گندم بحران: وزیرخوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دے دیا


وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے کے بعد وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صوبائی وزیرخوراک نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

استعفے میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ‘مجھ پر بے بنیاد الزام ہےکہ میں محکمے میں ریفارمز نہیں کرسکا لہٰذا جب تک الزامات کلیئر نہیں ہوتے حکومتی عہدہ نہیں لوں گا’۔ سمیع اللہ چوہدری نے مزید کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ایسی ہزاروں وزارتیں قربان کرنے کو تیار ہوں’۔ صوبائی وزیرخوراک نے لکھا کہ چند روزقبل محکمے میں اصلاحات نہ کرنے سے متعلق بے بنیاد الزامات لگائے گئے لہٰذا رضاکارانہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے استعفے میں مزید کہا کہ ہر فورم پر خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں۔

بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبائی وزیر خوراک کا استعفیٰ منظور کرلیا جبکہ کمشنر ڈیرہ غازی خان و سابقہ سیکرٹری خوراک نسیم صادق کی عہدے سے علیحدگی کی درخواست بھی قبول کرتے ہوئے انہیں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنادیا گیا۔ واضح رہے کہ نسیم صادق گندم بحران کے دنوں میں سیکرٹری خوراک تھے اور اس وقت کمشنر ڈیرہ غازی خان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی سابق ڈائریکٹر خوراک ظفر اقبال کو بھی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 4 اپریل کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے آٹا و چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔

Facebook Comments HS