٹیسٹ کروایا جائے ان کی رپورٹ دو سے تین دن کے بعد آتی ہے اور بعض مرتبہ اس سے زیادہ دن بھی لگ جاتے ہیں۔ اِس دوران وہ بغیر لیبل ہوئے ٹھیک ہو کر گھر واپس چلے جاتے ہیں یا پھر؟

اس عرصہ میں وہ مریض کتنے لوگوں کو وائرس منتقل کر دیتا ہے کوئی پتا نہیں۔ کرونا کے مریضوں کی جو تعداد میڈیا پر بتائی جا رہی ہے، ان حالات میں اگر وہ سچ ہے تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں۔ حکومتی نا اہلی کے باوجود اگر اموات اور مریضوں کی تعداد اتنی ہی کم ہے تو ’ستے ای خیراں نے‘ ۔

پھر 14 اپریل کے بعد لاک ڈاؤن اور پابندیوں کی مزید ضرورت نہیں پڑے گی۔

لاک ڈاؤن نے ملک کی معیشت کے ساتھ عوام کی کمربھی توڑ دی ہے۔ اب عوام مزید برداشت نہیں کر سکیں گے۔ خوف اور بیماری سے زیادہ خطرناک، بھوک ہوتی ہے۔ اس لاک ڈاؤن کو اب ختم کرنا ہی پڑے گا۔ حکومتی پیکیج کچھ بھلا نہیں کر سکے گا، لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو گئے تو ملک میں انارکی پھیلے گی جسے قابو میں لانا ناممکن ہوگا۔

اگر یہ اعداد و شمار ٹھیک نہیں، جس کا امکان ان حالات میں بہت زیادہ ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اب ہوش کے ناخن لے اور سچ کا سامنا کرے۔ سچ کو قبول کر کے عوام کو بھی سچ ہی بتائے۔ یہی اس مشکل سے سرخرو ہو کر نکلنے کاراستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *