فوق البشر کی آمد اور نوع انسانی کا خاتمہ


( آرٹیفشل انٹیلی جنس کا تیز تر ارتقاءاور نوع انسانی کا مستقبل)
جارج لیکاف اور مارک جانسن نے اپنی کتاب: فلسفہ مجسم (Philosophy In The Flesh) میں فلسفے کی گزشتہ دو ہزار سالہ تاریخ میں ماورائے تجزیہ منطق ( a priori thinking) کے بت پر کاگنیٹو سائنس (cognitive science) کی مندرجہ ذیل دریافت حقیقتوں کا ہتھوڑا چلا کر فلسفیانہ سوچ کا راستہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیاہے۔

ان دریافتوں کے مطابق:
1) ذہن فطری طور پر مجسم ہے۔
2) خیال زیادہ تر لاشعوری ہوتا ہے۔
اور
3) مجرد خیالات زیادہ تر استعاراتی ہوتے ہیں۔

یعنی ذہن کے جسم سے الگ وجود کے مفروضے کا قضیہ بھی نمٹ گیاکہ جس کے بعد افلاطون کا عالم مثال ہو یا تصوف میں اس کا استعمال جو ابن العربی نے کیا، یا پھر ڈیکارٹ کی ذہن و جسم کی دوئی اور دروں بینی بطور ذہنِ انسانی سے متعلق جاننے کا واحد ذریعہ، ان کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی۔

نہ ہی کانٹ کے مردِ آزاد کی اب کوئی جگہ باقی بچی ہے جو مطلقًاآزاد ہو اورجسے ماورائی منطق، اخلاقیات کے ضمن میں، ٹھیک ٹھیک راہنمائی فراہم کر رہی ہو۔ کہ جسم کی پیداوار اور جسم پر منحصر منطق جسم سے ماورا ء ہونہیں سکتی۔

علاوہ ازیں، جسے کانٹ آفاقی منطق کہتا ہے اس کی آفاقیت نوع انسانی کی مخصوص جسمانی وذہنی ساخت، اور ان دونوں کے ماحول سے ربط و ضبط کے نتیجے میں ارتقاءپانے پر انحصار تک سمٹ آئی ہے۔ چونکہ تصوراتی نظاموں کے مابین بہت تفاوت پایا جاتا ہے لہذامنطق کو آفاقی کہنایوں بھی غلط ہوگا۔

نیز یہ کہ جسمانی ساخت کی بندش کے باعث ممکنہ انسانی تصوراتی نظام اور منطق کی صورتیں محدودد ہیں۔
الغرض افادیت پسندی، مظہریت، مابعدساختیات، فریگے کا فرد کہ جس کا جسم اس کی فکر میں کوئی کردار ادا نہیں کرتایا چومسکی کی نحوِ خالص، تمام ہی فکری نظاموں کی چولیں ہل کر رہ گئیں ہیں۔

مجرد خیالات کے اکثر استعاراتی ہونے کی طرف آتے ہیں۔ ہماری داخلی و موضوعی ذہنی زندگی کہ جس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور جس میں تخلیقات کی فراوانی رہتی ہے، کا انحصار ہمارے تجربات پر ہے۔ ہم کئی مجرد اشیاءسے متعلق حکم لگاتے ہیں مثئلًا اہمیت، مشابہت، کسی کام کا مشکل ہونا، اوراخلاقیات وغیرہ۔ نیز ہمارے موضوعی تجربات جیسے خواہش، محبت، قربت اور احساس حصول، یہ تمام خواہ بظاہر کتنے بھی پیچیدہ لگیں، ان سب کا تصورات میں ڈھلنا اور ان سے متعلق ہمارا تفکر و تدبر، تجربات کی دوسری اقالیم کی دین ہیں۔

یہ اقالیم اکثر و بیشتر حسی حرکی (Sensorimotor) ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہم کسی شعر کی آمد کا ذکر کرتے ہیں یا کسی بات کے اپنے سر کے اوپر سے گزر جانے کا اظہار کرتے ہیں تو ان تصورات کے پسِ پردہ کارفرما کاگنیٹیو میکانزم دراصل استعاراتی تصورات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ استعاراتی تصورات کا میکانزم ہی مادی اشیاءکی حرکیات کی منطق کے ذریعے ہمارے سمجھے کے عمل کی وضاحت کرتا ہے، مثلا ًشدت غم سے دل ڈوبنا، خوشی سے بادلوں میں اڑنا، قعرِ معزلت میں گرجانا وغیرہ ہمارے ڈوبنے، اڑنے اور گرنے کے جسمانی تجربات کے استعاراتی تصوراتی اظہارات ہیں۔

اس سب سے ایک اور بڑا نتیجہ جو لیکاف اور جانسن نے اخذ کیا وہ یہ ہے کہ حضرت آدم کے سوچنے اوراخذ کرنے کی صلاحیت ہو یا شعر و سخن کے معجزات یا پھر فلسفیانہ تفہیمِ اشیاء، سب کا دارو مدار اسی بنیادی ڈھانچے پر ہے کہ جو ہم میں اور دیگر حیوانات میں مشترک ہے۔ لہٰاذا ہم ان معنوں میں تو بالکل بھی ان سے اشرف نہیں۔

جس طرح حیوانات کی جیسی تیسی محودود سمجھنے کی صلاحیت، ان کے جسمانی و دماغی ڈھانچے اور ان کے اپنے ماحول سے تعلق کے نتیجہ میں تشکیل پائی ہے، بعینیہ انسان بھی اپنے جسمانی و دماغی ڈھانچے اور خارج سے اپنے تعلق کے نتیجہ میں یہاں تک پہنچا ہے۔ جس طرح موجودہ مخلوقات اپنے سے پہلے کی مخلوقات کے مقابل اپنے ماحول سے بہتر سازگاری کے نتیجے میں ابھی تک موجود ہیں، انسان نے بھی نیندرتھال کو اس مقابلے میں پیچھے چھوڑا ہے۔ اور اب یہی ارتقاءکا عمل انسان کے خاتمے کا گھنٹا بجاتا محسوس ہو رہا ہے۔

کاگنیٹو سائنس کی تیز تر ترقی اور نیورل نیٹ ورکس کی نت نئی دریافتوں نے اب انسان کو اس قابل بنا دیا ہے، کہ وہ اپنے محسوس کرنے، سمجھنے یہاں تک خود شعوری تک کے تجربے کوکمپیوٹر سٹم پر دہرانے کے قابل ہو چکا ہے۔ چنانچہ خودی، روح اور ارادے کی آزادی کے مفروضے کہ جس کے باعث قدیم انسان اپنے آپ کو حیوانات سے افضل سمجھتا تھا، اب ماضی کا کاٹھ کباڑ بن کر رہ گئے ہیں۔ اب اگرانسان اپنے آپ کو کچھ سمجھ سکتا ہے تو جینز، ہارمونز اور نیورونز کا مجموعہ کہ جو طبیعاتی و کیمیاوی قوانین کے پابند ہیں۔ حقیقتاً انسان ایک نسبتًا زیادہ ارتقا یافتہ حیوان (وہ بھی ہر شعبے میں نہیں ) ہے اور بس۔

گوکہ ابھی آرٹیفشل انٹیلی جنس کے شعبے میں کافی ترقی کی گنجائش موجودہ ہے تاہم ہے اس شعبے میں ترقی کی رفتار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جلد ہی آرٹیفشل انٹیلی جنس ارتقاءکی دوڑ میں انسان کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

ستمبر 2003 ء میں آکسفرڈ یونیورسٹی کے دو محققین کارل بینیڈکٹ فرے اور مائیکل اے اوسبرن نے اپنی تحقیق ”ملازمتوں کا مستقبل“ کے نام سے شائع کی، کہ جس میں انہوں نے کمپیوٹر الگورتھمز کے مختلف پیشوں کو پوری طرح سے انجام دینے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کے مطابق امریکہ میں 47 فی صد ملازمتیں شدیدخطرے میں ہیں۔ مثئلًا اس بات کا 99 فی صد امکان ہے کہ 2033 ءتک ٹیلی مارکیٹنگ اور انشورنس انڈر رائیٹنگ کے شعبے سے وابستہ انسان شاید اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

نیزاس بات کا 98 فی صد امکان ہے کہ ریفری، 97 فی صدامکان ہے کہ کیشئیر، 96 فی صدامکان ہے کہ شیف، 94 فی صدامکان ہے کہ بیرے، 91 فی صد امکان کے تحت ٹور گائیڈز، 89 فی صدامکان کے تحت بیکر، 89 فی صد امکان کے تحت بس ڈرائیور، 88 فی صدامکان کے تحت تعمیراتی کارکن، 86 فی صدامکان کے تحت جانوروں کے ڈاکٹروں کے اسسٹنٹ، 84 فی صدامکان کے ذیل میں سکیورٹی گارڈ، 83 فی صدامکان کے تحت ملاح، 77 فی صد امکان کے تحت بار ٹنڈرز، 72 فی صدامکان کے ذیل میں کارپینٹر اور 67 فی صدامکان کے تحت لائف تمام گارڈز اپنی ملازمتوں سے فارغ ہو چکے ہوں گے۔

اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ ڈنمارک میں 70 فی صد ادویات کی دکانوں میں آٹومیٹک ڈسپنسنگ ٹیکنالوجی یا روبوٹ کام کر رہے ہیں۔ باقی یورپ میں بھی مختلف تناسب میں فارمیسی میں روبوٹ کام کر رہے ہیں۔

یہ تو بات ہوئی مشینی نوعیت کے کاموں کی۔ جہاں تک معاملہ ہے فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف کا تو اس میں بھی ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز معجزات برپا کر رکھے ہیں، اور یہ طرہء امتیاز کے جس کے بل پرانسان ”مشینوں کی حکومت“ پر طنز کیا کرتا تھا، اب اس سے چھن رہا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسرڈیوڈ کوپ نے کمپیو ٹر پروگرامز لکھے ہیں جو مختلف اصنافِ موسیقی تخلیق کرتے ہیں مثئلاًسمفونی، آپرا، کانسرٹو وغیرہ۔ اسی سلسلے کا پہلا پروگرام ای ایم آئی (Experiments in Musical Intelligence) تھا کہ جسے جان سبیسٹیئن باخ کے طرز موسیقی کی کی تربیت دی گئی تھی۔

اس پروگرام نے مزید بہتری کے بعد، ایک ہی دن میں باخ کی طرز پے 5 ہزار نغمے ترتیب دیے۔ پروفیسر کوپ نے ان میں سے چندنغمے ایک موسیقی میلہ میں آئے سامعین کو سنوائے، کہ جن کی سامعین نے خوب داد دی، اور چند نے بڑے جذباتی انداز میں اس بات کا اظہاربھی کیا کہ کس طرح ان نغموں نے ان کے دل کی گہرائیوں کو چھو لیا۔ جب ان سامعین کو یہ بتایا گیا کہ یہ نغمے ایک کمپیوٹر پروگرام کا کارنامہ ہیں تو کچھ لوگ تو دم بخود رہ گئے اور کچھ غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔

اسی طرح 2011 ءمیں پروفیسر کوپ نے جاپانی طرز شاعری پر مبنی ایک کتاب شائع کی کہ جس میں 2 ہزار ہائکو نظمیں شامل تھیں۔ ان میں سے کچھ نظمیں اینی نامی کمپیوٹر پروگرام نے لکھیں تھیں اور باقی انسانوں نے۔ اس کتاب میں یہ بات افشاءنہیں کی گئی کہ کون سی نظم اینی نے لکھی اور کون سی ا نسان نے۔ اور کوئی یہ فرق نہیں بتا سکتا۔

حاصلِ کلام انسان جن نادیدہ، پراسرار خصوصیات کے باعث خود کو اشرف المخلوقات اور حاصلِ موجودات مانتا تھا، وہ سب اب روز روشن میں ہیں۔ اور آرٹیفشل انٹلی جنس انہی خصوصیات میں اب اسے شکست دے ہی ہے۔ انسان اگر کرونا جیسی متعدی بیماریوں سے بچ بھی گیا، تو ارتقاءکی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی لٹکتی تلوار کو کب تک ٹال سکے گا!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments