شکار یا شکاری: فیصلہ ماں کا

پاکستانی معاشرے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے مظالم اور ریپ کو روکنے کے لئے، ہم جب پچھلے ایک دو سال میں ہونے والے واقعات پر غور کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شکار کی عمر، زندگی، لباس، جگہ، مذہب، وقت، گلیمر اور دیگر عوامل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شکاری کو جب ہوس ہو گی، وہ گھات لگائے گا اور شکار کر لے گا۔ عام طور پہ شکار ہمیشہ کمزور ہوتا ہے اور وہ مزاحمت کر لے تو بھی شکار بن جاتا ہے، بلکہ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ویسے ایسی زندگی کا کرنا بھی کیا ہے، جس میں اس واقعے کے بعد ہر مرد آپ کو تر نوالہ سمجھے اور ہر عورت بد کردار۔

مجھے لگتا ہے کہ شکار بننے سے بچنے کے طریقے سکھانے کے ساتھ ساتھ، ہمیں معاشرے میں بڑھتے ہوئے شکاریوں کی شرح میں بھی کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں بہت سے عناصر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جن میں والدین اور اساتذہ سب سے اہم ہیں۔ ان دونوں کرداروں کا بچوں کی تربیت میں اہم حصہ ہے۔ لیکن میری دانست میں اساتذہ سے بھی اہم کردار ماں باپ کا ہے۔ اور ماں باپ میں سے زیادہ اہم مجھے ماں کا کردار لگتا ہے۔

Read more

امریکی نسل پرستی اور پاکستانی انتہا پسندی

یہ بات ہے 1994 کی، جب امریکہ کے مشہور فٹ باؤلر او جے سمپسن کو اس کی سابق بیوی نکول براون اور اس کے دوست، رون گولڈ مین کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مقدمہ اپنی بین الاقو امی تشہیر کی وجہ سے یہ مقدمہ امریکہ میں ”صدی کے مقدمے“ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس مقدمے کے اہم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ سارے ثبوت سمپسن کے خلاف تھے اور پراسیکیوٹرز کو پورا

Read more

ارطغرل: غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم

آج کل پیارے پاکستان میں کرونا وبا کے ساتھ ایک اور ٹرینڈ جو بہت تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ وہ وزیر اعظم اور ان کے چہیتے وزیروں کی جانب سے پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی دل آزاری ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال نیشنل ٹیلی ویژن پر ایک غیر ملکی، غیر مستند بلکہ مسخ شدہ تاریخی ڈرامہ ارطغرل کی نمائش ہے۔ یہ ڈرامہ نہ صرف پاکستانی عوام کو تاریخی طور پہ گمراہ کر رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ پاکستانیوں میں انتہا پسندی کو عروج پہ لے کے جا نے میں اپنا اہم کردار نبھا رہا ہے۔

اس کا ایک اہم ثبوت سوشل میڈیا پہ وائرل ہونے والا ایک کلپ ہے جس میں ارطغرل سے متاثر ایک ایمانی مسلمان اپنے سامنے صلیب کے نشان والے لباس پہنے مسیحیوں کو گالی گلوچ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

Read more

کرونا وائرس، ادارے اور حکومت

کرونا وائرس بنی نوع انسان کے لیے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی صحت بلکہ عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر قرنطیہ، سفر کی پابندیاں، اور سماجی۔ دوری کے اقدامات نے صارفین اور کاروباری اخراجات پر گہری ضرب لگائی ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے دنیا کو لاک ڈاون پر مجبور کر دیا ہے۔ جبکہ حکومتیں اس عالمگیر وبا کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں،

Read more