پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علم کا ہر شعبہ اور اس میں ہونے والی تمام ترقی انسانی جدوجہد کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ انسانی ترقی کی تاریخ رات اور چراغ بنانے اور اسے جلائے رکھنے والے کے مابین موجود تعلق کو بیان کرنے کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں جہاں رات کی مستقل مزاجی کا قصہ بیان ہوتا ہے وہی سرشام چراغ روشن کرنے والوں کے نام بھی درج ہیں۔ نہ ہر روز رات کی واپسی رکی ہے اور نہ چراغ جلانے والے کسی دن چوکے ہیں۔ ان دیا روشن کرنے والوں نے ہر شام نہ صرف نئے دیے روشن کیے ہیں بلکہ ان کو ہوا سے بچا کر بھی رکھا ہے۔ یہ انہیں دریا دل اور دیالو لوگوں کا فیض ہے کہ عہد تار اب آنے سے پہلے ہی دن کی روشنی میں دیکھ لیا جاتا ہے۔

میں نے 2002 میں وطن چھوڑا تھا۔ 9 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد کا زمانہ تھا۔ مغربی میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف بالعموم اور پاکستانیوں کے خلاف بالخصوص شدت کے ساتھ بولا جا رہا تھا۔ عراق پر ہونے والے 2003 کے حملوں کیلئے باندھی جانے والی تمہید کو میں نے مغرب میں بیٹھ کر دیکھا۔ سکائی نیوز دیگر کئی اور ٹی وی چینلز اور اخبارات روزانہ مسلم دہشت گردی کے حوالے سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نائن الیون کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دنیا کے سارے مسلمان بالعموم دہشتگرد ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ یہ مغرب سے عناد رکھتے ہیں۔ صدام حسین بھی مسلمان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مغرب کے خلاف ھے اور مغرب پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں اس نظرئیے کا رد بالعموم وہ افراد کرتے تھے جن کو ہم بائیں بازو کے لوگ کہتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں اس نظریے کی تردید انگلستان کے جارج گیلووے اور ٹونی بین (مرحوم) امریکہ کے نوم چومسکی, ایڈورڈ سعید اور ہاورڈ زن اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے لیکن برطانیہ میں مقیم طارق علی جیسے لوگ کیا کرتے تھے۔

ایسے میں شدت سے خیال آتا تھا کہ سارے قضیہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کے اسباب کیا تھے۔ پاکستان نے اس معاملے میں شرکت سے کیا حاصل کیا۔ پاکستانی حکمران ان اس صورتحال کو قبل از وقت کیوں نہ دیکھ سکے۔ اگر امریکہ میں ایرک فرام، الجیریا میں مینونی اور فرانز فینون، برطانیہ میں آ ر ڈی لینگ، ہندوستان میں سدھیر کاکڑ اور اشیش نندی، اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مگر پاکستان سے باہر مقیم اقبال احمد آنے والے وقتوں اور پیدا ہونے والی صورتحال کی نشاندہی کرسکتے ہیں تو پاکستان میں مقیم ماہرین تعلیم، دانشور اور ماہرین نفسیات یہ کام کیوں نہ کر سکے۔ کوئی ہمارے حکمرانوں بالخصوص پاکستانی فوج کو یہ بات کیوں نہ بتلا سکا کہ وہ جس آگ سے کھیلنے جا رہے ہیں وہ ایک دن اپنا ہی نشیمن خاکستر کر دے گی۔ کئی سال گزر گئے ہمیں آگ سے کھیلتے ہوئے۔ نفرتیں بوتے اور بولتے ہوئے۔ سڑکوں گلیوں میں خون دیکھتے ہوئے۔ بم دھماکوں، ایمبولنس کی آوازوں اور ٹی وی پر گریہ و زاری سنتے ہوئے لیکن کسی نے آج تک یہ نہ بتایا کہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کیا کرنا چاہیے تھا اور آج کیا کرنا چاہیے۔

دس برس ہوتے ہیں میں پاکستان میں اپنے استاد خالد سعید صاحب سے ملنے گیا۔ انہوں نے اپنی ایک تازہ شائع ہونے والی کتاب عنایت فرمائی۔ اس میں ان کے وہ مضامین شامل تھے جو انہوں نے اسی کی دہائی کے اوائل میں تحریر فرمائے تھے۔ میں نے یہ مضامین غیرمطبوعہ صورت میں 1984 یا 1985 کے آس پاس پڑھے تھے (شاید اس لیے کہ وہ اس وقت شائع نہیں ہوسکتے تھے). ان میں سے ایک مضمون ایرک فرام پر تھا ایک ولہلم رائش (رایخ) پر اور ایک مضمون آر ڈی لینگ پر تھا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان مضامین کو پڑھنے کے بعد پاکستانی دانش کی بابت جس مایوسی کا شکار ہوا تھا وہ مایوسی قدرے کم ہوئی اور اس بات کا احساس ہوا کہ دامن گل اب بھی موتیوں سے بھرا ہوا ہے۔

میری درخواست ہے کہ ان مضامین کو دوبارہ دیکھیے۔ میں نے بھی جب ان مضامین کو زمانہ طالب علمی میں پڑھا تھا یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ یہ مضمون 1980 کی دہائی میں اس طرح کیوں لکھے گئے ہیں۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ مضامین فرام، رایخ اور لینگ کی تقریبا تمام کتابوں کا خلاصہ ہیں۔ اور خالد صاحب نے یہ اپنے طالبعلموں کے لیے لکھے ہیں تاکہ جنہوں نے ان اھم مصنفین کو نہیں پڑھا وہ ان کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کرلیں اور اگر بعد میں من چاہے تو ان کو تفصیل سے پڑھ سکیں۔ لیکن آج ان مضامین کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ انیس سو اسی کی دہائی میں بات کرنے کا شاید یہی راستہ باقی رہ گیا تھا۔

خالد سعید صاحب نے پاکستان کی صورتحال کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے لئے جن ماہرین نفسیات کی مدد لی ایرک فرام ان میں سے ایک تھا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ خالد صاحب آج بھی فرائیڈ کے نظریات کو سماج کی تفہیم کے لئے مفید اور کارآمد خیال کرتے ہیں۔ مگر انیس سو اسی کی دہائی میں انہوں نے ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناطے جس نظریہ ساز کا انتخاب کیا وہ فرام تھا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ فرام نے فرائیڈ سے انسانی کردار کو متعین کرنے والے عوامل کے ضمن میں اہم اختلافات کیے ہیں۔ گو مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ پاکستان کی صورتحال کے نفسیاتی تجزیہ کے لیے خالد صاحب نے فقط ایک مضمون لکھا۔ میری رائے میں فرام کے اخذ کردہ نتائج ہمیں آج بھی تجزیہ کے لئے مدد اور راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات بہرحال درست ہے کہ ایک ہی مضمون میں خالد صاحب بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ خالد صاحب کے ایک ادنیٰ طالب علم کے طور پر ہم پر یہ لازم ہے کہ ہم ان کے اس مضمون کی تشریح و تفسیر کریں اور یہ دکھائیں کہ فرام کا انتخاب نہ صرف درست تھا بلک وہ وقت کی اہم ضرورت تھا اور آج بھی ہے۔

 اس مضمون میں جو ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء کے تاریک ترین دور میں لکھا گیا خالد صاحب نے شروع میں ایرک فرام کا ایک مختصر تعارف کرایا ہے۔ غالبا انہوں نے یہ تعارف مضمون کو ایک درسی رنگ دینے کے لئے لکھا ہوگا۔ اس تاثر کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ایرک فرام کی کتابوں کی جو فہرست شروع میں فراہم کی گئی ہے مضمون میں ان میں سے صرف ان دو سے استفادہ کیا گیا ہے۔

  1. The anatomy of human destructiveness
  2. Fear of freedom.

فرام کے کام پر نظر رکھنے والے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جن حالات کا تجزیہ کرنے کے لیے یہ مضمون لکھا گیا تھا ان پر بات کرنے کے لیے غالباً یہ دو اہم ترین کتابیں تھیں جو خالد صاحب نے منتخب کیں۔ تاہم ایک اور کتاب The Heart of Man میرے خیال میں آج بھی اہم ہے اور پاکستانی صورتحال کے تجزیے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے۔

سردست ایرک فرام کی کتاب The Anatomy of Human Destructiveness سے خالد سعید صاحب کے اخذ کرتا نتائج اور 1980 کے پاکستان کی صورتحال پر ان کے اطلاقات کا جائزہ لیجیے۔ یہ کتاب 1973 میں شائع ہوئی تھی اور اس وقت اس کا پہلا ایڈیشن میرے سامنے ہے۔ اس کتاب کے چند حصے Psychology Today میں پہلے ہی چھپ چکے تھے۔ اگر آپ اس تجزیے پر آج نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ایرک فرام نے جوکچھ انیس سو ستر کی دہائی کے آغاز میں لکھا تھا انیس سو ستر کی دہائی کے اختتام پر اور بعد ازاں وہی کچھ پاکستان میں حرف بحرف سچ ثابت ہوا۔ اب وجہ یاد نہیں ہے مگر کبھی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے کچھ اور سطروں کے ساتھ ساتھ اس جملے کو بھی قلم زد کیا تھا۔ پہلے یہ جملہ پڑھیں۔

Only dogmatic thinking, the result of the laziness of mind and heart, tries to construct simplistic schemes of the either-or type that block any real understanding. (The Anatomy of Human Destructiveness. p. 265)

جس مذہبی فسطائیت کا اس وقت (اور آج تک) ملک اور پاکستانی معاشرے کو سامنا تھا اس کی اہم ترین پیداوار وہ سوچ تھی جو افراد کو صرف ایک جیسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایسے معاشرے مختلف سوچنے والوں کو دیس نکالا دے دیتے ہیں۔ افراد کو معاملات کی سادہ ترین over simplified توضیحات راس آتی ہیں۔ سطحی باتیں کرنے والے افراد، دانشور اور قایدین مقبول ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں معاملات کی حقیقی تفہیم قریباً قریباً ناممکن ہوجاتی ہے اور انسانی سوچ انتہاؤں Binaries کی جانب سفر شروع کر دیتی ہے۔ من وتو کا امتیاز اپنی آخری حدوں کو چھونا شروع کر دیتا ہے۔ اس تمام کا سبب قلب ونظر کی وہ کاہلی ہے جس کو فسطائیت پیدا کرتی ہے۔

قلب و نظر کی اس کاہلی کو فرام نے دائمی بوریت chronic boredom کہا ہے اور اس کو فسطائیت سے پیدا ہونے والی اہم ترین نفسیاتی بیماریوں میں شمار کیا ہے۔ یہی وہ بوریت ہے جس سے آج کا انسان ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مدد سے نمٹنے کی ایک ناکام کوشش کر رہا ہے۔ فرام کے اس قول کو یہاں دہرانے کا مقصد اس کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ یہ کتاب نہ صرف فسطائیت کے ان اثرات کا احاطہ کرتی ہے جو فوری طور پر پیدا ہوتے ہیں بلکہ ان دوررس نتائج کو بھی کامیابی سے دکھاتی ہے جو ہم ایسے معاشرے کئی دہائیوں سے جھیل رہے ہیں۔ لگے ہاتھوں دوسری کتاب Fear of Freedom سے ایک اقتباس دیکھتے چلیے۔

The more the drive towards life is thwarted, the stronger is the drive toward destruction, the more life is realised the less is the strength of destructiveness. Destructiveness is the outcome of unlived life.

خالد سعید صاحب نے آر ڈی لینگ پر بھی ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا۔ Politics of experience لینگ کی ایک اہم ترین کتاب ہے۔ 1967 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں سکیزوفرینیا کو لینگ نے فسطائیت اور سرمایہ دارانہ معاشرے کے اثرات بیان کرنے کے لئے کم و بیش اسی پیرائے میں استعمال کیا ہے جس طرح فرام نے نیکروفیلیا کو۔ لینگ نے سکیزوفرینیا کے بارے میں کہا تھا

The experience and behavior that get labelled schizophrenic is a special strategy that a person invents in order to live in an unlivable situation.

ان دونوں ماہرین نے فسطائیت اور سرمایہ دارانہ نظام میں زندگی کے امکانات کو معدوم ہوتے ہوئے دکھایا ہے نہ صرف یہ بتایا کہ زندگی سے ان کی مراد کیا ہے بلکہ اس ساری صورتحال کو بہت تفصیل سے بیان بھی کیا ہے۔

خالد سعید صاحب نے ایرک فرام کے تصورحیات کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔ “حیوانوں کے برعکس انسان محض روٹی پر زندہ نہیں رہ سکتا وہ محبت، اقتدار، مذہب یا سیاسی مقاصد کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ موجودی تضادات انسان کو اپنے اور فطرت میں وحدت کے حصول کے لیے مجبور کرتے ہیں۔ اسی وحدت کی تلاش میں انسان اپنی قوتوں کا تخلیقی اظہار مادی اشیا آرٹ اور نظام افکار کی تخلیق میں کرتا ہے۔ مگر اس کی سب سے اہم تخلیق وہ خود ہے”

حیات کے اس تصور کا انہدام نیکرو فیلیا کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ 2013 میں شائع ہونے والے نفسیاتی امراض کے جدید ترین تشخیصی نظام DSM-5 میں نیکرو فیلیا ایک نفسیاتی مرض کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ بنیادی طور پر یہ اصطلاح مردہ اجسام سے جنسی حظ اٹھانے کی ایک بے قابو خواہش رکھنے اور کچھ صورتوں میں اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ غالبا ایرک فرام کے بعد اس موضوع پر کام کرنے والا پہلا محقق جوناتھن روسمین Jonathan Rosman تھا۔ 1989 میں شائع ہونے والے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے دو اہم باتیں تحریر کیں۔ ایک تو اس نے نیکروفیلیا کو کو سائیکوسس psychoses، ذہنی پسماندگی mental retardation اور سادیت sadism سے الگ کر کے دکھایا۔ اور رد نہ کرسکنے اور مزاحمت نہ کر سکنے والے جسم سے تعلق قائم کرنے کی خواہش کو نیکر وفیلیا کا بنیادی محرک قرار دیا۔ روسمین کی یہ تعریف فرام کی وسیع تعریف کا ایک خالصتاً کلینکل اظہار تھا۔

دوسرے روسمین نے نیکروفیلیا کی تین حالتوں کو الگ الگ کرکے بیان کیا۔ ایک وہ حالت جس میں مریض نیکروفیلیا کی وجہ سے قتل کا ارتکاب کرتا ہے۔ دوسرے ریگولر نیکروفیلیا جس میں مریض مردہ اجسام کے ساتھ جنسی اختلاط کرتا ہے۔ اور تیسرے نیکروفیلک تصورات و خیالات اور دن سپنے fantasies۔ ۔ ۔ ۔ فرام نے نیکروفیلیا کے تصور کو جو وسعت دی ہے وہ روسمین کی بیان کردہ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔

انیل اگروال نئی دلی کے مولانا آزاد میڈیکل کالج میں فرانزک میڈیسن کے استاد ہیں۔ 2009 میں یعنی DSM-5 کی اشاعت 2013 سے پہلے انہوں نے نیکروفیلیا کی ایک نئی درجہ بندی پیش کی۔ 2011 میں انہوں نے ایک جامع کتاب شائع کی یہ نیکروفیلیا کے موضوع پر شائع ہونے والی پہلی درسی کتاب Textbook ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف ایک نئی درجہ بندی پیش کی گئی ہے بلکہ دنیا بھر سے رپورٹ ہونے والے نیکروفیلیا کے کیسز کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ انیل اگروال نے نیکروفیلیا کو دس مختلف صورتوں میں پیش کیا ہے۔ اس میں روسمین کی بیان کردہ درجہ بندی بھی موجود ہے۔ لیکن اگر آپ روسمین اور اگروال کی درجہ بندیوں کا بغور مطالعہ کریں تو آپ پر عیاں ہوگا کہ فرام نے نیکروفیلیا کی جو تشریح کی تھی اس کو یہ دونوں ماہرین اور محققین نہ صرف نظرانداز نہیں کر سکے بلکہ انہوں نے اس کو اپنی بیان کردہ درجہ بندیوں میں جگہ بھی دی ہے اور اس کے اثبات کے طور پر کلینکل مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ اس قدرے تکنیکی گفتگو کا مقصد صرف اس اعتراض کا جواب عرض کرنا تھا جو نفسیات کے بعض مدرسین فرام پر کرتے ہیں کہ نیکروفیلیا کے تصور کو جو پھیلاؤ اس نے دیا ہے اس کا کوئی کلینکل اورمعروضی ثبوت موجود نہیں ہے۔

جیسا کہ بیان ہو چکا کہ زندگی کے فطری بہاؤ میں در آنے والی رکاوٹ نیکروفیلیا کا سبب بنتی ہے۔ آئیے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ایرک فرام نے فاشزم کے شکار معاشروں کا تجزیہ کرتے ہوئے نیکروفیلیا کے تصور کو کیوں استعمال کیا اور پھر خالد سعید صاحب نے کن ممکنہ وجوہات کی بنیاد پر اسی تصور کو پاکستان پر اطلاق کے لیے موزوں خیال کیا۔

خالد سعید صاحب نے اپنے مضمون میں انسان کی آزادی پر گفتگو چھیڑی ہے ایرک فرام نے آزادی کے اس تصور پر ایک اہم ترین کتاب Fear of Freedom تحریر کی ہے۔ خالد صاحب نے W H AUDEN کی مشہور زمانہ نظم The unknown citizen کا حوالہ بھی دیا ہے۔

اس میں ایک مثالی شہری کی بابت بتایا گیا ہے فراہم کے مطابق یہ وہ شہری ہے جسے آزادی سے خوف آتا ہے اور یہ آزادی سے فرار کے راستے ڈھونڈتا ہے۔ خالد صاحب نے فرام کی دی گئی فرار کی چار حرکیات بیان کی ہیں۔

  1. سادیت Sadism
  2. خود اذیتی Masochism
  3. جیوویر Destructiveness
  4. خود کار مفاہمت Automaton conformity

فسطائی نظام میں آزادی کس طرح ممکن ہے؟ اس نظام میں آزادی کی ممکنہ تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ فرام نے آزادی کی تین اقسام بیان کی ہیں۔

  1. ما قبل آزادی Pre-freedom
  2. منفی آزادی Negative freedom
  3. مثبت آزادی Positive freedom

آپ کے علم ہے کہ مختلف مفکرین اور فلسفیوں نے آزادی کے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تھامس ہابس Thomas Hobbes نے فرد کے لئے رکاوٹوں کی غیر موجودگی کو آزادی کہا تھا۔ فرانسیسی مفکر ساختخ (سارتر) کے مطابق انسان کے پاس فقط “نہ” کہنے کی آزادی ہے. آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ پاکستان جیسے معاشروں کے لیے آزادی کی ایک ممکنہ طور پر قابل قبول تعریف وہ ہے جس کو فرام میں بیان کیا ہے۔ خالد صاحب نے آزادی کے اس تصور کو اجمالاً بیان کیا ہے ذرا اس کی تفصیل دیکھیے۔ یہ تفصیل فرام کی کتاب Fear of Freedom میں موجود ہے۔

ما قبل آزادی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے فرام نے ازمنہ وسطیٰ کے انسان کی مثال دی ہے جس کے شعور consciousness پر عقائد، التباسات اور ناپختہ خیالات کا غلبہ تھا۔ دنیا کی ہر شئے اور معاملے کو انہی تین عوامل کی عینک سے دیکھتا تھا۔ فرد کے لیے اپنے تعارف کے لئے اپنی نسل، معاشرے، خاندان اور ادارے سے وابستگی ضروری تھی۔ اپنے گروہ سے علیحدگی فرد کی شعوری زندگی کی موت سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے مخصوص سماجی حالات میں ایک سوال کثرت سے کیا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ افراد جاھل ترین سیاسی قائدین کی انتہائی جاہلانہ گفتگو کو کس طرح گھنٹوں خاموشی سے بیٹھ کر سنتے اور نوٹس لیتے نظر آتے ہیں۔

باشعور افراد سیاسی قائدین کی انتہائی سطحی گفتگو کا دفاع کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ اپنے لیڈروں کو صحیح ثابت کرتے ہوئے کس طرح جذباتی ہوجاتے ہیں۔ مختلف مولویوں کے سامنے بیٹھے ہوئے، سیاسی قائدین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر کلیشے بولتے ہوئے دانشوروں پر شاید آپ کو بھی تعجب ہوتا ہو۔ لیکن اگر گروہ سے وابستگی کو ان کی جذباتی مجبوری خیال کریں تو آپ کے لیے شاید ان کے طرز عمل کو سمجھنا ممکن ہے اور آسان ہوجائے۔ اسی طرح بسوں میں بھر بھر کے کے جلسوں میں لائے جانے والے، احتجاجی مظاہروں کی رونق بننے والے، نعرے لگانے والے، اور سیاسی جلسے جلوسوں میں شرکت کرنے والے بے تحاشا لوگ ہیں جو صرف ان سرگرمیوں میں اپنی گروہی وابستگی بحال رکھنے کے لئے حصہ لیتے ہیں۔

منفی آزادی پر فرام کے نظریات سمجھنے کے لیے ڈبلیو ایچ آڈن کی نظم دوبارہ پڑھیے۔ ماقبل آزادی کی سٹیج سےنکل آنے والے کئی افراد نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتے ہیں اپنے مخصوص گروہوں کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ خود کو گروہوں سے الگ کرنے کے نتیجے میں شدید تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لگی بندھی زندگی گزارنے والے افراد روایت اور مذاہب کی عمومی رسومات سے آزادی حاصل کرنے کے نتیجے میں خود کو تنہا اور غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور زندگی کے بارے میں معنی اور مقاصد کو کھو بیٹھتے ہیں۔ فرام نے منفی آزادی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا

Unless his life had some meaning and direction, he would feel like a particle of dust and be overcome by his individual insignificance. He would not be able to relate himself to any system which would give meaning and direction to his life, he would be filled with doubt, and this doubt eventually would paralyse his ability to act. P. 17

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ منفی آزادی کس طرح پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ گھروں میں بیٹھے، خبریں دیکھتے، کڑھتے، غصہ کرتے، اپنے معاشرے کی جہالت پر ماتم کرتے یہ افراد خوف اور غصے کے شکار ہوکر فرام کے الفاظ میں مفلوج ہوکر معاشرے کے ہر سسٹم اور ادارے سے لاتعلق زندگی گزارتے ہیں۔

مثبت آزادی کی وضاحت کرتے ہوئے فرام نے لکھا تھا

An active solidarity with all men and his spontaneous activity would love and work, which unite him again with the world, as a free and independent individual.

آزادی سے فرار کی بیان کردہ پہلی دو حالتیں خالد سعید صاحب کی ترجمہ کردہ اصطلاح کے مطابق جیو ویر کی صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ فرام نے ایک نفسیاتی پیچیدگی disorder کو ایک سماجی رویہ قرار دے کر اسے بے پناہ وسعت دی ہے۔ مردہ اشیاء سے پیار، مردوں کی اشیاء کو سینے سے لگانے کا رویہ بالآخر ہر شے کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی شدید اور بے قابو خواہش پر منتج ہوتا ہے۔ “مارو یا مر جاؤ” جیسے نعرے نیکروفیلیا کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ خودکش بمبار، ماضی کا احیا، اجداد کی سنت زندہ کرنے کا عزم، ماضی کے نظاموں کا اعادہ اور ان کو واپس لانے کے نعرے فراہم کی تعریف میں نیکروفیلیا کے سماجی پھیلاؤ کا مظہر ہیں۔ یہ نیکروفیلیا کا وہ درجہ ہے جہاں محبت کرنے کے لیے محبوب کا مردہ ہونا اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ زندہ محبوب مزاحمت بھی کرسکتا ہے اور انکار بھی۔ ۔ مردہ نظریات بھی اس لیے قابل قبول ٹھہرتے ہیں کیونکہ ان کی من مانی تشریح و تشکیل جدید پر کوئی ہاتھ نہیں پکڑتا۔ یقین نہیں آتا تو یونیورسٹی آف نبراسکا میں لکھے جانے والے جہادی مینویل پڑھیے۔

نفسیات اور پروفیسر خالد سعید صاحب کے ایک طالب علم کے طور پر میں بجا طور پر محسوس کرتا ہوں فرام نے 1940 کی دہائی میں جو لکھا تھا وہ آج بھی صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ان تمام معاشروں کا بہترین تجزیہ فراہم کرتا ہے جو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ فرام ہی تھا جس نے فسطائی نظام کے نئے چہرے شناخت کرنے کے بعد دنیا کے سامنے رکھے۔ فرام 1980میں دنیا سے گزر گیا اگر آج زندہ ہوتا تو موجودہ صورتحال کے بہت سے ایسے پہلو بھی ہمارے سامنے رکھتا جو ابھی ہماری سمجھ اور تجزیوں سے باہر ہیں۔

خالد سعید صاحب کا یہ تبصرہ بہت بجا ہے کہ اس طرح کا تجزیہ دنیا کے خاموش اور مصیبت سہتے لوگوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتا۔ لیکن ایک عام آدمی کو اس کے اپنے طرز عمل اور طریقہ فکر کے بارے میں معلومات تو بہرحال فراہم کرتا ہے۔ اندرون اور بیرون میں کتنے ایسے ان دیکھے، انجانے اور نا معلوم دائرے ہیں جن سے باہر نکلتے ہوئے فرد ایک دم چونک کر اور ڈر کر احساس گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد الٹے پیروں دائروں میں جا کر دم لیتا ہے۔ انہیں دائروں میں ٹی وی چلتا ہے۔ وعظ ملتا ہے، حوریں نظر آتی ہیں۔ نظریے ملتے ہیں اور ایک ایسا سکون ملتا ہے جو صرف آنکھ بند کرنے پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ ایسے ہی کسی دائرے میں کوئی کہتا ملتا ہے کہ “سکون تو صرف قبر ھی میں ملے گا”۔ یہ سنتے ہی نیکروفیلیا کے پھیلاؤ پرخالد سعید صاحب کے فرمودات پڑھنے والے شاگردوں کے ذہن میں بے ساختہ ایرک فرام کے نظریات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس طرح بندی خانے کے جغرافیائی حدود بتانے پر خالد سعید صاحب ایرک فرام کے ممنون ہیں اسی طرح بندی خانے کے جغرافیہ دان کا پتہ بتانے پر ہم خالد سعید صاحب کے شکرگزار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *