ایف آئی اے کی جانب سے جہانگیر ترین کی شوگر ملوں پر چھاپے


ایف آئی اے کی جانب سے جہانگیر ترین کی شوگر ملوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ حساس ادارے کی ٹیمیں 20 مارچ سے جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود ہیں۔ اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے جہانگیر ترین کی شوگر ملوں اور دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکار 20 مارچ سے جہانگیر ترین کے دفاتر میں موجود ہیں۔ اس دوران جہانگیر ترین کے ملازمین کو لاک ڈاون میں بھی گھروں سے بلا کر تحقیقات کی گئیں۔ حساس ادارے کی ٹیموں نے اہم ریکارڈ اپنے قبضے میں بھی لیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس تمام صورت حال میں جہانگیر ترین نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ ایف آئی اے کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔ اس تمام معاملے میں وہ بے قصور ہیں، اس لیے ایف آئی اے کو ان سے جس بھی تعاون کی ضرورت ہوگی، وہ کیا جائے گا۔

موجودہ تمام صورتحال کے حوالے سے جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ چینی بحران کی رپورٹ کے پیچھے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا ہاتھ ہے۔ اعظم خان مسلسل وزیراعظم عمران خان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وزیراعظم سے مسلسل رابطے میں ہوں، ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے بنیادی سوالات کے جوابات نہیں دیے۔

گنے کی سپورٹ پرائس بڑھنے سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ 180روپے سپورٹ پرائس سے ایکس ملز ریٹ 65 روپے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اس صورت غلط ہوتا جب سٹاک نہ ہوتا۔ نومبر 2019ء میں چار لاکھ 57 ہزار ٹن چینی سرپلس تھی۔ سبسڈی کی رقم کسی کی جیب میں نہیں جاتی۔ چینی کی ایکسپورٹ بڑھنے سے ملکی برآمدات کو فائدہ ہوا۔ تین ارب کی سبسڈی سے ملک میں 30 ارب کا فائدہ ہوا۔ یوٹیلٹی اسٹورز کو 20 ہزار ٹن چینی 67 روپے میں فروخت کی۔ 67  روپے فی کلو چینی دے کر عوام کو 25 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا۔ 67 روپے فی کلو چینی نہ دیتا تو یہ رقم 25 کروڑ روپے کورونا فنڈ میں جمع کروا دیتا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو چینی مہنگی کرنے کی دھمکی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ ہمارا گروپ کمیشن اور تحقیقاتی کمیٹی سے تعاون کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS