وبا کا سنا تھا، پالا اب پڑا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طاعون کی وبا پھیل گئی تھی۔ قصبے کی بیشتر آبادی گھروں سے نکل کر کھلے کھیتوں میں زندگی گزارنے لگی تھی مگر حکیم مرزا عبدالعزیز اپنی حویلی میں ہی رہتے رہے، روز اپنی گھوڑی پہ سوار ہو کر لوگوں کا حال پوچھنے قصبے سے باہر جایا کرتے تھے۔ ایک روز لوٹے تو اپنی دوسری بیوی سے بڑے بیٹے مرزا رفیق سے کہا، ”آج میں کچھ تھک گیا ہوں، تھوڑی دیر کے لیے میری ٹانگیں دبا دو“۔ ٹانگیں دباتے دباتے مرزا رفیق کا ہاتھ ان کی ٹانگ کے آخری سرے پر پہنچا تو پیٹ اور ٹانگ کے ملاپ کی جگہ ایک ابھار تھا، مرزا رفیق نے کہا، ”میاں جی آپ کو بھی گلٹی نکل آئی ہے“۔ پھر طاعون سے حکیم مرزا عبدالعزیز کی وفات ہو گئی۔

مرزا عبدالعزیز میرے دادا تھے اور مرزا رفیق میرے والد۔ سال تھا 1929 جب میرے والد کی عمر 18 یا 19 سال رہی ہوگی۔ ابھی ان کا میری ہونے والی ماں سے بیاہ نہیں ہوا تھا۔ یہ بات مجھے والدہ نے سنائی یا والد نے مجھے یاد نہیں۔ لگتا ہے جیسے ابا نے سنائی تھی مگر ایسا ممکن نہیں کیونکہ ابا گھر میں رہتے ہی کب تھے۔ کاروبار کے سلسلے میں باہر ہی ہوتے تھے۔ ایک دو روز کے لیے اگر آتے بھی تو ان کے پاس وقت کہاں ہوتا ہوگا جو یہ واقعہ سناتے چنانچہ اماں نے ہی سنائی ہوگی یہ کہانی۔

والدہ کی کہانیاں کئی کئی راتیں چلتی تھیں۔ واقعہ تو درست ہے، کہانی میں نے اس لیے کہا کہ دادا حکیم تھے تو انہیں اپنے بیٹے کو طاعون کی گلٹی تک پہنچنے نہیں دینا چاہیے تھا۔ ممکن ہے وہ ان دنوں کے اپنے علم کے مطابق سمجھتے ہوں کہ کپڑے تلے سے گلٹی چھونے سے کچھ نہیں ہوتا یا گلٹی بہت چھوٹی ہو، دادا کو خود بھی اس کا احساس نہ ہوا ہو۔

خیر یوں میرے دادا کا طاعون کی وبا پھیلنے کے دوران طاعون کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہوا تھا۔ ایک تو وبا کا قصہ اس حوالے سے سنا تھا۔ پھر بچپن میں ‌ خاص طور پر خربوزہ اور تربوز کھانے کے بعد ہمیں پانی پینا منع کیا جاتا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پوچھنا پڑتا، ”اماں پانی پی لوں“ جواب ملتا، ”نہیں ابھی نہیں“۔ کہیں بہت دیر بعد پانی پینے کی اجازت ملتی جب پانی پینے کی خواہش ہی باقی نہیں رہتی تھی۔ منع کی جانے والی چیز کے استعمال کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔

پانی اس لیے نہیں پینے دیتے تھے کہ کہیں ہیضہ نہ ہو جائے۔ گرمیوں میں سرکے میں بھگوئے ہوئے پیاز کھانے کے ساتھ کھلائے جاتے تاکہ آنتوں کی سوزش نہ ہو۔ کبھی کبھار سننے کو ملتا کہ نزدیک کے بڑے شہر ملتان یا مظفر گڑھ میں ہیضہ کی وبا پھیل گئی ہے۔ افواہیں سننے کو ملتی تھیں کہ ایک ایک محلے سے دس دس جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس وقت افواہ ہی ذریعہ ابلاغ ہوا کرتی تھی۔

بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ بازار سے کٹے ہوئے پھل خرید کر کھانے سے آنتوں کی سوزش اور ہیضہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان پر جراثیم ہوتے ہیں۔ ہمیں گھر میں دھو کر کاٹے گئے خربوزے کھا کے بھی پانی پینا شاید حفظ ماتقدم کے لیے منع ہوتا تھا۔ بعد میں میں ملتان سات سال رہا، ڈاکٹر بنا، ہسپتال سے واسطہ رہا، نہ وبا پھیلی نہ ہی شہر سے جنازے اٹھتے دیکھے۔

2003 میں سارس کی وبا کا سنا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق لاکھوں لوگ مرے تھے۔ پھر ایبولا کا سنا جو افریقی ملکوں تک محدود رہی اور ہزاروں لوگ مرے۔ 2018 میں مشرق وسطٰی میں MERS پھیلا ہوا تھا مگر میں چھوٹے بھائی اور اس کے کنبے کے ساتھ انہیں دنوں عمرہ کرنے سعودی عرب چلا گیا تھا۔ کوئی خوف خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔

چین کے صوبہ ہوبے کے صنعتی شہر ووہان میں پہلا مریض دسمبر 2019 میں سامنے آیا لیکن اس وائرس، جسے شروع میں کرونا کی نئی نوع کہا گیا، کی ہلاکت خیزی کا چرچا شروع ہو چکا تھا۔ 18 فروری 2020 کو لاہور میں بائیں بازو کے حلقوں نے مل کر اوپن ایرتھیٹر باغ جناح میں فیض میلہ کا اہتمام کیا تھا۔ جی میں آیا کہ جایا جائے۔ 16 کو ملتان پہنچا اور ویگن سے اتر کر رکشہ میں سوار ہو کر سٹی ہسپتال اپنے دوست ڈاکٹر اعجاز حسین کے پاس پہنچا جو وہاں ای این ٹی کنسلٹنٹ ہیں۔

جب تک بیٹھا رہا کرونا سے ڈرا رہا کیونکہ اعجاز مریض دیکھ رہے تھے اور میں سامنے کوئی تین فٹ کی دوری پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے خوف کا ذکر اعجاز سے کیا جو خود ماسک پہنے بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا کہ میں خود ڈرا بیٹھا ہوں۔ اسی لیے میں مریض سے پوچھتا ہوں کہ کہاں رہتے ہو کیونکہ ایک علاقے میں کرونا سے متاثر مریض سامنے آنے کی افواہ ہے۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ ماسک دوں لیکن میں نے نہ لیا۔

لاہور میں 20 فروری سے لاہور لٹریری فیسٹیول شروع ہو گیا۔ اس کے بعد ماسکو سے ایک دوست امتیاز چانڈیو لاہور پہنچ گئے۔ دبئی سے جواد چوہدری بہت پہلے سے آیا ہوا تھا۔ وہ ہے ہی لاہور کا۔ ادھر سے ہمارے ایک اور دوست حسین سومرو نے کسی کاروباری معاملے کے سلسلے میں امتیاز چانڈیو سے ملنے کا طے کر لیا۔ مجھے ملتان نہیں آنا تھا مگر مجھے ان دونوں کی معاونت کرنے کی خاطر 24 فروری کو ہی ملتان آنا پڑ گیا تھا۔ حسین لیٹ ہو گیا، کہیں جا کے 27 فروری کو ملتان میں ملاقات ہو سکی۔ میں اسی روز حسین کے ساتھ اس کی گاڑی میں علی پور پہنچ گیا۔ انہیں موٹر وے سے حیدرآباد جانا تھا اور اچ شریف انٹرچینج سے علی پور 22 کلومیٹر ہے چنانچہ حسین اور اس کا فرزند سارنگ مجھے چھوڑ گئے۔

میرا یہی خیال تھا کہ میں ہفتہ بھر علی پور میں گزار کر ہری پور چلا جاؤں گا کیونکہ مجھے اپنی خود نوشت کے دوسرے حصے کو چھاپہ خانے تک پہنچانے میں ناشر زاہد کاظمی کو انگیخت کرنا تھا۔ ہفتہ کی بجائے دس بارہ روز ہو گئے کہ عالمی تنظیم صحت نے کورونا وائرس سے وابستہ وبا کو COVID۔ 19 نام دے کر عالمی وبا قرار دے دیا۔ اس دوران چین میں اس وائرس کی وجہ سے ہونے والی مرض کے پھیلاؤ اور بہت زیادہ ہلاکتوں کی اطلاعات مل ہی رہی تھی۔

علی پور میں کچھ پیدل چلنے کی خاطر میں ہر روز یا یا ہر دوسرے روز اپنے ساتویں جماعت سے دوست غلام نبی خان لشاری کے پاس جاتا رہا۔ اس ذات شریف کا میری خود نوشت کے پہلے حصے پریشاں سا پریشاں میں نبّن کے نام سے خاصا ذکر ہے۔ لشاری صاحب کا بڑا بیٹا، سہیل ہر سال جب میں پاکستان آتا ہوں تو بیوی بچوں کے ساتھ مجھے ملنے بھی پہنچتا ہے اور اپنے گھر پہ دعوت بھی کرتا ہے۔ اس بار بھی جب میں نومبر میں آیا تو اس نے دعوت کی تھی اور میری فرمائش پر دو طرح کی مچھلی کھلائی تھی اور کہا تھا کہ آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار دعوت کرکے غائب ہو جاتا ہوں مگر اس بار طے کیا ہے کہ ہر ویک اینڈ پہ کوئی مختلف شے کھائیں گے۔

پھر ایسا ہوا کہ وہ اپنی کسی کاروباری الجھن میں پڑ گیا۔ 13 مارچ کو اس نے فون کیا اور ہنستے ہوئے معذرت کی اور یہ بھی کہا کہ کل شام دعوت ہے، مٹن ہوگا۔ میں 14 مارچ کو ملنے اس کے والد کے دفتر پہنچا، جہاں اب وہ کوئی کام نہیں کرتا مگر اپنی عادت کے مطابق نو بجے صبح پہنچ کر ایک بجے تک بیٹھا ٹی وی دیکھتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ اب کچھ وقت تنہا بھی رہنا چاہیے۔ میں پہنچا تو اس نے مصافحہ کرنے کو ہاتھ بڑھایا۔ میں نے سرائیکی روایت کے مطابق ہاتھ جوڑ دیے اور کہا کہ آج سے مصافحہ کرنا ترک۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ زندہ رہنے کا خواہشمند ہے، بولا کہ سہیل نے دعوت پہ بلایا ہے۔ میں آؤں گا تو سہی، تھوڑی دیر دور بیٹھ کے نکل جاؤں گا۔ کیا پتہ کس میں وائرس ہو۔

اس پہ میں نے کہا ہاں یار دعوت روک دینی چاہیے۔ اس نے تائید کی۔ میں نے سہیل کو فون کیا تو وہ بولا۔ انکل اب تو ساری تیاری ہو چکی، سامان خرید کے بھیج جا چکا، دعوت ملتوی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ جانا پڑا وہاں کوئی آٹھ نو افراد تھے۔ کسی نے کسی سے ہاتھ نہ ملایا۔ مجھے اچھا لگا کہ دیہات کے لوگوں میں بھی اب آگاہی ہے کیونکہ کسی کی بیٹی ڈاکٹر ہے تو کسی کا بیٹا ڈاکٹر۔ البتہ جب نکلنے لگے تو میں بھول کے سہیل کے کزن اعظم کے گلے لگ گیا جس کی بیٹی ڈاکٹر ہے۔ سہیل کے ماموں اعجاز نے جو اس ڈاکٹر بیٹی کا سسر ہے، یاد دلایا کہ ابھی تو کرونا پہ لیکچر دے رہے تھے اور اب گلے لگ رہے ہیں۔ اوہو ہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *