غریب کے لئے یہ تدابیر کارگر نہیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چونکہ میڈیا سے لے کر سرکاری محکوموں تک ہر جگہ متوسط یا صاحب ثروت لوگ بیٹھے ہیں اس لئے موجودہ وبا سے نمٹنے کی جتنی تدابیر بیان کی جارہی ہیں وہ انہی دو طبقات کے لئے ہی سود مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ غریب، محنت کش، مزودر، دیہاڈی دار، بے روزگار، نچلے ملازمین، بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والے، بے گھر، کم آمدنی والے، افراد باہم معذوری اور وہ تمام طبقات جو مل کر ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہیں مگر تمام تر بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ان کے لئے روزانہ صبح شام کورونا وائرس کی وبا ٕ سے بچنے کے لئے فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کی جانے والی تدابیر غیر ضروری، بے کار اور محض تماشا ہیں۔

جب ماہرین کی طرف سے فرمایا جاتا ہے کہ کورونا سے بچنے کے لئے روزانہ کئی دفعہ صابن سے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا لازمی ہے تو یہ متوسط، صاحب استطاعت اور امیر طبقہ کے لئے قابل عمل اور سود مند تدبیر لگتی ہے مگر اس ملک کی ایک بڑی آبادی وہ ہے جو مہینہ بھر مشکل سے صرف ایک دفعہ ایک سستاسا صابن خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ یہ غیر معیاری صابن غریب کے اہل خانہ کا مشترکہ اثاثہ ہوتا ہے جس کو چھوٹے بڑے سب مل کر سر سے پاٶں تک دھوتے ہیں۔ (اگر یقین نہیں آتا ہے تو دور دراز کے دیہاتوں اور کچی آبادیوں میں حفظان صحت پر سروے کرنے والوں سے معلوم کیا جاسکتا ہے ) ۔ ایسے میں ہر گھنٹے میں بیس سکینڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی تدبیر ان کے لئے مضحکہ خیز اور بھونڈے مذاق سے کم نہیں لگتی ہے۔

اسی طرح لاک ڈاؤن اور گھروں میں رہنا تنخواہ دار اور صاحب حیثیت لوگوں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے مگر مذکورہ غریب طبقات جن کے گھروں میں روٹی، چائے، دوائی یا دیگر ضروریات زندگی روز کی محنت سے حاصل کردہ محدود کمائی سے یا مانگ تانگ کر جمع کیے گئے پیسوں سے لائی جاتی ہے ان کے لئے بچوں کے سوکھے ہونٹوں اور تکتی نظروں کے سامنے گھروں میں رہنا قیامت سے کم نہیں اور جن کا گھر ہی نہیں ان کے لئے گھروں میں رہنے کی تلقین پاگل پن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

آپس میں ایک سے دو گز کا فاصلہ رکھنا اور سوشل ڈسٹنسنگ کی اصطلاح کچی آبادیوں، فلیٹس اور گنجان آباد آبادیوں میں رہنے والوں کے لئے ایک دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہے۔ کورونا کی علامات کی صورت میں بیمار کو آئسولیشن میں رکھنے کی تجویز پر ان لوگوں کو ہنسی بھی آتی ہوگی جو ایک ایک کمرے میں دس دس لوگ اکٹھے کھاتے، بیٹھتے، کپڑے بدلتے اورسوتے ہیں۔

ماسک نامی شے اس ملک کی نصف آبادی کے لئے ایک انوکھی اور عیاشی والی چیز ہے جو نہ اس آبادی کے لئے دستیاب ہے اور نہ ہی ان کی استطاعت میں ہے کہ وہ منہ پر رکھنے والی ایک چیز پیسے دے کر خرید سکیں البتہ اپنا رومال جو ہفتہ یا مہنہ میں ایک دفعہ دھویا جاسکتا ہے اس کو اپنے منہ اور چہرے پر باندھنے کی تجویز قابل عمل ہوسکتی ہے مگر اس آبادی کا نصف حصہ رومال کی سہولت سے بھی محروم ہے جو اپنے بازو اور بوقت ضرورت اپنے پھٹے دامن سے پسینہ اور ناک صاف کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے۔

سنیٹائزر کا نام سنتے ہی اس آبادی کے لوگوں کولگتا ہوگا کہ یہ تو ہے ہی امیروں کے لئے کیونکہ غریب اور محنت کش اپنے ہاتھوں کی حفاظت پر جب عام حالات میں ہی کچھ خرچ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو کہاں وہ ان مشکل حالات میں ایسی کوئی چیز خرید سکیں گے جس کی ان کی زندگی میں کبھی عمل دخل نہیں رہا ہے۔

گھروں میں باہر سے لائی گئی چیزوں کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں رکھنے کے بعد استعمال کی تجویز تو ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے گھروں میں اشیائے خوردو نوش کا ڈھیر لگا ہو۔ بھوک سے نڈھال غریب کے اہل وعیال صبح و شام باہر سے کسی چیز کے آنے کے انتظار میں دروازہ تکتے رہتے ہیں ایسے میں کوئی چیز باہر سے لاتے ہی اس کو حلق سے نیچے اتارے بغیر وہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ اس لئے یہ تدبیر کچی آبادیوں کے مکینوں کا تمسخر اڑانے کر مترادف ہے۔

راشن کی تقسیم کی خبرمعاشرے کی اس بڑی اور قابل ذکر آبادی کو ایسے بھی نہیں پہنچی ہوگی جو لاک ڈاٶن کے اصل متاثرین ہیں۔ کیونکہ جہاں ٹی وی، اخبار اور انٹر نیٹ ہی نہیں پہنچ پایا ہے وہاں یہ خبر جلدی کیسے پہنچ سکتی ہے؟ فرض کریں اگر کسی مہربانی نے وہ خبر پہنچا بھی دی ہے تو اس راشن کے حصول کا طریقہ کار کا سن کر غریب سمجھ جائے گا کہ یہ کام تو سفارش کے بغیر ممکن ہی نہیں جیسے آج سے پہلے ایسے کاموں میں ہوتا رہا ہے۔ جب راشن تقسیم کرنے والے لوگ اپنا اور اپنے عزیزو اقارب کا حصہ اٹھاتے ہیں اور بہت تھوڑا حصہ تصویر کشی کے لئے آس پاس کے کسی غریب کو تھام دیا جاتا ہے۔

رہی بات اس وبا سے بچنے کی تو وہ غریب کے لئے کوئی اہم نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ان کی موجودہ مشکلات کے مقابلے میں وبا کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ طبقہ قدرتی آفات، وباٶں، بیماریوں، حادثوں، زخموں، سیلابوں، بارشوں، ہواٶں، طوفانوں، جنگ و جدل اور ہنگاموں سے نہیں ڈرتا بس ڈرتا ہے تو بھوک، افلاس، معاشی تنگ دستی اور بد حالی سے ڈرتا ہے جو ان کے بچوں کی آنکھوں سے چھلک کرکچی دیواروں کے گھرکے ماحول کو پژمردہ کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے یہ طبقہ حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *