سیٹھ کی تجوری کبھی نہیں بھرتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساری عمر لکھنے، پڑھنے اور بولنے کے باوجود اردو میری ابھی تک تھوڑی کمزور ہے۔ میں کچھ عرصے پہلے تک مخیّر حضرات کو مخِیر حضرات پڑھتا اور بولتا آیا اور یہ سمجھتا رہا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو لینڈ کروزروں میں گھومتے ہیں۔ پھر ایک بزرگ نے درستگی کی اور انہوں نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خیرات دیتے ہیں۔

لیکن جب سے ملک میں کرونا شروع ہوا ہے، تو پتہ چلا ہے کہ یہ مخیر حضرات خیرات دینے والے نہیں خیرات لینے والے ہیں۔ عام طور پر ہم جن کو بھکاری کہتے ہیں، ان میں اتنی اہلیت بھی نہیں ہوتی کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا جرم، کوئی چوری چکاری کر سکیں۔ لیکن ہمارے مخیر حضرات ایک ہاتھ سے چوری کرتے ہیں اور دوسرا ہاتھ خیرات کے لے پھیلا دیتے ہیں۔

پچھلے ہفتے ایک تقریب میں وزیراعظم پاکستان نے ملک کے سب سے بڑے سیٹھوں میں ایک سو ارب روپے کے چیک بانٹے۔ یقیناً سیٹھوں کی بڑی خدمات ہیں۔ اس میں ایکسپورٹ سبسڈیز شامل ہوں گی، ٹیکس ریفنڈ وغیرہ ہوں گے، لیکن کسی ایک سیٹھ نے اٹھ کر یہ نہیں کہا کہ خان صاحب ابھی قوم پر برا وقت ہے، یہ پیسہ آپ پر ادھار رہا، سب کے چہرے پر یہی تاثر تھا کہ ساڈا حق ایتھے رکھ۔

پھر حکومت نے کرونا کی وجہ سے بیروزگاری سے نمٹنے کے لیے ایک سکیم کا اعلان کیا۔ یہ بھی بڑے اور درمیانے درجے کے سیٹھوں کو خیرات بانٹنے کا ہی ایک ذریعہ ہے۔ پلاٹ خریدو، پلاٹ بیچو کوئی نہیں پوچھے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا، نوے فیصد تک ٹیکس جو ہے اپنی جیب میں ڈالو۔

ظاہر ہے کہ سیٹھ کی تجوری بھرے گی تو پھر ہی وہ کسی مزدور مستری کو دیہاڑی دے گا، لیکن سیٹھ کی تجوری کبھی نہیں بھرتی۔ کیا آپ کے خیال میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور مونس الہی چوہدری کے بچے گھر میں بھوکے رو رہے تھے؟

ابھی بھی چینی اور آٹا سکینڈل کی رپورٹ آئی ہے۔ جو ہمارا فوڈ سیکیورٹی کا ذمہ دار ہے وہ بھی ملوث ہے۔ چوکیدار خود ہی چور ہے۔ اور دلیلیں بھی ایسی کہ ہمارے گودام بھرے ہوئے تھے تو ہم نے حکومت سے کہا کہ ہم یہ ایکسپورٹ کر لیتے ہیں، اور چونکہ ایکسپورٹ کرنا ایک قومی خدمت ہے تو اس قومی خدمت کا صلہ ظاہر ہے کہ ملے گا ہی۔

اب ایکسپورٹ کرنے کی وجہ سے ہمارے گوداموں میں چینی کم ہو گئی، تو قیمتیں بڑھ گئیں تو اس میں بھی اللہ نے تھوڑی سی برکت ڈال دی۔

کچھ معصوم لوگ کہتے ہیں کہ خان صاحب ان سیٹھوں کے جہازوں اور جیپوں پر بیٹھ کر ہی اقتدار تک پہنچے ہیں، انہیں پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ سیٹھ کس طرح کے لوگ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ خان صاحب معصوم آدمی ہیں، ان کی اردو بھی میرے جیسی ہے، وہ بھی باقی قوم کی طرح ان سیٹھوں کو مخیر حضرات سمجھتے رہے ہوں گے۔

میں ایک سیٹھ کو جانتا تھا۔ اس کے پاس دو لینڈ کروزریں تھیں۔ لیکن اس کا ڈرائیور اگر کھانے کے لیے دو کے بعد تیسری روٹی مانگتا تھا تو سیٹھ کہتا تھا کہ جاؤ اپنی جیب سے خرید کر کھاؤ۔

تو مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کے سیٹھ دوست نا تو ان کی روٹیاں گنتے ہوں گے، اور نا کبھی انہوں نے یہ کہا ہو گا کہ خان صاحب جہاز تو آپ ضرور لے جائیں لیکن پٹرول اپنا خود ڈلوائیں۔

جب دھندے بند ہوتے ہیں تو کئی محنت کش اور سفید پوش لوگ بھی خیرات لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی انہیں راشن کا تھیلا دے کر ان کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں، اور کبھی کبھِی ان کو پیشہ ور بھکاری کہہ کر دھتکار دیتے ہیں۔ لیکن ذرا غور سے دیکھیں۔ دھندے بند ہیں، سڑکیں سنسان ہیں لیکن ہر ٹریفک سگنل پر کوئی ملک، کوئی ترین کوئی چودھری ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہے اور گا رہا ہے کہ دے جا سخیا راہ خدا تیرا اللہ بوٹا لائے گا۔

خان صاحب کو چاہیے کہ وہ ان سیٹھ بھکاریوں کو تسلی دیں کہ قوم ستر سال سے آپ کو خیرات دیتی رہی ہے، آئندہ بھی دے گی لیکن آج معاف کرو۔

بی بی سی پر محمد حنیف کا ویڈیو بلاگ
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52201308

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *