نوم چومسکی کرونا وائرس کے متعلق کیا کہتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس سے انسانی صحت کو لاحق مسائل بہت سنگین ہیں، لیکن یہ ساری تباہی عارضی ہوگی۔ انسانیت کے لیے ایٹمی جنگ اور گلوبل وارمنگ اس بحران سے زیادہ خوفناک مسائل ہیں۔ نوم چومسکی کے مطابق ان تمام خطرات میں نیو لبرل (neoliberal) پالیسیوں کی وجہ سے شدت آئی ہے۔ اس بحران کے خاتمے کے بعد انسان کو آمرانہ ظالم ریاست یا انسانی حقوق کے علمبردار معاشرے کی انقلابی تعمیر نو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

چومسکی کے مطابق ڈانلڈ ٹرمپ دوسروں کے دکھ درد سمجھنے سے بالکل عاری انسان ہے، ا س لیے میرے لیے یہ بات تشویشناک ہے کہ اس اہم ترین لمحہ میں وہ سر براہی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ کرونا وائرس ایک ایسی عالمی مصیبت کا نام ہے جس کے لیے سنجیدگی سے غوروفکر کے ساتھ حکمت عملی ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے اور اس مشکل وقت میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ دنیاکو اس سے بھی بڑے مسائل کا سامنا ہونے والا ہے۔ فی الحال یہ کہنا بعید از قیاس ہوگا کہ وہ مسائل کس قدر بھیانک ہوں گے۔

بہرحال ان مسائل میں سے ایک دنیا میں ایٹمی جنگ کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے اور دوسرا گلوبل وارمنگ کا المیہ۔ کرونا وائرس کے اثرات نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی سطح پر خوفناک ہوں گے، لیکن اس سے ہونے والی تمام تر تباہی کے باوجود تعمیر نو کی امید باقی رہے گی۔ لیکن باقی دو آفات کے بعد بحالی کا عمل ممکن نہیں، بلکہ سب کچھ تہس نہس ہو جائے گا۔

امریکہ کی طاقت روز بروز تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو اگر کیوبا اور ایران پر پابندیاں لگا دیتا ہے تو دنیا کے باقی ممالک کو ان کی من و عن تعمیل کرنا پڑتی ہے۔ اس بات کی دلیل دیتے ہوئے چومسکی کہتا ہے کہ یورپ جیسا خطہ بھی اس کی پیروی کرتا ہے۔ ان ممالک (کیوبا اور ایران) کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بحران کی گھڑی میں کیوبا یورپ کی مدد کر رہا ہے، لیکن جرمنی ایران کی مدد نہیں کر سکتا۔ بحیرہ روم میں ہزاروں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی اموات کا ذکر کرتے ہوئے چومسکی خیال ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت مغرب کا تہذیبی بحران اپنے عروج پر ہے۔

چومسکی کے مطابق اگر ہمیں اس بحران سے چھٹکارا پانا ہے تو ہمیں جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے وقت امریکہ کی تیاریوں کو بطور مثا ل لیا جا سکتا ہے، جس میں امریکہ مقروض ہو چکا تھا مگر اس نے اپنی پیداوار چار گنا بڑھا دی تھی۔ اس قلیل مدتی بحران سے نپٹنے کے لیے ہمیں اسی ذہنیت کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ امیر ممالک ایسا کر سکتے ہیں۔ ایک مہذب دنیا میں امیر ممالک غریب اور ضرورت مند ممالک کو مدد دیتے ہیں، ان کا گلا نہیں دباتے۔ اس امر کے قوی امکان ہیں کہ کرونا وائرس لوگوں کو سوچنے پہ مجبور کردے گا کہ وہ کس قسم کی دنیا چاہتے ہیں۔

چومسکی کا ماننا ہے کہ اس موجودہ بحران کی وجہ بڑی مارکیٹ (colossal market) اور نیو لبرل پالیسیاں ہیں، جنہوں نے سماجی اور معاشی مسائل کوبری طرح سے الجھا دیا ہے۔ ہم اس حقیقت سے باخوبی واقف ہیں کہ وبا ؤں کے پھوٹنے کا امکان ہمیشہ رہتا ہے اور یہ امر بالکل عیاں ہے کہ کرونا وائرس اصل میں سارس (SARS) نامی وائرس سے تھوڑا بہت ہی مختلف ہے۔ کرونا وائرس کی اس نمو پاتی وبا ء کو قابو میں لانے کے لیے وہ ویکسین بنانے پر کام کر سکتے تھے، حتی کہ تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ ہم آج بھی ویکسین بنا سکتے ہیں۔

بڑی بڑی پرائیویٹ فارماسیوٹیکل کمپنیوں ( جن کے معاملات میں حکومت بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتی) کے لیے انسانوں کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ویکسین کی تلاش کرنے کی نسبت جسمانی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی کریم بنانے میں زیادہ فائدہ ہے۔ پولیو جیسی مہلک بیماری کا تدارک سالک (Salk) ویکسین سے ہوا۔ اس ویکسین کے بنانے کے حقوق حکومتی اداروں کے پاس ہیں، اس لیے یہ ہر ایک کو دستیاب ہے۔ ایسے اقدامات ابھی بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ مگر نیو لبرل پالیسیاں طاعون بن کر اس کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔ میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں، کیونکہ یہ معلومات پہلے سے ہی موجود ہیں لیکن ہم میں سے کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔

”نومبر 2019 میں ایک بڑے پیمانے پر امریکہ میں تجربات کیے گئے جس میں اس قسم کی وبا پر غور کیا گیا مگر کسی بھی قسم کے اقدامات نہ اٹھائے گئے۔ یہ ایک المیہ ہے ہم دستیاب معلومات پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ 31 دسمبر 2019 کو چین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو نمونیا کے بارے میں اطلاع دی اور چند ہفتوں بعد ہی چینی سائنسدانوں نے اسے ناول کرونا وائرس کا نام دے دیا اور دنیا بھر کو اس کے بارے میں مطلع کردیا۔ چین، جنوبی کوریا اور تائیوان نے اس سلسلے میں اقدمات کرنے شرو ع کردیے اور یوں لگتا ہے کہ وہ بحران کی پہلی لہر کو کسی نہ کسی حد تک روکنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

کسی حد تک یورپ میں بھی اسی طرز کے اقدمات کیے گئے۔ جرمنی نے عین نزاعی صورتحال میں اقدامات کیے۔ اس کے پاس قابل اعتماد ہسپتال کا نظام موجود ہے، اگرچہ اس نے کسی اور کی مدد نہ کی لیکن اپنے ملک کے اندر حالات کو کافی حد تک سنبھال لیا۔ باقی ممالک نے اس کو بالکل نظر انداز کردیا، جس کی بدولت آج سب سے بد ترین صورتحال برطانیہ اور امریکہ میں ہے۔ “

جب ہم کسی نہ کسی طرح اس بحران پر قابو پا لینگے تو ہمارے پاس دو آپشن ہوں گے انتہائی آمرانہ ظالم ریاستوں کو جنم دینا ہے یا معاشرے کی انقلابی تعمیر نو کرنی ہے جہاں انسانیت کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔ امکان ہے کہ لو گ منظم ہوجائیں اور ایک بہتر دنیا کو وجود میں لانے کے لیے کوشاں ہو جائیں۔ اس امر کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے کہ اس دنیا کو بھی ایسے بہت سارے مسائل کا سامنا ہوگا جن کا ہمیں آج ہے۔ ان تمام ممکنہ مسائل میں ایٹمی جنگ کا مسئلہ ہے جس کے ہم بے حد قریب ہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تباہی ہے جس سے بحالی کے امکان نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں عقل مندانہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت ہم انسانی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایسا کرونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی بدولت تو ہمیں ہماری ارد گرد کی دنیا میں موجود بڑی بڑی خرابیوں کا علم ہواہے۔ اس بحران کی بدولت ہمیں معاشی اور سماجی نظام میں موجود بد ترین اور غیر طبعی سرگرمیوں کا علم ہوا جن کو تبدیل کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ اگر ہمیں اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو کرونا وائرس کو ایک تنبیہ کے طور پہ لینا ہوگا، تاکہ ایک بڑے حادثہ سے بچنے کے لیے ہم اپنی سمت کو درست کرلیں۔

نوم چومسکی نے یہ کہہ کر بات مکمل کردی کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے راستے تلاش کیے جائیں اور اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اگرچہ ایسا کرنا آسان نہیں ہے، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے انسان نے ماضی میں ایسی بہت سی آفات کا سامنا کر رکھا ہے۔

نوم چومسکی کے انٹرویو درج ذیل لنک کا ترجمہ کیا گیا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *