شکار یا شکاری: فیصلہ ماں کا
پاکستانی معاشرے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے مظالم اور ریپ کو روکنے کے لئے، ہم جب پچھلے ایک دو سال میں ہونے والے واقعات پر غور کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شکار کی عمر، زندگی، لباس، جگہ، مذہب، وقت، گلیمر اور دیگر عوامل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شکاری کو جب ہوس ہو گی، وہ گھات لگائے گا اور شکار کر لے گا۔ عام طور پہ شکار ہمیشہ کمزور ہوتا ہے اور وہ مزاحمت کر لے تو بھی شکار بن جاتا ہے، بلکہ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ویسے ایسی زندگی کا کرنا بھی کیا ہے، جس میں اس واقعے کے بعد ہر مرد آپ کو تر نوالہ سمجھے اور ہر عورت بد کردار۔
مجھے لگتا ہے کہ شکار بننے سے بچنے کے طریقے سکھانے کے ساتھ ساتھ، ہمیں معاشرے میں بڑھتے ہوئے شکاریوں کی شرح میں بھی کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں بہت سے عناصر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جن میں والدین اور اساتذہ سب سے اہم ہیں۔ ان دونوں کرداروں کا بچوں کی تربیت میں اہم حصہ ہے۔ لیکن میری دانست میں اساتذہ سے بھی اہم کردار ماں باپ کا ہے۔ اور ماں باپ میں سے زیادہ اہم مجھے ماں کا کردار لگتا ہے۔
Read more
