کورونا۔ لاک ڈاؤن اور نفسیاتی مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان فطرتاَ معاشرت پسند ہے اور معاشرتی زندگی کو ترجیح دیتا ہے۔ معاشرتی و سماجی رویوں کے اعتبار سے دنیا میں سینکڑوں قسم کے لوگ آبادہیں۔ ان میں سے دو قسم کے افراد عمومی سماجی رویوں کے اعتبار سے ہمارے اردگرد ملتے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو دوسروں سے زیادہ گھل مل کر رہنا پسند نہیں کرتے اور تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ دروں بین کہلاتے ہیں۔

دوسرے وہ لوگ ہیں جو سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بیرون بین کہلاتے ہیں۔ بیرون بینی معاشرتی زندگی میں کامیابی کی علامت ہے۔ افراد معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ سماجی تفاعل اور ربطبط کے ذریعے معاشرتی تعلقات کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہ افراد سماجی روابط کے خواہاں ہوتے ہیں اور ایک سرگرم و کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد جتنے کامیاب افراد ہیں خواہ وہ تعلیم کے میدان میں ہوں، ملازمت میں یا کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں ان میں اکثریت بیرون بین اور سماجی طور پر سرگرم افراد کی ہے۔

بیرون بین افراد میں رسائی پذیرِی، قطعیت، توانائی کا لیول، جوشیلا پن، خوش مزاجی اور ملنساری جیسی چھ بڑی اور نمایاں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ عام حالات میں یہ خصوصیات بیرون بیں سوشل افراد کو کامیاب زندگی گزارنے اور مثبت سوچ و انداز فکر میں معاون ہوتی ہیں۔

تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ معاشرتی زندگی میں نقل پذیری کی صلاحیت لوگوں کے درمیان گہرا ربط پیدا کرتی ہے اور سماجی زندگی کے مسائل سے نپٹنے میں مددگار ہے۔ ہم اپنے ماحول میں دوسرے لوگوں کو کامیاب اور خوشگوار زندگی گزارتا دیکھ کر ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ان کے نقش قدم پر چل کر انہی کی طرح کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ گویا یہ پیروی یا نقل پذیری کامیابی کی طرف گامزن ہونے کے لئے محرک کا کام کرتی ہے۔ یہ نقل پذیری ہمیں اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں سے تفاعل کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ سماجی ربط قائم رہے تو لوگوں میں مثبت سوچ اور تعمیری سرگرمیوں کی لگن پیدا ہوتی ہے اور اس طرح افراد مثبت طرز پر زندگی گزارتے ہیں اور تعمیریت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اگر سماجی ربط منقطع ہو جائے جیسا کہ پوری دنیا میں حالیہ کورونا وبا کی وجہ سے لا ک ڈاون کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور لوگ سماجی فاصلے رکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ آئسولیشن چاہے ارادی ہو یا حکومتی اداروں کی وجہ سے مسلط کی گئی ہو بیرون بین لوگوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

درون بیں افراد تو ویسے ہی تنہائی پسند ہوتے ہیں ان کے لئے لاک ڈاون اتنا منفی اثرات نہیں رکھتا مگر آزاد اور سوشل و بیرون بین افراد بہت متاثر ہوتے ہیں۔ سماجی ربط کے دیگر متبادل ذرائع اگرچہ دستیاب ہیں جیسا کہ ٹیلی فون، ای میل، واٹس ا ایپ، وڈیو کانفرنس وغیرہ۔ مگر یہ ذرائع سماجی نقل پذیری میں اتنا معاون نہیں ہو سکتے جتنا حقیقی سماجی فضا میں روابط اور تفاعل معاون ہوتے ہیں۔ میکانکی وسائل تفاعل کے وہ نتائج نہیں دے سکتے جو دو بدو ملاقات اور مصافحہ و معانقہ سے مل سکتے ہیں۔

لوگوں کے درمیان حالیہ لاک ڈاون کی وجہ سے رابطے محدود ہو گئے ہیں اور ایسے افراد جو سماجی زندگی کے عادی ہیں گمبھیر مسائل کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں سماجی طور پر تحریک اور سپیس کی اتنا ہی ضرورت ہوتی ہے جتنا زندہ رہنے کے لئے خوراک ہوا اور پانی کی۔ لاک ڈاون کی وجہ سے پیدا ہونے والے یہ مسائل ہمہ قسمی نوعیت کے ہیں جن میں سے کچھ نفسیاتی و جسمانی ممسائل درج ذیل ہیں :

1۔ تنہائی
2۔ ذہنی تناو
3۔ ڈپریشن
4۔ قوت مدافعت میں زوال
5۔ سٹروک
6۔ امراض قلب
7۔ چڑچڑا پن
8۔ یاسیت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالرحمان سومرو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *