اسٹوڈیو مورا کے چھ گھنٹے اور کرونا وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارینا ابروموک بڑی مشہور آرٹسٹ ہے، پرفارمنگ آرٹ کی دنیا میں قد آور حثیت کی حامل ہے، سربیا میں آج سے تقریبا سات دہائی قبل پیدا ہونے والی پرفارمنگ آرٹ کی اس دادی ماں نے انسانوں اور نام نہاد انسانیت کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر ایسے پھوڑی کہ انسانیت آج بھی مارینا ابروموک سے منہ چھپایے شرمندہ کھڑی ہے۔ اس کے لیے اسے نہ ہی کوئی تحریک چلانے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کسی لمبی چوڑی ریسرچ کی، اس نے صرف اپنی زندگی سے چھ گھنٹے نکال دیے، وہ چھ گھنٹوں کے لیے مر گئی، اور خوشنما لبادوں والی انسانیت کو ہمیشہ کے لیے ننگا کر گئی۔

1974 میں مارینا ابروموک نے تاریخ ساز پرفارمنس دینے کا فیصلہ کیا، نیپلز کے سٹوڈیو مورا میں اس پرفارمنس کا بندوبست کیا گیا، اس نے اسٹوڈیو میں موجود آڈئینس کو چھ گھنٹوں کے لیے کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ جیسے چاہیں اس کے جسم کا استعمال کر سکتے ہیں۔ میز سجا دی گئی اور 72 مختلف چیزیں رکھ دی گئیں جن کا استعمال مارینا کے جسم پر کیا جانا تھا ان چیزوں میں شہد، گلاب کے پھول سے لے کر چھری اور پستول تک ہر قسم کی اشیا رکھی گئیں۔ مارینا ایک بے اختیار وجود کی مانند اسٹیج پر آ کھڑی ہوئی، پرفارمنس شروع ہونے سے قبل لوگوں کو بتا دیا گیا کہ وہ ہر قسم کی معاشرتی اور قانونی پابندیوں سے آزاد ہیں، یہ چھ گھنٹے وہ مارینا ابروموک کے جسم کے ساتھ جو چاہیں کریں ان کا مواخذہ نہ ہوگا۔

پرفارمنس شروع ہونے کا سگنل ملتے ہی دیدہ زیب ملبوسات میں ملبوس انسانیت کے نمائندوں میں حرکت ہوئی، ابتدا میں لوگ ہچکچائے، مگر جب یقین ہو گیا کہ کسی قسم کی پوچھ تاچھ نہ ہو گی تو حسین جسموں سے تعفن پھوٹنے لگا، کسی نے ماریا کا جسم نوچا تو کسی نے اس کے لباس پر ہاتھ ڈالا، اس کے جسم پر کالی سیاہی سے کالے الفاظ لکھے گئے، انسان اپنی اپنی ذہنی کجیوں کو عیاں کرنے لگے رفتہ رفتہ کھردرے مردانہ اور نازک زنانہ ہاتھوں نے اس کا بدن عریاں کر دیا، لباس پہلے تار تار ہوا پھر ناپید ہو گیا گلاب کے پھول کو نظر اندا ز کر دیا گیا ہاں ٹہنی کے ساتھ لگے کانٹوں کو خوب استعمال کیا گیا، لہولہو، خراش زدہ جسم لئے ہوئے مارینا ابروموک انسانیت کا نوحہ پڑھتی رہی اور پورے چھ گھنٹے انسان وحشت کا ننگا ناچ ناچتے رہے۔

وہ کہتی ہے کہ چھ گھنٹے پورے ہوئے اور جب میں اپنی نچے ہوئے ننگے جسم کو لے کر مجمع کے درمیان کھڑی ہوئی تو انسانیت میری نم آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے کترانے لگی، یہ شاید آرٹ کی پہلی پرفارمنس تھی کہ جس کہ اختتام پر تالیوں کا شور نہیں تھا، داد و تحسین کے آوازے نہیں تھے، لوگ ایک دوسرے سے منہ چھپاتے اور ماریا سے نظر بچاتے چپکے چپکے اسٹوڈیو سے کھسکنے لگے، اس پرفارمنس کو گوگل آج ردھم زیرو کے نام سے یاد رکھے ہوئے ہے۔

آج فطرت نے اسٹوڈیو مورا کے اسٹیج کو وسیع کر دیا ہے، پوری دنیا پر محیط یہ اسٹیج پھر سے نام نہاد، نیک نام شرافت، رواداری اور ترقی کو آئینہ دکھا رہا ہے ایک اور ردھم زیرو شروع ہو چکا ہے، آج مارینا کی جگہ اسٹیج پر خود انسانیت برہنہ کھڑی ہے، ہم سب آزاد ہیں اس کا بدن نوچنے کے لئے، اس کے ننگی، سوکھی اور ڈھلکی ہوئی چھاتیوں پر اپنے ذہنوں کی کالک کندہ کرنے کے لئے کیوں کہ مواخذہ کرنے کے تمام نظام لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ خود بھی کٹہروں میں کھڑے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے، ہاں مگر مارینا کے چھ گھنٹوں کی طرح آج کے چھ گھنٹے بھی ختم ہو جائیں گے“ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں فطرت کی اس پرفارمنس کا اختتام فتحمندی اور سرفرازی کی تالیوں کی گونج سے کرنا ہے یا مجرمانہ خاموشی سے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *