ڈاکٹر کی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک کولیگ، الائیڈ میڈیسن میں کوئی ڈپلومہ کر کے، ایک نیک نام سرکاری کیرئیر گزار کر ریٹائرڈ ہو کر پرائیویٹ میڈیکل کالج میں آ گئے۔ جاب کے ساتھ شام میں اپنی سالوں سے قائم جی پی ٹائپ کلینک کرتے، 61 سال کی عمر میں اچانک بیمار ہوئے، پے در پے ٹیسٹ اور مسائل کے بعد رینل فیلیر، وینٹی لیٹر اور پھر خالق حقیقی سے جا ملے۔

بیشک موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو آنی ہے۔ ایک بیٹی میرڈ، بیٹا پرائیویٹ یونیورسٹی میں انجینرنگ اورچھوٹی بیٹی پرائیویٹ کالج میں میڈیکل اسٹوڈنٹ۔ ڈاکٹرزکا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آسودگی نہ ہونے، پوسٹ گریجویشن، جیسے مسائل کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر اور ریٹائرمنٹ کی عمر تک بچے تعلیم سے فارغ نہیں ہو پاتے۔

ڈاکٹر صاحب کی پینشن، پرائیویٹ جاب کی سیلری، کلینک، تقریباً تین لاکھ ماہانہ انکم والی فیملی اچانک آدھی پینشن یعنی پچاس ہزار مہینے پر آ گئے۔ اور دو بچوں کی پرائیویٹ تعلیم اور شادیاں باقی۔

بلا شبہ تعلیم یافتہ خواتین کا جاب نہ کرنا ہمارے معاشرے کا المیہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹیوں کو تعلیم دلواؤ تا کہ برے وقت میں کام آئے۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ تین چار بچوں کی مڈل ایج ماں ڈگری کو زنگ لگنے کے پندرہ بیس سال بعد برا وقت آنے پر کون سی قابلیت کی بنا پر نوکری کرے گی؟

یقیناً ہاؤس وائف عورتیں سب سے زیادہ سہل پسند اور کسی حد تک سیلفش ہوتی ہیں، گھر، بچے، خاندان، فیشن، اسٹائل، شوق، خواہشات، سوشل لائف ہر چیز کو انجوائے کرتی ہیں۔ اور اپنے مرد کو دن رات کفالت کی چکی میں پیستی ہیں۔ مرد کفالت کے ہاتھوں اتنا مجبور اور مصروف ہوتا ہے کہ نہ اپنے بچوں کا بچپن انجوائے کرتا ہے اور نہ خاندان اور دوستوں کی سوشل لائف۔

سب سے مظلوم طبقہ وہ ڈاکٹرز ہیں، جو لیڈی ڈاکٹرز سے شادیاں کرتے ہیں، اور ان کی بیویاں میڈیکل پروفیشن کو چھوڑ کر مکمل ہاؤس وائف ہوتی ہیں ( کسی بھی وجہ سے )۔ اگرایسے ڈاکٹرز مزید نہ پڑھیں تو گھر چلانے کے لئے کم از کم دو جابز کریں، یعنی بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کریں تو گزارہ ہو ( کہ پرائیویٹ میں میڈیکل افسر کی تنخواہ بہت زیادہ بھی ہو تو ساٹھ ہزار )۔

اگر پوسٹ گریجویشن کر لیں تو ریزیڈنسی میں ہر دوسرے دن 24 سے 30 گھنٹے ڈیوٹی، اور پاس ہونے کے بعد چھ گھنٹے مارننگ اور کم از کم پانچ گھنٹے شام کی کلینک، اگر سرجری، الائیڈ یا گائنی کا شعبہ ہو تو کوئی ٹائم کا حساب ہی نہیں۔

اپنی میرڈ لائف، بچے، خاندان، دوست، شوق کسی چیز کو نہ تو ٹائم دے پاتے ہیں اور نہ انجوائے کرتے ہیں کہ پڑھنے کی ٹینشن اپنی جگہ مگر بیوی بچوں کی جائز ضروریات اور لگژیرز کے لئے اکیلے ہی تین آدمیوں جتنا کام کرنا ہے، نتیجتاً آسودگی جمع کرتے ہوئے اپنی صحت برباد کر لیتے ہیں۔

اور اتنی سخت جان مشقت کے بعد 40 سال کی عمر میں ایک معقول گاڑی 50 سال کی عمر میں اپنی چھت، اور 55 سال کی عمر میں بچوں کی فیسیں پوری کرتے کرتے بے حال اور نڈھال ہوتے رہتے ہیں۔ نہ صرف میڈیکل مسائل بلکہ اسٹریس اور ٹینشن کی وجہ سے دماغی مسائل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔

اور اس سارے عرصے میں پڑھی لکھی اور لیڈی ڈاکٹر بیوی بھی ”آپ کے بچے سنبھال رہی ہوں“ کی عمدہ پر فارمنس دیتی رہتی ہیں۔

اور پھر اچانک وہ دن بھی آ جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور ہر وقت عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔ خدائے بزرگ و بر تر سب کو ناگہانیوں سے محفوظ رکھے، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اچانک کی موت صرف دوسروں کے لئے نہیں ہوتی۔ کبھی بھی کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو کر آناً فاناً، یا ہنستے کھیلتے گھر سے نکلے اور کسی نامعلوم گاڑی کسی انجانی گولی، کسی ناگہانی حادثے کا شکار، اور پھر بچے چچا، ماموں، نانا کے محتاج۔

پڑھی لکھی سب لڑکیو، سمجھدار ڈاکٹرز۔ خدارا ذمہ داریاں بانٹنی سیکھیں۔ اگر آسودگی چاہیے تو اپنے مرد کا ساتھ دیں تاکہ اسے بھی کچھ ذہنی جسمانی سکون مل سکے، اور وہ بھی زندگی کو زندوں کی طرح گزار سکے۔

یہ بات سمجھ لیں کہ وہ جو اسلامی ریاست یتیم اور بیوہ کی کفالت کی ذمہ دار تھی، اسے کرپٹ حکمران اور معاشرہ کھا گیا ہے۔ آج ریاست بیوہ کو چادر بھی نہیں دے سکتی، چار دیواری تو بہت دور کی بات ہے۔ اپنے خاوند اور بچوں کے سکون اور تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

سلام ان تمام تعلیم یافتہ نوکری پیشہ خواتین کو اور اسپیشلی ڈاکٹرز کو، جو اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ جاب کرتی ہیں اور اپنے گھر، بچوں، خاوند کے لئے ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لئے بھی فعال شہری ثابت ہوتی ہیں۔
اللہ پاک ہر گھر کی خوشیاں سلامت رکھیں۔ آمین ثم آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *