کرونا وائرس، ادارے اور حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس بنی نوع انسان کے لیے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی صحت بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قرنطیہ، سفر کی پابندیاں، اور سماجی۔ دوری کے اقدامات نے صارفین اور کاروباری اخراجات پر گہری ضرب لگائی ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا کو لاک ڈاون پر مجبور کر دیا ہے۔ جبکہ حکومتیں اس عالمگیر وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں، منافع بخش تنظیموں کی ذمہ داری ابھرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) سے مراد مخصوص تنظیمی اعمال اور پالیسیاں ہیں جو اسٹیک ہولڈرز کی توقعات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی کارکردگی کو بہتر بناتی ہیں۔ حکومت کو اس عالمگیر وبا کی روک تھام میں حصہ لینے کے لئے کاروباری برادری سے مدد مانگنی چاہیے۔ جیسا کہ ہندوستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلے اثرات سے نمٹنے کے لئے کیے گئے اقتصادی کارپوریٹ اخراجات CSR تصور ہوں گے۔

انڈیا کے وزیر مالیات نے کہا کہ یہ فنڈز صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دینے، جیسے کہ احتیاطی صحت کی دیکھ بھال اور صفائی اور آفت کے انتظام پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا کہ ”مالی پالیسی اکیلے تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی“۔ موجودہ صورت حال میں ہمیں انفرادیت پسند سوچ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان کی صحت دوسرے کی صحت سے مشروط ہے۔

ادارے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان حالات میں ان کی ذمہ داری بہت نا گزیر ہے۔ مارک ذکربرگ نے اعلان کیا ہے کہ فیس بک ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کو اپنی ویب سائٹ پر مفت اشتہارات پوسٹ کرنے کی اجازت دے گا۔ اسی طرح بل اور ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے وائرس کے خلاف جنگ میں عوامی صحت کی ایجنسیوں کی مدد کرنے کے لئے 5,000,000 ڈالر کا وعدہ کیا۔ کینجی سوکانو Fujifilm ہولڈنگ کے صدر نے چین میں ناول کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تقریباً 7,000,000 RMB کی مالیت کے سامان کے عطیہ کا اعلان کیا ہے۔

ادارے مختلف سرگرمیوں میں شامل ہو کے اپنی سماجی ذمہ داری کو پورا کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ وہ وفاقی اور مقامی قواعد و ضوابط کے ساتھ منسلک رہیں اور اپنے ملازمین کی حفاظت کریں۔ مثال کے طور پر LG نے صحت اور حفاظت کی بنیاد پر عالمی کانگریس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ادارے اپنے اپنے علاقوں میں جہاں وہ کام کر رہے ہیں وہاں سینٹائزرز اور فیس ماسک کی تقسیم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ ان کے گھروں میں راشن کی فراہمی کرنے سے اپنے ان ملازمین کی مدد کر سکتے ہیں جو فی الحال اس آفت کی وجہ سے کام پہ نہیں آ سکتے۔

بحریہ ٹاؤن کی طرح کی کمپنیاں جو وائرس سے پہلے غریبوں کے لئے مفت کھانے کی فراہمی کر رہے تھے، اب انہیں راشن فراہم کر سکتے ہیں۔ ادارے اپنے ملازمین کو ایڈوانس سیلریز بھی دے سکتی ہیں تاکہ وہ لوگ اس آفت میں ذہنی سکون سے رہ سکیں۔ انٹرنیٹ مہیا کرنے والے اداروں پہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سروسز کو بہترین بنانے کی کوشش کریں تا کہ وہ لوگ جو گھروں سے کام کر رہے ہیں بہتر طریقے سے اپنے فرائض کی ادائیگی کر سکیں۔ انٹرنیٹ تعلیم کے نیٹ ورک کو چلانے کے لیے اس وقت اساتذہ اور طالب علموں کے لیے ایک بنیا دی ضرورت ہے۔

اداروں کا ساتھ دینے کے لیے حکومت بھی تمام سماجی گروہوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے ٹیکس کو کم کر سکتی ہے۔ ہم سب کو بحیثیت ایک قوم حکومت اور دوسرے امدادی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے اس طویل تاریک رات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہونا چاہیے جس کا سامنا ہم سب کو در پیش ہے۔ خدا ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر البرٹ جان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *