کلثوم ہزارہ، ہمت و جرات کا استعارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب بات ہو زندگی کی تو اس کے لیے جینا شرط ہے اور جینے کے لیے ہمت، بہادری، زندہ دلی اور مثبت سوچ انتہائی اہم ہے۔ ان سب خصوصیات کے حامل افراد ہی بہترین مثال قائم کرتے ہیں اور اُن سب لوگوں کے لیے مشعل راہ ہوتے ہیں، جو زندگی کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ ایسی ہی بہترین مثال ایک ایسی با ہمت لڑکی ہے، جس نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر کے کام یابی کی منزلوں کو چھوا۔ فخرِ پاکستان کلثوم ہزارہ خواتین کی جد و جہد کا ایک مثالی نمونہ ہیں۔

کلثوم سے میری ملاقات 2012 میں ہوئی۔ اس چند گھنٹوں کی اس بات چیت سے میں کلثوم کی شخصیت سے از حد متاثر ہوئی۔ کلثوم سے بات کر کے اتنی اپنائیت محسوس ہوئی کہ لگا ہی نہیں کہ ہم پہلی بار مل رہے ہیں۔ ان کی کام یابی کی داستان سن کر جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔

4 ستمبر 1988ء میں کوئٹہ شہر میں پیدا ہونے والی کلثوم ہزارہ، تین بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے چھوٹی ہیں۔ دو سال کی عمر میں کلثوم نے اپنی والدہ کو کھو دیا۔ ابھی والدہ کی موت کا صدمہ بھی کم نہ ہوا تھا، کہ سات برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ سرور علی جو کہ کلثوم کے کزن بھی ہیں اور بہنوئی بھی، کراٹے کلب کے مالک تھے۔ کلثوم کے والدین کے جانے کے بعد انھوں نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا۔ کلثوم نے اپنے بہنوئی کے کہنے پہ باقاعدہ کراٹے کی ٹریننگ حاصل کی۔ سرور علی وہ عظیم شخص ہیں، جو کلثوم کو اس راہ پہ لے کر آئے، جہاں کا سفر طے کر کے آج کلثوم نہ صرف فخر پاکستان بلکہ انسانیت کی بھی اعلٰی مثال ہیں۔

سن 2000 میں کوئٹہ کے حالات سازگار نہ ہونے کے باعث کلثوم کو اپنی فیملی کے ساتھ کراچی ہجرت کرنا پڑی۔ کراچی میں کلثوم نے کراٹے ٹریننگ کو جاری رکھا۔ کراچی میں لیاری کے علاقے کا کراٹے کلب کلثوم کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی برس کلثوم ہزارہ نے اپنے پہلے ٹورنامنٹ میں تین گولڈ میڈل جیتے۔ اس کے بعد انھوں نے نیشنل کراٹے چیمپئن شپ میں بھی میڈل جیتا۔

2003 میں کلثوم کے محسن اور سرپرست سرور علی ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہو گئے۔ والدین کے انتقال کے بعد جو شخص کلثوم کے لیے مسیحا اور رہ نما تھا، اُس کا سایہ بھی سر سے اُٹھا تو کلثوم شدید صدمے میں چلی گئیں۔ مگر یہی وقت جو کلثوم کے لیے سب سے کٹھن تھا، وہی اتنا فیصلہ کُن بھی رہا۔ یہیں سے کلثوم نے ٹھان لیا کہ یہی زندگی ہے اور اب اُنھیں دوبارہ سے اُٹھنا ہے۔ زندگی کی مشکلات سے لڑنا ہے اور اپنے رہ نما کا خواب پورا کرنا ہے۔ اسی پر عزم جذبے نے کلثوم کے قدموں میں ہر کام یابی لا کر رکھ دی۔ اس مشکل وقت میں کلثوم کی بہنوں نے محنت اور محبت سے ان کا بہت ساتھ دیا۔ ایک بہن نے گھر پر کپڑوں کا کام کر کے اور دوسری بہن نے بچوں کو فارسی کی تعلیم دے کر اپنی معاشی مشکلات کو شکست دی۔

2005ء میں اسلامک ویمن گیمز کی جانب سے تہران میں ہونے والے مقابلے میں کلثوم ہزارہ نے پاکستان کی جانب سے حصہ لیا اور پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ 2010ء میں ڈھاکا میں ساوتھ ایشیئن گیمز کی جانب سے کلثوم نے دو میڈل جیتے۔ 2016ء میں ساوتھ ایشیئن کراٹے چیمپیئن شپ نئی دہلی میں ایک سونے اور ایک چاندی کا میڈل جیتا۔

2017ء میں کلثوم ہزارہ کو بہترین کارکردگی پہ “Icon of the nation” کا ایوارڈ دیا گیا۔ جب کہ حال ہی میں کلثوم ہزارہ نے تیرہویں ساوتھ ایشیئن گیمز جو کی نیپال میں منعقد ہوئیں، اس میں ایک سونے اور ایک چاندی کا میڈل جیتا ہے۔ اس میں انھیں خاصی گہری چوٹ بھی آئی، مگر کلثوم نے بہت ہمت کا مظاہرہ کیا۔ 2003ء سے لے کر اب تک کلثوم ہزارہ کو نیشنل لیول پہ “انبیٹن کراٹے پلیئر” ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جب کہ جنوب ایشیائی سطح پر گولڈ میڈل کا ہیڑک کیا ہے۔

معروف پاکستانی فلم ساز اور آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی ایک اینیمیٹڈ فلم 2018ء میں ریلیز ہوئی جو کہ کلثوم ہزارہ کی جدو جہد اور کام یابی کے سفر حوالے سے انتہائی قابل ذکر ہے۔ کلثوم نے ہیلتھ اینڈ فیزیکل ایجوکیشن میں ماسڑز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کلثوم فٹنیس کوچ اور ٹرینر بھی ہیں۔

آج کل ان لاک ڈاون کے حالات میں بھی کلثوم ہزارہ گھر پر اپنی ہیلتھ اور فٹنس ہر بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ جو کہ ایک پلئیر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ کلثوم نے کراٹے کو صرف ایک پروفیشن نہیں بلکہ پیشن کے طور پر اپنایا ہے۔ یہ سرگرمی ان کے لیے غم اور غصے جیسی کیفیات کو مثبت طاقت میں تبدیل کرنے میں انتہائی کارگر رہی ہے۔ لڑکیوں کے اور ان کے والدین کے لیے بھی کلثوم کا یہی پیغام ہے کہ اپنی بیٹیوں کو مضبوط بنائیں اور کراٹے کی ٹریننگ لڑکیوں کو پر اعتماد اور مضبوط بنانے کے لیے انتہائی موثر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *