کرونا کے بعد کیا ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ پوری دنیا اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔ شہر شہر، نگر نگر، قریہ قریہ امیر جان صبوری کے فارسی کلام ”شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی“ کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا لیکن اس دوران ہمارے راہنماؤں کے فیصلے، ان کی ترجیحات آنے والے وقت کا تعین کریں گی۔

وبا کی سب سے بڑی خاصیت اور مثبت پہلو یہ ہے کہ کئی فیصلے جو کہ عالمی رہنما لینے سے کتراتے ہیں یا نہیں لینا چاہتے اس موسم میں آناً فاناً ہو جاتے ہیں یا لے لیے جاتے ہیں۔ اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں متاثرہ افراد کہ تعداد تقریباً سوا بارہ لاکھ اور اموات کے تعداد اسی ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہ وبا پوری دنیا میں اپنے اوج پر ہے۔ اس دوران کئی فیصلے لئے جا چکے ہیں۔ ان فیصلوں یا مستقبل میں اس طرز کے ممکنہ فیصلوں سے کس قسم کے حالات پیدا ہوں گے۔ ممکنہ طور پر کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہیں یا دنیا کا رخ ان کی طرف مڑ سکتا ہے۔

1) مکمل حکومتی نگرانی یا حقیقی عوامی طاقت کا ظہور
2) قومی علیحدگی یا بین الاقوامی یکجہتی کے امکانات
3) موسمیاتی تبدیلی کی طرف توجہ
( 1 ) پہلی صورت کا پہلا حصہ انتہائی خطرناک اور اپنے آپ کو بنیادی انسانی و شہری آزادی سے محروم کرنے کا ہے۔ وبا کے دنوں میں یا کسی بھی برے وقت میں حکومتوں کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ شہریوں کی زیادہ سے زیادہ سے معلومات اکٹھی کریں۔ مثال کے طور پر چائنہ اپنے شہریوں میں سے متاثرہ لوگوں کا سراغ لگانے کے لیے پورے ملک میں فیس ریکگنیشن کیمرے نصب کرچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے پاس تمام شہریوں کا ڈیٹا موجود ہے جسے مستقبل میں حکومت کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

یہ نارمل حالات نہیں ہیں تو ایسے میں حکومتیں کسی بھی مسئلے کی سنگینی کو بڑھا چڑھا کر عوام سے معلومات اکٹھی کر لیتی ہیں۔ عوام کو یہ کہا جاتا ہے کہ وبا کی ممکنہ طور پر دوسری لہر بھی آ سکتی ہے جس سے بچنے کے لیے حکومت پر اعتماد کرکے ڈیٹا فراہم کریں، بدقسمتی سے اس دوران کسی کی موت ہونٹا وائرس یا اس قسم کے نئے وائرس سے ہو جائے تو حکومت کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں کورونا کے مریضوں کی شناخت کے لیے تمام شہریوں کو بائیومیٹرک بریسلیٹ پہننے کا کہا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف مریض کا پتہ لگایا جا سکے گا بلکہ ہر شہری کی دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت کی اطلاعات حکومت تک پہنچتی رہیں گی۔ مریضوں کا سراغ ٹیکنالوجی کے ذریعے لگانا ایک احسن اقدام ہے لیکن جب حکومت کو آپ کا اتنا زیادہ ڈیٹا مل جائے تو اس کا مطلب ہے آپ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ پہ اختیار کھوتے جا رہے ہیں اور حکومت کے پاس آپ کا بنیادی شہری و انسانی اختیار جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ جیو یا اے۔ آر۔ وائی میں سے کوئی ایک چینل تواتر سے دیکھتے ہیں تو حکومت آپ کے سیاسی نظریات کو آسانی سے جانچ سکتی ہے یا آپ پاک انڈیا میچ میں انڈیا کو سپورٹ کر رہے ہیں تو حکومت کی طرف سے آپ کو غداری کا سرٹیفیکیٹ تھمایا جاسکتا ہے۔ یہ سب آپ کے ایک بریسلیٹ پہننے سے ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ وبا یا بحرانوں کے دنوں میں ڈیٹا فراہم کرنے انکار کرتے ہیں تو حکومت آپ سے یہ کہہ سکتی ہے کہ زندگی یا معلومات کے اخفا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرو، حالانکہ حکومت کی طرف سے یہ پوچھنا ہی غلط ہے کیونکہ ہر شخص کی زندگی کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور شہریوں کے ذاتی معلومات اپنے تئیں رکھنا ان کا حق ہے۔

حکومتیں اگر اسی طرح کا کچھ کر رہی ہیں یا جن جن ملکوں میں ایسے ہوچکا ہے وہاں حکومتیں بڑی آسانی سے ٹوٹیلیٹیرین سرویلینس یا مکمل عوامی نگرانی کر سکیں گی اور عوام ڈھیر سارا ذاتی اختیار کھو چکے ہوں گے۔ عوامی طاقت کا ظہور انسانوں پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے سے ہوگا۔ وبا کے دنوں میں شہریوں کو با اختیار بنانے کے لیے بہتر اور صحیح رپورٹنگ، زیادہ سے زیادہ ٹیسٹس اور عام عوام تک وائرس کی سائنسی حقیقتیں پہنچانا ہوں گی۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور سنگاپور نے ایسا کرکے نہ صرف وبا کو کنٹرول کیا ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک بہت بہتر مثال بھی رکھی ہے۔ ایک سمجھدار، باعلم اور آگاہ قوم مرغا بننے، لاٹھیاں کھانے اور مذہبی درندوں کے ہاتھوں پامال ہونے والی قوم سے کئی گنا بہتر ہے۔

حکومتوں کو شہریوں تک تمام سائنسی معلومات پہنچانا ہوں گی لیکن ایسا کرنے کے لیے سیاستدانوں کو عوام پہ اعتماد کرنا ہوگا اور عوامی اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا۔ عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے آزادئی اظہار، انصاف کی بروقت فراہمی اور غیرجانبدار میڈیا کا ہونا ناگزیر ہے۔

وبا کے دوران لیے گئے فیصلے اس چیز کا تعین کریں گے کہ حکومتیں شہریوں کو با اختیار بنانا چاہتی ہیں یا انہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے قابو میں رکھنا چاہتی ہیں۔

( 2 ) دوسری صورت کا پہلا حصہ ہمارے حال یا ماضی قریب کے لیے گئے فیصلوں یا سیاست کا آئینہ دار ہے۔ اس وقت بدقسمتی سے دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان عوامی مقبولیت، قوم پرستی یا مذہبی انتہا پسندی کے نعروں کے وجہ سے ایوانوں میں ہیں۔ 2008 کے مالی بحران یا 2014 کے ایبولا کے وبا کے دوران امریکہ نے دنیا کی راہنمائی کی لیکن اب حال یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کرونا کے مریضوں کے لیے نہ تو وینٹی لیٹر ہیں اور نہ ہی باقی بنیادی سہولیات کی مطلوبہ تعداد۔ اس کی صحت کا نظام بیٹھ چکا ہے اور چائنہ سے دوگنا اموات امریکہ میں ہو چکی ہیں کیونکہ اوول آفس میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو کہ امریکہ فرسٹ کا ڈھونگ رچا کر صدر بنا ہے اور گلوبلائزیشن کا سخت مخالف ہے۔ امریکن صدر بزنس مین ہے جس نے صرف 2018 میں 56 بلین ڈالر کا اسلحہ بیچا۔ ٹرمپ نے وائرس کے بارے میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز بیانات دیے لیکن اس وقت امریکن نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سہولیات کے فقدان کا رونا رو رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کرونا کو نہ نظر آنے والا دشمن قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ ہم جیت جائیں گے۔ جنگوں میں تو دشمن نظر آتا ہے یہ وبائیں جنگیں نہیں ہوتیں۔ وبائیں تو آپ کا کچا چٹھا، آپ کی سیاسی ترجیحات و عزائم کا بانڈہ پھوڑتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ امریکہ کسی کے ساتھ جنگ کرے تو اسلحہ ختم نہ ہو لیکن ایک چھوٹے سے وائرس نے اس کے صحت کے قلعی کھول کے رکھ دی۔ کارپوریٹ سیکٹر عوامی فلاح کے لیے خرچ کرنے کی بجائے ہمیشہ اپنے کاروبار کا سوچتا ہے، امریکہ میں اس کی جڑیں نہایت ہی مضبوط ہیں اور ممکن ہے کہ امریکہ ٹرمپ کو دوبارہ منتخب کر لے۔ مذہبی انتہاپسندی اور خوف پھیلا کر مودی دوبارہ منتخب ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی اس کا یہی منشور ہو سکتا ہے۔ بھارت میں تو وائرس کو بھی مسلمانوں کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے کہ مسلمان ایک نئی قسم کا جہاد لے کر آئے ہیں۔

ہمارے خان صاحب بھی عوامی مقبولیت سے وزیراعظم بنے لیکن وبا نے ان کی حکومتی تیاریوں کا پردہ چاک کردیا۔ پی ٹی آئی کی مہینوں پہلے کے تیاریاں بالکل سامنے آرہی ہیں۔ 2021 میں چاند پر خلائی مشن بھیجنے والے فواد چوہدری کی وزارت کی کارکردگی بری طرح فلاپ ہو چکی ہے۔ ملک میں اس وقت متاثرہ مریضوں کی صحیح تعداد کا کسی کو پتہ ہی نہیں۔ ٹیسٹس کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

اس وبا نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھے اٹلی، ایران، سپین اور برطانیہ کی حکومتوں کی اصلیت دنیا کو دکھا دی۔ 2007 میں کینیڈین مصنفہ نوومی کلین نے دنیا کو ”دی شاک ڈاکٹرائن“ نامی ایک سیاسی نظریہ دیا۔ ان کے مطابق تباہی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تباہی جو زلزلہ، طوفان، فوجی تنازعات یا معاشی کساد بازاری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دوسرے قسم کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب برے لوگ سیاست میں عوام کو لوٹنے کے مقاصد لے کر آئیں اور جائیدادیں محفوظ رکھنے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنے لگیں، عوام اس دوران خاموش تماشائی بنے رہیں۔ نوومی کے مطابق دوسری قسم کے لوگ کبھی کبھار تباہی کی پہلی قسم خود بناتے ہیں تاکہ عوام سے زیادہ سے زیادہ لوٹ کھسوٹ ممکن ہو سکے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ تقریباً دنیا بھر کے ایوانوں میں اس قسم کے لوگ اب بھی موجود ہیں اور کرونا کے بعد شاید ان کی آوازوں کو تقویت ملے اور وہ قوم پرستی کا کارڈ کھیلیں۔

وبا کے بارے میں عالمی یکجہتی دکھانے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کو آپس میں معلومات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ وائرس کا نہ کوئی ملک ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مذہب۔ دنیا میں اتنا اسلحہ پھیل چکا ہے کہ دنیا ایک چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ دنیا کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ اس وائرس نے یہ بتا دیا کہ صحت اور تعلیم پہ جتنا خرچ ہونا چاہیے اتنا نہیں ہوا۔ ہم بحرانوں کو کبھی خوش آمدید نہیں کہہ سکتے لیکن اس دوران لیے گئے فیصلوں کا عملی اور نفسیاتی جائزہ ضرور لے سکتے ہیں۔ انسانوں پر خرچ کرنا ہی ثابت کرے گا کہ وبا کے بعد اس بحران سے ہمارے سربراہانِ مملکت کچھ سیکھ پائے ہیں یا نہیں۔

( 3 ) وبا کے بعد ممکن ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدہ لے۔ اس تبدیلی کے اثرات اتنے بھیانک ہوسکتے ہیں کہ دنیا شاید کرونا کو بھول جائے۔ ٹرمپ نے اس مسئلے کو ہمیشہ غیر سنجیدہ لیا ہے۔ کرونا کے باعث سوشل ڈسٹنسنگ سے فضا میں پھیلتی آلودگی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان مارشل بر کے کے مطابق صرف مارچ کے آغاز میں چائنا کے چار شہروں میں PM 2.5 (یہ گندگی کا وہ جز ہے جو کہ دل اور پیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے ) میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی وجہ سے چائنہ کے تقریباً 1400 بچوں (پانچ سال سے کم) اور 51,700 بزرگوں (ستر سال سے بڑے ) کی زندگیاں محفوظ ہوئی ہیں۔ وبا کی بعد گریٹا تھنبرگ، ژیا بسٹڈ، آٹم پلیٹر، نوومی کلین اور ٹم کرسٹروفر کی موسمیاتی تبدیلی کے بارے فعالیت صد فیصد ممکن ہے۔

دنیا نے کئی بحرانوں کو دیکھا۔ 1918 کی عالمی وبا، دو عالمی جنگیں، 2008 کا مالی بحران اور 2014 میں ایبولا وائرس سے لاکھوں لوگ جان سے گئے۔ لیکن وقت کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ بدلتا ہے۔ ہم کرونا سے بھی سرخرو ہو کر نکل آئیں گے۔ درج بالا واقعات کی طرح یہ وبا بھی تاریخ کا رخ پلٹے گی، اس سے امیر اور غریب دونوں کو خطرہ ہے۔ بڑے بڑے نام بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اور کئی لوگ تاریک راہوں میں بھی مر رہے ہیں۔ لیکن اس وائرس نے پھر سے ہمیں یاد دلایا کہ کسی دفتر میں بیٹھ کر جنگوں کے فیصلے کرنا، دنیا کو نفرتوں، ظلم و تصصب اور دہشت گردی کا گڑھ بنا کر منہ پر ماسک لگا دینے سے دنیا اس کے غضب سے نہیں بچ سکتی۔

دنیا کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لے جانے والوں کو محمد حنیف کے ایک ناول کے کردار مَٹ ( یہ اس ناول میں کتے کا نام ہے ) کا یہ پیغام دے کر اجازت چاہوں گا۔

”کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ انسان گھروں میں رہ کر دنیا میرے حوالے کردیں کیونکہ میں ان سے بہتر سمجھتا ہوں۔ میں انسانوں کو کبھی کبھی باہر کا چکر بھی لگواتا رہوN گا اور ان کو رسی یا پٹہ نہیں ڈالوNگا۔ میں ان کو اپنے پاس گھومنے کی اجازت دوں گا، جب یہ آپس میں لڑیں گے تو میں اونچی آواز میں بھونک کر ان کو روک لوں گا۔ لیکن میرے پاس انسانوں کی خواہشات کا علاج نہیں۔ ان کی خواہشات نہ صرف پیچیدہ ہیں بلکہ ان کی افزائش بھی حیران کن حد تک تیز ہے۔ ان کی خواہشات اِن کو اُن جنگوں کی طرف لے جاتی ہیں جو یہ جیت نہیں سکتے“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *