کورونا وائرس سے کس کو خطرہ: معیشت، جمہوریت یا سرمایہ داری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا اس وقت کووڈ۔19 سے درپیش خطرہ سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ فوری طور پر ہرملک کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں کو بچایا جائے یا انہیں اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ تاہم اس وائرس کے ختم ہونے کے بعد پوری دنیا کے سماجی و سیاسی رویوں کے علاوہ معیشت، نظام ہائے حکومت اور اس سے متعلق امور پر مرتب ہونے والے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وبا سے بچاؤ کے اقدامات اور بیشتر ملکوں میں شہریوں کو وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے لاک ڈاؤن کی صورت میں معاشی سرگرمیاں معطل کرنے کی وجہ سے دنیا کی معیشت آنے والے کئی برس تک ان کی قیمت ادا کرتی رہے گی۔ معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بارے میں تو کوئی شبہ نہیں لیکن ابھی تک کوئی ماہر اس کی سنگینی کا اندازہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ وائرس کا خاتمہ ہونے کے بعد کتنی تیزی سے لوگ پرانی توانائی اور حوصلہ سے معاشی احیا یا اپنے اپنے ملکوں کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے قبل ہوتے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس وائرس کی سنگینی اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کئے جانے والے انتہائی اقدامات کی وجہ سے لوگوں کے سماجی رویوں پر دیرپا اثر مرتب ہوگا۔ سماجی امور کے بعض ماہر تو ابھی سے یہ قیاس آرائی کررہے ہیں کہ وائرس کے خاتمہ ، اس کا علاج دریافت ہونے یا ویکسین ایجاد کئے جانے کے باوجود لوگوں میں ایسا خوف جاگزین ہوجائے گا کہ ہاتھ ملانا، معانقہ کرنا، گروپ کی صورت میں تفریح کرنا یا ریستوران و کلب وغیرہ میں جانے سے مستقل گریز کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
ان سب انسانی رویوں کے معیشت اور پیداوار ی صلاحیتوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وائرس پھیلنے اور دنیا بند ہونے سے سب سے زیادہ فضائی سفر متاثر ہؤا ہے یا سیاحت کو دھچکہ لگا ہے۔ اس وقت دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کی ہوئی ہیں۔ وائرس پھیلنے سے پہلے روزانہ دو لاکھ سے زیادہ کمرشل طیارے مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہچانے کے لئے اڑان بھرتے تھے۔ اب یہ شرح 30 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت کا مرکز سمجھے جانے والے ممالک مثلاً اٹلی، فرانس، سپین، تھائی لینڈ یا ترکی وغیرہ کی سروسز اور ہوٹلوں کی صنعت کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ سیاحت ختم ہونے سے نہ صرف ہوٹلوں کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے بلکہ ریستورانوں اور دیگر سروسز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ وائرس کے بعد سیاحت کے لئے جانے کا رویہ بحال ہونے میں بہت وقت صرف ہوسکتا ہے۔ اسی طرح گھر سے باہر تفریح کرنے اور ریستوران وغیرہ میں جانے کا طریقہ بھی تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ ایک ماہر نے سوال کیا ہے کہ کیا اس نسل کے لوگ جو اس وقت کسی نہ کسی صورت میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں، باقی ماندہ زندگی میں کبھی دوبارہ اتنے ہی اعتماد سے ریستوران میں جا کر کھانا تناول کرسکیں گے یا بے دھڑک اپنے دوستوں اور شناساؤں سے ملتے ہوئے ہاتھ ملاکر معانقہ وغیر کرسکیں گے؟
انسانوں کے یہ سماجی رویے صرف ان ملکوں کی معیشت پر ہی اثر انداز نہیں ہوں گے جن کا زیادہ تر دار و مدار سیاحت پر تھا بلکہ ہر ملک میں سروسز کا شعبہ اس تبدیلی سے متاثر ہوسکتا ہے۔ سروسز کے شعبے کو عام طور سے کسی معیشت کی فوری بحالی میں کلیدی حیثیت حاصل رہتی ہے ۔ اگر کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں یہی شعبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ ہوسکا تو عالمی معیشت اور انسانوں کے روزگار، فلاح اور زندگیوں پر اس کے اثرات کا اندازہ کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔ یہ اثرات صرف اسی سروسز یا سیاحت کے شعبوں تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کا اثر باقی شعبوں پر بھی پڑے گا۔ اس طرح دنیا کی معیشت ایک طویل عرصہ کے لئے کساد بازری اور بے اعتباری کا شکار رہ سکتی ہے۔
کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں دنیا کی بیشتر اسٹاک ایکس چینجزمیں حصص کی قدر میں پچیس سے تیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر اس میں مزید خرابی نہ بھی واقع ہوئی تو بھی یہ نقصان کئی کھرب ڈالر کے مساوی ہے۔ اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے بنیادی پیداواری شعبوں کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ضروری ہوگا۔ یہ عمل جس قدر سست روی کا شکار ہوگا، معاشی بحالی اسی قدر سست رو ہوگی، بے روزگاری ، مفلسی اور احتیاج میں اضافہ ہوگا اور متعدد ممالک اپنے لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی اداروں کا کردار زیادہ قوت پکڑ سکتا ہے جس سے دنیا کے غریب لوگوں اور ملکوں پر طاقت ور اور باوسیلہ ملکوں کی گرفت سخت ہوجائے گی۔ یہ طریقہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں سیاسی عدم استحکام اور سماجی انتشار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ یہ وقوعہ علاقائی تنازعات اور جنگوں میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں سامنے آنے والے حالات کی وجہ سے جو سماجی اور سیاسی انتشار و بے چینی پیدا ہوگی،اس کے نتیجے میں کمزور جمہوری روایت رکھنے والے ملکوں میں نظام حکومت میں تبدیلی دیکھنےمیں آئے۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے فوجی آمریتیں قائم ہوں یا شخصی حکمرانی کے تصور کو فروغ ملے جسے ان معاشروں میں عوام کی بالواسطہ حمایت بھی حاصل ہو۔ دنیا میں اس وقت بھی جمہوریت کو مقبول سیاست کے ہاتھوں شدید چیلنج کا سامنا ہے۔ اس مقبول سیاست کے مظاہر صرف امریکہ یا برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور فعال جمہوری نظام میں ہی دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ بھارت اور پاکستان جیسے کم جمہوری ممالک میں بھی مقبول نعروں کی بنیاد پر لیڈر برسر اقتدار آئے ہیں۔ اس قسم کے لیڈر اگر کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران میں اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے اور انہیں صحیح سلامت باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس سے مقبول سیاست کو نہیں بلکہ جمہوریت کو نقصان ہوگا۔ البتہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہاں کی مقبول سیاسی لیڈرشپ چونکہ اس بحران میں درست اور بروقت فیصلے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ، اس لئے عوام آئیندہ ووٹ دیتے وقت جذباتی نعروں پر یقین کرنے اور شخصیت پرستی کی بنیاد پر ووٹ دینے کی بجائے ، معتدل مزاج اور عقلی دلیل کی بنیاد پر سیاست کرنے والے لیڈروں کو سامنے لائیں جو بحران میں درست اور مناسب فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
کورو نا وائرس کی وجہ سے گلوبلائز معیشت کو دھچکہ لگا ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ دار اپنے کاروبار اور صنعتوں کے تحفظ کے لئے حکومتوں کی طرف سے فراہم کی گئی مالی معاونت لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ قیاس بھی کیاجارہا ہے کہ پوسٹ کورونا عہد میں دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کو دھچکہ لگے گا، سرمایہ کی بنیاد پر اجارہ داری کا تصور کمزور ہوگا اور امریکہ سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری سہولتوں کو مستحکم کرنے کی خواہش سامنے آئے گی۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں سماجی انصاف کی بنیاد پر استوار ایک نیا قومی نظام جنم لے گا جو کسی بھی مشکل میں لوگوں کو فوری اور بہتر مدد فراہم کرنے میں کامیاب ہو۔ عوامی سوچ اور ترقی یافتہ دنیا میں اس تبدیلی کی بنیاد پر یہ قیاس بھی کیا جاسکتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی نیا ورلڈ آرڈر دیکھنے کو ملے جو دنیا میں دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اور غریب ملکوں کو قرضوں کے چنگل سے نجات دلانے کی کوششوں کا نقطہ آغاز ثابت ہو۔ یہ تصور البتہ اس حوالے سے محض خوش گمانی قرار پائے گا کہ کورونا گزرنے کے بعد آنے والے دور میں معیشت کی بحالی کے لئے حکومتیں اور افراد سرمایہ داروں ہی پر انحصار کریں گے اور انہی کی سرکردگی میں معاشی نظام کو دوبارہ قابل عمل بنانے کی کوششیں ہوں گی۔ اس طرح سرمایہ دارانہ ہتھکنڈے زیادہ سنگین اور تکلیف دہ بھی ہوسکتے ہیں۔
کووڈ۔19 کا آغاز سب سے پہلے چین میں ہؤا تھا۔ مغربی میڈیا اور مقبول مغربی رہنما اس وقت چین کے نظام اور طریقہ کار پر انگشت نمائی کررہے تھے۔ کبھی چینی عوام کی سماجی عادات کو اس وائرس کی وجہ قرار دیا گیا اور کبھی چین کے آمرانہ نظام پر انگلی اٹھاتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ وہاں عام لوگوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور دنیا کو اس بارے میں خبر نہیں دی جارہی۔ اس الزام تراشی اور نکتہ چینی کے درپردہ مغربی لیڈروں کی یہ خواہش بھی پوشیدہ تھی کی اس وبا کے نتیجے میں چین کی معیشت کمزور ہو ۔ اس کمی کو امریکہ اور یورپی ممالک کے معاشی امکانات کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا۔ میڈیا نے پوری قوت سے چین میں اس وائرس کی تباہ کاری اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی، طبی اور دیگر پہلوؤں کو خوب اچھالا اور چین کے لئے مشکل وقت کی پیش گوئی کی جانے لگی۔
یورپ اور امریکہ میں یہ وائرس پھیلنے اور ان ملکوں میں ہونے والی کئی گنا زیادہ ہلاکتوں کے نتیجہ میں اب چین ہی نہیں امریکہ کی معیشت بھی گھٹنوں کے بل آگئی ہے۔ اس وقت مستقبل کے بارے میں جو قیاس آرائی ہورہی ہے، اس کی روشنی میں چین کی قومی پیداوار 6 فیصد سے کم ہوکر پانچ فیصد تک آجائے گی لیکن امریکہ کی قومی پیداوار اڑھائی فیصد سے ڈیڑھ اور یورپی ممالک میں معاشی نمو اس سے بھی کم شرح سے ہوگی۔
دنیا کی طاقت ور اور بڑی معیشتوں میں سست روی کے اس رجحان کا غریب اور ترقی پذیر ملکوں کی معاشی صورت حال پر بھی اثر مرتب ہوگا۔ ان کی آمدنی کے ذرائع کم اور قرضوں میں اضافہ ہوگا۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے بعد اب تک 70 لاکھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ غریب ملکوں میں رونما ہونے والے اثرات اس سے کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ پوسٹ کورونا عہد کے بارے میں اور کچھ قیاس کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اس سے دنیا بھر میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ میں اضافہ ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1504 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *