عمران خان سے پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے، رپورٹ میری ذات پر حملہ ہے: جہانگیرترین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیرترین نے کہا ہے کہ عمران خان سےجیسے تعلقات پہلے تھے ویسے اب نہیں ہیں۔  انہوں نے ایف آئی اے کی رپورٹ کو اپنی ذات پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اعظم خان کےساتھ بھی 6 ماہ سے میرے تعلقات اچھے نہیں۔ میں نے وزیراعظم سے کہا تھا کہ بیورکریسی کے چکرسے نکلنا ہو گا۔ وزیراعظم نے میری بات سے اتفاق کیا اور اعظم خان کو بلایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم خان نے کہا کہ حکومت تو ہم چلاتے ہیں۔ اعظم خان نے کہا کہ یہ رولزآف بزنس کے خلاف ہے۔ یہ بحث 20 سے 25 دن ہوتی رہی لیکن اعظم خان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

جہانگیرترین نے کہا کہ عثمان بزدار کو جب وزیراعلیٰ بنایا گیا تو ان کی مدد کرنا میرا فرض تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی اےکے پاس ہمارے بندے نہیں ہیں اور نہ ہی ایف آئی نےکوئی چیز قبضے میں لی ہے۔ ایف آئی اے نے جو چیزیں مانگیں وہ انہیں دے دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے نے ہمارے سرور سے ڈیٹا مانگا وہ انہیں دے دیا، ہمارے بندے ایف آئی اے کے پاس بیان ریکارڈ کرانے گئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب کےساتھ تعلقات انیس بیس ہوئے ہیں تو واپس بیس ہو جائیں گے۔ اسد عمر کی وزارت میری وجہ سے نہیں گئی، وزیراعظم جو فیصلہ کرنا چاہ رہے تھے، وہ اسد عمر نہیں کر رہے تھے۔ کابینہ میں تبدیلی وزیراعظم کی صوابدید ہے، تحریک انصاف کا حصہ تھا اور رہوں گا۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ حتمی رپورٹ 25 اپریل کو آنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کے حوالے سےمجھے کچھ معلوم نہیں، گندم کا اسٹاک اب بھی موجود ہے، گندم کا بحران سندھ حکومت کی بدانتظامی کا نتیجہ تھا۔ رہنما پی ٹی آئی جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ کسی کوکوئی دھمکی نہیں دی ہے۔ جہانگیر ترین نے وضاحت میں کہا ہے کہ میں کبھی ٹاسک فورس زراعت کا چیئرمین نہیں رہا، اگر کسی کے پاس نوٹیفکیشن ہے تو دکھا دے، ایسی خبریں بےبنیاد ہیں۔

انہوں نے اپنے وضاحتی ردعمل میں کہا کہ خبریں چل رہی ہیں کہ مجھے چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت کےعہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ میں کبھی چیئرمین ٹاسک فورس برائے زراعت نہیں رہا۔ کیا کوئی نوٹیفکیشن دکھا سکتا ہے؟ اسی طرح جہیانگیر ترین نے چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کو بھی سیاسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چینی بحران کی رپورٹ کے پیچھے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا ہاتھ ہے۔ اعظم خان مسلسل وزیراعظم عمران خان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *