بڑے شہر کے سرکاری ہسپتال میں ہم پر کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ابھی ہم سب پر صبیحہ شاہین صاحبہ کا ایک کالم پڑھا ہے جس میں انہوں نے ایک پرائیویٹ فائیو سٹار ہسپتال میں موجود ٹو سٹار سہولیات کا ذکر کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ محترمہ تنویر جہاں صاحبہ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کیے جائیں۔ ایک عدد ذاتی تجربہ ہمارے پاس بھی ہے سرکاری ہسپتال اور طبی سہولیات کے حوالے سے، جس کے بعد ہم نے دعا کی تھی کہ اللہ ہمیں دوبارہ کسی سرکاری ہسپتال کا منہ نا دکھائے۔ تلخ تجربات ہمیشہ ایسی دعا مانگنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ان کے بعد زندگی وہ نہیں رہتی جو ہم اس تجربے سے پہلے جیا کرتے تھے۔

ہمارا تعلق پنجاب کے چھوٹے سے شہر مظفر گڑھ سے ہے۔ سال 2002 تھا جب ہماری بڑی بہن عذرا جو میڈیکل تھرڈ ائیر کی طالبہ تھیں اپنے سیکنڈ پراف کی تیاری کرنے گھر آئیں۔ اس وقت میڈیکل کالجز اپنے طلباء کو پیپرز کی تیاری کے لئے گھر بھیج دیا کرتے تھے۔ میڈیکل کی تعلیم جتنی مشکل ہوتی ہے اتنی ہی ٹینشن بھری ہوتی ہے۔ نامعلوم کس نے ان کے ذہن میں اتنی ٹینشن بھری کہ اپنی کلاس کی پوزیشن ہولڈر گھر آکر اس بات پہ رونے لگی کہ پراف کلئیر نہیں ہوگا۔ ہمیں لگا کہ پڑھائی کی نارمل ٹینشن ہے جو تمام سٹوڈنٹس کو ہوتی ہے۔ تسلی، دلاسے، ہمت کے سبق سب بے کار گئے اور آخر ہمیں اپنے فیملی فزیشن سے رجوع کرنا پڑا۔

ہمارے والدین کی کوشش ہوتی تھی کہ سرکاری ہسپتال سے واسطہ نا ہی پڑے، شاید ان کے پاس بھی کوئی تلخ تجربہ ہو۔ ہمارے فزیشن نے کچھ نیند کی دوائیاں تجویز کیں اور مکمل آرام کا مشورہ دیا ساتھ ہی یہ بھی کا کہا کہ ان کو دوستوں سے ملوائیں اور خوش رکھیں تاکہ وہ ریلیکس ہوں۔ تین دن دوا کے ساتھ ساتھ ان کو فرینڈز سے بھی ملوایا کہ دوستوں سے ملاقات آدھے درد سمیٹ لیا کرتی ہے۔ لیکن رونا بڑھتا گیا اور ہمیں لگا کہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے اور ماہر نفسیات ہی اسے حل کر سکتا ہے۔ اس وقت ہم بی۔ اے فائنل ائیر میں تھے تازہ تازہ نفسیات پڑھی تھی تو کچھ نا کچھ بیماریوں کی جانکاری تھی۔

ہمارے فزیشن نے بھی یہی مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ لوگ ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔ چھوٹے شہروں میں بڑے ڈاکٹر کم ہی ہوا کرتے ہیں لیکن بہر حال ایک ڈاکٹر یہاں بھی تھے جنہوں نے ایک ہفتہ علاج کے بعد ملتان کے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا کہ یہ نشتر سائکاٹری وارڈ کے ہیڈ ہیں۔ ان سے بھی پرائیویٹ کنسلٹ کیا کہ ابھی بھی سرکاری ہسپتال جانے کی ہمت نہیں تھی۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کہ مصداق باجی کی حالت بگڑتی گئی۔ اور دو ہفتہ بعد ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو وارڈ میں داخل کرنا ہو گا۔ ہمارے بی۔ اے کے فائنل امتحانات چل رہے تھے اور باجی ہمارے بغیر ہسپتال جانے کو راضی نہیں تھیں۔

ایک ہفتہ مزید گزر گیا اور طبیعت اتنی بگڑی کہ کوئی دوا اثر نہیں کر رہی تھی۔ ہمارے آخری پیپر کے بعد ہم ہسپتال گئے اور باجی کو ایڈمٹ کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز نے پرائیویٹ روم الاٹ کیا کہ سٹوڈنٹ ڈاکٹر بھی قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ یہاں آکر معلوم ہوا کہ ہمارے والدین ہمیں سرکاری ہسپتال سے دور کیوں رکھتے تھے۔ ڈاکٹرز کا پروفیشنل رویہ اپنی جگہ، نرسوں کی بد تمیزی سوا تھی۔ باجی کا بی پی چیک کرنا ہے، ڈرپ چینج کرنی ہے، اس کے لئے ہمیں نرسز کی جھڑکیاں بھی برداشت کرنا ہوتی تھیں اور طعنے بھی سننا پڑتے تھے کہ بی۔ اے کے بعد بھی ہمیں کچھ نہیں آتا۔

صفائی کا عملہ پرائیویٹ روم میں اس امید پر آتا ہے کہ کچھ مل جائے گا۔ ڈاکٹرز کے دو راونڈز اور نرسوں کے پیچھے خواری نے یہ سمجھایا کہ شاید ڈاکٹرز اور نرسیں اپنے پیشے سے تھک چکے ہیں۔ یہ رویہ ایک مستقبل کی ڈاکٹر کے لئے تھا تو نجانے عام مریضوں سے کیا سلوک ہوتا ہو۔ باجی کے لئے آخری علاج الیکٹرک شاک تجویز کیا گیا۔ پہلے دن کے ٹریٹمنٹ سے اتنا ہوا کہ ہماری وہ بہن جو پچھلے ایک ماہ سے رو رہی تھی وہ مسکرائی۔ ہمیں لگا ہماری بہن ہمیں واپس مل گئی ہے۔

اس رات باجی نے امی سے اور مجھ سے بہت ساری باتیں کیں اور بتایا کہ میری زندگی ختم ہونے والی ہے۔ کیو۔ ایم۔ سی جا کر میرا سامان لے آنا۔ میرا مرنے کو دل نہیں کرتا کہ مجھے ابھی انسانیت کی خدمت کرنی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں زندہ رہ پاؤں گی۔ اس دن باجی نے اپنے ہاتھ سے جوس پیا، خود چل کر واش روم تک گئیں۔ اور ہم اسی پہ ہی خوش ہو گئے۔

ایک دن بعد دوبارہ الیکٹرک شاک دیے گئے۔ باجی کو بخار ہو گیا اور مسلسل بڑھتا گیا۔ ہم ڈاکٹر کے پاس گئے اس نے کہا نرس سے کہو بخار چیک کرے۔ نرس نے گھورا کہ بخار بھی چیک کرنا نہیں آتا اور ہماری آنسو بھری آنکھیں دیکھ کر ساتھ چل پڑی۔ بخار 104 کراس کر گیا باجی بے ہوش ہو گئیں۔ تو ہمیں کہا گیا کہ ایمر جنسی لے جاؤ۔ ایمر جنسی والوں نے کہا کہ پہلے ایکسرے اور ای۔ سی۔ جی کرا کے لے آو۔ ایک بے ہوش مریض کو وہیل چئیر پہ بٹھائے ہم ٹیسٹ کرا کے آئے تو ایمرجنسی ڈاکٹر نے ایڈمٹ کرنے سے انکار کر دیا کہ آپ کے ڈاکٹرز نے غلط ٹریٹمنٹ کیا ہے۔

منتوں، ترلوں اور باجی کی کلاس فیلوز کی درخواست پہ ایڈمٹ کیا اور سٹریچر پہ منتقل کر کے برف سے پٹیاں کرنے کو کہا۔ ہم برستی آنکھوں سے سب کر رہے تھے، ماں کو تسلی دیتا دل خود ڈوب رہا تھا۔ رات آٹھ بجے بخار اترا اور ہمیں ایمرجنسی سے وارڈ بیڈ پر شفٹ کر دیا گیا۔ وہ شاید جنرل وارڈ تھا جہاں ہر پندرہ منٹ بعد ہونے والی موت ہمارا دل دہلا رہی تھی۔ گیارہ بجے امی نے زبردستی باجی کے پاس سے اٹھایا اور ایک خالی بیڈ پر ریسٹ کرنے کو کہا۔ ہماری آنکھ لگے کچھ دیر ہوئی تھی کہ امی کی چیخ سنائی دی، اٹھ کے دیکھا تو باجی کی سانس رک چکی تھی۔ ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے سوری کہہ کر تمام ڈرپس اتار دیں۔

ایک انسان کی جان چلی جاتی ہے اور ڈاکٹر کہہ دیتا ہے سوری، ایک مریض بے ہوش ہے اور ایمر جنسی ڈاکٹر اسے ایڈمٹ کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایک مریض بے ہوش ہے اور اس مریض کو ٹیسٹ کرانے کے لئے وہیل چئیر پہ لے جایا جاتا ہے کہ سٹریچر نہیں ہے۔ ایمر جنسی میں ایڈمٹ کرانے کے لئے بھی سفارش کی ضرورت ہے۔ ایسی طبی سہولیات صرف پاکستان میں دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر آپس میں لڑ پڑتے ہیں کہ موت کی ذمہ داری قبول کرنا بہت بھاری ہے۔

یہ تو ملتان کے معروف ہسپتال نشتر کی کہانی ہے، پنجاب کے دیہی سطح پر بنائے گئے، آر۔ ایچ۔ سی اور بی۔ ایچ۔ یو اس سے بھی برے حالات کا شکار ہیں۔ ہسپتال واقعی ویسا نہیں ہوتا جیسا ماں چاہتی ہے، لیکن ڈاکٹر اور نرسیں بھی ویسے نہیں ہوتے جیسا بہن چاہتی ہے۔ ڈاکٹرزاور نرسیں روز موت کا کھیل دیکھ کر عادی ہو جاتے ہیں، ان کو فرق نہیں پڑتا لیکن جو اپنے کسی پیارے کو کھو دیتے ہیں ان کو بہت فرق پڑتا ہے۔ ہسپتال میں میں کون سی سہولت ہے، کس کی کمی ہے حکومت کا درد سر نہیں ہے۔ کہ درد تو ان کو ہوتا ہے جن کے پیارے اس درد کو برداشت کرتے ہیں جو سہولیات نا ہونے پہ دل کو چیرتا ہے۔

آج اٹھارہ سال بعد بھی مجھے وہی درد محسوس ہو رہا ہے جو ایک بیمار بہن کی وہیل چئیر چلاتے دو بہن بھائیوں نے محسوس کیا تھا۔ ان گزرے اٹھارہ سال میں فقط پانچ بار سرکاری ہسپتال جانا پڑا کہ اس کے سوا راستہ نہیں تھا۔ دو دفعہ سرکاری جاب کے میڈیکل کے لئے، دو بار میٹرنٹی لیو کے میڈیکل کے لئے اور ایک بار اپنے بیٹے کو آکسیجن لگوانے کے لئے۔ لیکن زندگی وہیں کھڑی ہے جہاں بے بسی نے باندھ کے چھوڑا تھا۔ خدا کسی کو سرکاری ہسپتال کا منہ نا دکھائے کہ ہمارا پرائیویٹ ہسپتال کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *