کوئٹہ میں مسیحاؤں پر تشدد: کیا کنٹرولڈ میڈیا پالیسی کارآمد رہے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ غالباً 2017 کی بات ہے کہ زیارت میں زیرو پوائنٹ پر بنے چبوترے کی جانب جاتی ہوئی تنگ پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے عجیب حالت تھی، ایک طرف پہاڑ کی اونچائی اور دوسری طرف ہزاروں فٹ گہری کھائی۔ اگر کسی سیاح کا پیر پھسل جائے تو زندہ بچ جانا تقریبا ناممکن۔ میں نے اپنے ساتھ جانے والے سے پوچھا کہ یہاں پر تو لوگ پگڈنڈی سے پھسل کر اپنی جان گنواتے ہوں گے ، جواب تو اثبات میں تھا لیکن میری حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ ایسے کسی واقعہ کی خبر آج تک میری نظر سے کیوں نہیں گزری؟

کوئٹہ پریس کلب جانا ہوا تو ایک طرف لاپتہ افراد کے ورثاء کی احتجاجی کیمپ تھی تو دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی بھوک ہڑتال تھی، پوچھنے پر پتہ چلا کہ لاپتہ افراد کے ورثاء کا احتجاج تو تحریک کی شکل میں جاری ہے لیکن ینگ ڈاکٹرز کی بھوک ہڑتال کا ساتواں دن تھا۔ مجھے ایک بار پھر حیرت ہوئی کہ اس حوالے سے کوئی خبر میری نظر سے کیوں نہیں گزری تھی۔

پھر بلوچستان سیکرٹریٹ میں کسی کام سے جانا ہوا، وزارت داخلہ کے دفتر میں پتہ چلا کہ کراچی سے بذریعہ سڑک شکار کے لئے بلوچستان کے کسی علاقے کی طرف جانے والے قطری شہزادے کا اجازت نامہ صوبائی حکومت اور افسران کی باہمی چپقلش کی وجہ سے عین وقت پر منسوخ کر دیا گیا اور شہزادے کو راستے میں ہی روک لیا گیا ہے۔ میری نظر میں یہ بھی بہت بڑی خبر تھی مگر میڈیا میں اس کا بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا۔

کوئٹہ میں ہی ایک باخبر شخصیت کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہی سوال پوچھنے پر جواب یہ ملا کہ ’یہ سندھ نہیں ہے جناب، یہاں کے حالات اور ہیں‘ ۔

میرے پے در پے سوالات اور ان کے ملنے والے جوابات سے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے مجبور تھا کہ بلوچستان میں سنسر شپ بھیانک شکل میں موجود ہے۔

میرا صحافیانہ ذہن یہ بات قبول کرنے سے قاصر تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان کے حالات اتنے کنٹرولڈ کس طرح ہو سکتے ہیں۔

کوئٹہ میں کرونا وائرس کا شکار مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی کٹس فراہم نہ کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے مسیحاوں پر لاٹھی چارج اور گرفتاری کی دل گداز خبر کے بعد میں ایک طرف تو اداس ہوگیا، دوسری طرف وہی سوال پھر ذہن میں آیا کہ کیا یہ کنٹرولڈ میڈیا پالیسی کا بیک فائر تو نہیں ہے؟

اگر حقائق کا جائزہ لیں تو ایسا ہی ہے۔ بلوچستان بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کو ڈیل کرنے والے ڈاکٹرز کے پاس کٹس نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پروفیسرز، ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے 19 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ باقی ڈاکٹرز اور عملے کے ٹیسٹ ہی نہیں کیے جا رہے۔

ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو PPEs تو نہیں مل رہے، این 95 ماسک بھی میسر نہیں۔ نتیجتا ”ینگ ڈاکٹرز اور پروفیسرز نے چندہ کرکے کچھ کٹس اور ماسک خرید کر کام چلایا اور حکومت سے بھی مسلسل نہ صرف رابطے میں رہے بلکہ نامسائد حالات کے باوجود اپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی کرتے رہے مگر کسی نے کان نہیں دھرا۔ میڈیا پر ان مسائل کا کوئی ذکر نہیں۔ بلوچستان بھر کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس نے اپنے مطالبات کے حل کے لئے حکومت بلوچستان کو تین دن کا الٹیمیٹم دیا۔ جس کے مکمل ہونے پر وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے ہسپتال پنہچ کر مسیحاوں کے نمائندوں سے مذاکرات کیے۔ اس موقع پر مضحکہ خیز منظر تھا کہ وزیراعلی نے این 95 ماسک لگا رکھا تھا جبکہ پروفیسرز اور ڈاکٹرز نے عام ماسک پہن رکھے تھے۔

مذاکرات کے دوران ڈاکٹرز نے وزیراعلی کو بتایا کہ کرونا وائرس کا شکار مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو قرنطینہ مراکز سمیت کہیں بھی PPEs اور این 95 ماسک فراہم نہیں کیے جا رہے۔ وزیراعلی نے وسائل کی کمی کا روایتی راگ الاپتے ہوئے دو دن کے اندر ڈاکٹرز کو پہلے مرحلے میں قرنطینہ مراکز اور ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کو ڈیل کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اس یقین دہانی کے بعد دو دن گزر جانے کے باوجود مسائل حل نہ ہونے پر نہ صرف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلکہ پی ایم اے اور پروفیسرز کی تنظیم سمیت مسیحاوں کی تمام نمائندہ تنظیمیں بلوچستان حکومت کی روش سے نالاں دکھائی دیے۔

جب مجبور ہو کر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی طرف سے وزیراعلی ہاؤس کی طرف احتجاجی ریلی نکالی گئی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور کئی ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس کو گرفتار کرلیا، جبکہ کئی ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے لوگ زخمی بھی ہوئے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال بھی کرسکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس سے کرونا مریضوں کے مسائل بڑھنے کے خدشات تھے۔ اس لیے تمام فرائض کی ادائیگی جاری رکھتے ہوئے احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا گیا مگر صوبائی حکومت نے قابل مذمت رویہ اختیار کیا ہے۔ (ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے حفاظتی اقدامات کے مسائل معمولی بات نہیں، اس سلسلے میں 27 مارچ کو راقم کا ایک بلاگ ہم سب پر موجود ہے )

حکومت پاکستان یا صوبائی حکومتیں اس بات کو کتنی سنجیدگی سے لے رہی ہیں، اس کا اندازہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کے بڑھتے ہوئے کیسز سے لگایا جا سکتا ہے مگر میرا سوال نام نہاد قومی میڈیا سے ہے کہ وہ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے رپورٹ کر رہا ہے؟

آج اگر بلوچستان کے مسیحاوں کے ساتھ قابل مذمت رویہ اختیار کیا گیا ہے تو اس کی ایک وجہ میڈیا کی بلیک آؤٹ پالیسی بھی ہے۔ اگر میڈیا بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح رپورٹ کرتا تو شاید یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت بلوچستان بالخصوص، باقی صوبوں اور حکومت پاکستان بالعموم اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور طبی عملہ کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے ساتھ کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ کی تلافی کریں ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کنٹرولڈ میڈیا پالیسی مسائل کا حل نہیں بلکہ یہ خود ایک مسئلہ ہے جس کا نتیجہ آپ کی سوچ سے زیادہ خطرناک نکل سکتا ہے۔ دوسری طرف میڈیا بھی بلوچستان کے حوالے سے اپنا قبلہ درست کرے تاکہ میڈیا کا قومی ہونے والا دعوی ’بھی مضحکہ خیز نہ بن جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *