یہ خاموشی کوئی روز جب چیخ بنے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ایک کام کے سلسلے میں بنک جانا ضروری ٹھیرا۔ میرا عام دنوں میں بھی گھر سے کم ہی نکلنا ہوتا ہے، سو حالیہ صورت احوال میں میرے شب و روز میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ فقط یہ احساس رہا کہ میرا جی چاہے تو بھی مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنا۔ کرونا کے دنوں میں جس طرح وباوں کا بازار گرم رہا، سچ پوچھیے تو مجھے ایک دن بھی ڈر محسوس نہیں ہوا۔ بہت سے اعزا و اقارب کو یہ کہ کے حوصلہ دیا، کہ افواہوں پہ کان مت دھریں، نیوز چینل کم سے کم دیکھیں، لیکن اپنی طرف سے پوری پوری احتیاط کریں، کہ نہ کسی سے وائرس لیا جائے نہ کسی کو وائرس منتقل کیا جائے۔ یہ احساس ہی گھناونا ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی بیماری میں مبتلا ہو جائے۔ باقی رہی موت تو اسے ایک دن آ کے رہنا ہے۔ دنیا میں سبھی کرونا سے نہیں مرتے۔

ہماری دوست شرلی انجم جو سول اسپتال کراچی میں نرس تھیں، ایک عرصے سے اپنی بیماری کے باعث ڈیوٹی پر نہ جا پا رہیں تھیں۔ انھیں افسوس تھا، کہ وبا کے دنوں میں وہ اپنے فرائض نباہنے کے قابل نہیں ہیں، جب کہ اسپتالوں میں ایمرجینسی نافذ ہے۔ کسی پروفیشنل کے لیے یہ ایسا ہی کرب ناک احساس ہوتا ہے، جیسا ایک سپاہی کے لیے، جب حالتِ جنگ ہو اور وہ بستر پہ پڑا ہو۔ تین اپریل کی صبح شرلی انجم کی طبیعت بگڑی۔ ضیا الدین اسپتال لے جایا گیا۔ خدا جانے کوئی غلط انجیکشن لگا، یا شرلی کے جگر نے خود ہی مزید درد سہنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے پیاروں کو چھوڑ کے چلی گئیں۔

میں جس ٹاون میں مقیم ہوں وہاں آبادی زیادہ نہیں ہے۔ کنسٹرکشن کا کام رکا ہوا ہے تو سڑکیں بھی خالی دکھائی دیتی ہیں۔ بنک کے دروازے کے سامنے قطار دیکھ کے کوفت ہوئی۔ ایک نکلتا تھا تو دوسرے کو اندر جانے دیا جا رہا تھا۔ جیسا گیا تھا، میں ویسا ہی پلٹ آیا۔ گھر سے تھوڑا دور تھا، کہ ایک سن رسیدہ شخص نے لفٹ کے لیے اشارہ کیا۔ میں نے رک کے معذرت کی کہ مجھے دوسری سمت جانا ہے۔ آگے بڑھا لیکن معمر مزدور کی پیشانی پہ چمکتے پسینے کا خیال آتے فورا رک گیا۔ سوچا وہ پیدل ہے، میرا کیا جائے گا، اگر اسے منزل تک لے جانے میں دو چار کلومیٹر کا چکر کاٹ لیا جائے! دل میں وسوسہ بھی تھا کہ میرے اتنے دونوں کی تپسیا کا کیا ہو گا، کہ اگر خدانخواستہ یہ صاحب کرونا کے وائرس لیے گھوم رہے ہوں؟ معمر سے پشتو میں کہا کہ آئیے میں چھوڑ آتا ہوں۔

ان کی منزل کو جاتا موڑ مڑا۔ وہ مجھ سے پشتو میں مخاطب ہوئے۔ میں نے اردو میں جواب دیا، تو وہ گویا ہوئے، آپ نے پہلے پشتو میں بات کی تو میں سمجھا آپ پختون ہیں۔ میں نے کہا، بس مجھے اتنی ہی پشتو آتی ہے، جتنی آپ سے بول لی۔ انھوں نے کرونا سے پیدا ہونے والی صورت احوال میں اپنی تنگ دستی بیان کرنے میں تامل نہ کیا۔

ان کی رام لیلا یہ ہے تھی کہ وہ ایک زیر تعمیر مکان کے چوکی دار ہیں، اور وبا کے دنوں میں مالک نہ آیا ہے، نہ خبر گیری کرتا ہے۔ تھوڑا آگے گئے تو سڑک کنارے ایک موٹر سائیکل کے گرد دو اصحاب پریشان احوال دکھائی دیے۔ میں نے رک کے پوچھا کسی مدد کی ضرورت ہے؟ ان میں سے ایک نے چھوٹتے ہی کہا، کرونا کی وجہ سے مزدوری نہیں مل رہی اگر کوئی مالی مدد کر سکیں تو۔۔۔

معمر شخص کو اس کی منزل پر چھوڑا۔ واپسی پر گھر کے لیے دوسری راہ لی۔ گھنٹے بھر بعد ایک کیمرا مین کی کال آ گئی۔ اس نے بنا تمہید اطلاع دی کہ وزیر اعظم پاکستان نے شو بز کے ورکرز کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے، اور تمھارا فلم ساز دوست، جو فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کا سربراہ بھی ہے، شو بز کے ضرورت مند افراد کی فہرست مرتب کر کے بھیج رہا ہے، کیوں کہ وزیر اعظم کی طرف سے یہ ذمہ داری اسے سونپی گئی ہے۔

کیمرا مین نے کہا، اس کے حالات نہایت دگر گوں ہیں، تو اس کا نام بھی اس فہرست میں ڈلوا دیا جائے۔ مزید بات چیت سے پتا چلا کہ یہ کیمرا مین دو تین مہینے سے بے روزگار ہے، ایسے میں اسے آٹا، دال، مسالے بھی مل جائیں تو کچھ آسرا ہو جائے گا۔ مذکور فلم ساز سے معلومات لیں تو اس نے کہا، کیمرا مین کا شناختی کارڈ نمبر بھجوا دو، اس کا نام اس فہرست میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ محض ایک دن کا منظر بیان کیا ہے، جس کا مجھے بہ راہء راست مشاہدہ ہوا۔ سوچ رہا ہوں، اس وقت کہاں کہاں کہاں کون کون کس احوال میں ہے، یہ میں بالکل نہیں جانتا۔ لاک ڈاون کی پروا کروں تو مجھے اپنے پڑوسی کی خبر بھی نہ ہو۔ گھر سے باہر نکلوں تو آخر کس کس کی مدد کر پاوں گا؟

سوشل میڈیا پر کرونا کے پھیلاو کے جو چارٹ بنا بنا کے دکھائے جا رہے ہیں، کہ اتنے لوگوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، مجھے اس پہ اس لیے اعتبار نہیں ہے، کہ وہ ہمارے معروضی حالات دیکھتے نہیں بنایا گیا۔ وہ جن ملکوں کے ماہرین نے بنایا ہے، ان کے سامنے اپنے ملکی حالات پیش نظر رہے ہوں گے۔ ہمارے یہاں کسے خبر ہے کہ یہ چارٹ کیسے بنائے جاتے ہیں۔ غیر کی شماریات پر اپنے احوال کا قیاس کرنا، یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم ان کے یہاں کی جمہوریت کے ثمرات کا اپنے جمہوری نظام  سے موازنہ کریں۔ جب ہمارے یہاں وہ جمہوری قدریں نہیں، تو ویسے ثمرات کیوں کر ہوں گے، جیسے ان کے یہاں ہیں! ہمارے موسم، غذائیں، احوال ایک نہیں، تو وبا کی شدت وہ کیوں ہو گی، جو ان کے یہاں ہے!؟

ہمارے یہاں جس وبا کے اثرات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، وہ بھوک ننگ ہے۔ بے چینی و انارکی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ کوئی اپنے بچوں کی سسکیاں کب تلک برداشت کرے گا اور کیوں کرے گا؟ احوال یہ ہے کہ ہماری حکومتیں وبا زدوں سے اپیلیں کرتی ہیں، کہ ہمیں چندہ دو، تا کہ اس چندے سے تمھاری امداد کی جا سکے۔ ریل کے ٹکٹ پر ابھی تک ڈیم فنڈ ٹھگا جاتا ہے، جس ڈیم کا نام و نشان تک بھی نہیں۔ کوئی ان سے پوچھے ڈیم فنڈ جیسے اکاونٹ کا حساب کہاں ہے، تو خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ملے گا۔ عوام کی خاموشی جس دن چیخ بنے گی، اس روز کیا ہو گا، اس کا شمار کون کر رہا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 297 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *