یونیورسٹی بس اور پاکستان کے حالات کا موازنہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سرگودھا یونیورسٹی نے جب سرگودھا ساہیوال بس چلائی تو میرے جیسے بیسیوں سٹوڈنٹس کو بے حد فائدہ پہنچا۔ پہلے جو میں ایک گھنٹے کے سفر کے لیے دو دو گھنٹے گاڑی کا انتظار کرتا تھا اس سے بھی نجات ملی اور وقت پر کلاس میں پہنچنے کی بھی روایت پڑی۔ یونیورسٹی بس چلنے سے پہلے میں سڑک کنارے ایسے کھڑا ہوتا تھا جیسے کوئی سیاستدان الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے۔ اور اس کی بے چینی، اضطراب اور بے یقینی کا جو عالم ہوتا ہے میرا بھی وہی ہوتا تھا کہ گاڑی ملے گی، نہیں ملے گی۔ میں وقت پر پہنچوں گا یا نہیں۔ اور بس چلنے کے بعد میرے حالات الیکشن جیتنے والے سیاستدان کی طرح بدل گئے۔

پہلے کچھ دن تو بس میں زیادہ رش نہیں ہوا اور مجھے آسانی سے سیٹ مل جاتی تھی۔ مگر پھر طلباء بس کی طرف ایسے کھنچے چلے آئے جیسے الیکشن جیتنے والی پارٹی کی طرف آزاد امیدوار کھنچے چلے آتے ہیں۔ گاڑی چلنے کے کچھ دن بعد بس میں اتنا رش بڑھ گیا کہ مجھے بمشکل کھڑے ہونے کی جگہ ملتی۔

اصل میں میرا سٹاپ سرگودھا اور ساہیوال کے درمیان میں پڑتا ہے اس لیے میرے سٹاپ تک پہنچتے پہنچتے بس فل ہو جاتی ہے۔

92 موڑ سے دو اور دوست امتیاز اور اسحاق سوار ہوتے تو مجبوراً یہ کہہ کر کہ ”جگہ دل میں ہونی چاہیے“ ان کی جگہ بنائی جاتی۔ گاڑی میں فرسٹ ہاف (اگلہ حصہ) لڑکیوں کے لیے مخصوص تھا اور اس کی وجہ تھی ”لیڈیز فرسٹ“۔ بس کا پچھلا حصہ لڑکوں کے لئے مخصوص تھا اور اس کی بھی معقول وجہ تھی۔ اور وجہ یہ تھی کہ چونکہ لڑکے ہمیشہ لڑکیوں کے پیچھے ہوتے ہیں چاہے کلاس کی کارکردگی ہو یا عام زندگی اس لئے لڑکوں کو بس کے پچھلے حصے میں سوار کیا جاتا۔

اب صحافت کا طالب علم ہونے کے ناتے ریاست اور سیاست سے تو خواہ مخواہ کا واسطہ ہے۔ تو جیسے عمران خان نے کرکٹ کی اصطلاحات کو سیاست میں متعارف کروایا بالکل اسی طرح ہم نے بھی ملکی اصطلاحات کو بس میں متعارف کروایا۔

جب بس لڑکوں اور لڑکیوں سے مکمل بھر جاتی تو ہم کہتے کہ اب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ لڑکیوں کو ہم نے بھارتی فوج اور لڑکوں کو پاکستانی فوج کا نام دیا ہوا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ لڑکیوں نے لڑکوں کی مخصوص کردہ دو سیٹوں پر قبضہ کرلیا اور اس میں گارڈ نے ان کی بالکل ویسی ہی مدد کی جیسی ماؤنٹ بیٹن نے کشمیر پر قبضہ کے لئے بھارت کی مدد کی تھی۔ بھارتی فوج کے یہ توسیع پسندانہ عزائم ہمیں ناگوار تو بہت گزرے مگر ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر دشمن کی توپیں خاموش نہ کروا سکے۔

کیونکہ لڑکوں میں سے امتیاز اور اسحاق ہی سب سے آخر میں بس میں سوار ہوتے تھے اس لیے وہ لڑکیوں کی طرف سب سے قریب ہوتے تھے۔ تو ہم انہیں کہتے کہ بھائی خیال رکھنا تمہاری ذرا سی غفلت اور لاپرواہی سے سرحد پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ تو وہ کہتے ہم پوری ایمانداری سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے لیکن ہمیں شہید ہونے سے بھی ڈر نہیں لگتا۔

جب گاڑی 84 چک اور 91 چک سے مزید لڑکیوں کو اٹھاتی تو کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا۔ اور کسی بھی وقت کسی کی معمولی سی غلطی سے ایٹمی جنگ چھڑ جانے کا خطرہ منڈلانے لگتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہمارا ڈرائیور (جسے ہم نے امریکہ کا رول اور نام دے رکھا تھا) ایسی ایسی بریکیں لگاتا کہ دونوں افواج کا توازن بگڑ جاتا اور حالات انتہائی کشیدہ صورت اختیار کرلیتے۔ ڈرائیور کا تو پتہ نہیں لیکن امریکہ کا مفاد اسی میں ہے ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات خوشگوار نہ ہوں اور دونوں ملک اس سے اسلحہ خریدتے رہیں۔

اپنے گارڈ کو ہم نے طالبان کا لقب دے رکھا تھا۔ اس کی بھی خاص وجہ تھی۔ ہمارا گارڈ ماشاءاللہ بڑا نمازی پرہیزگار انسان تھا۔ وہ گانوں وغیرہ کے بھی خلاف تھا اور لڑکوں کو بے وجہ باتیں بھی نہیں کرنے دیتا تھا۔ جو سٹوڈنٹ گیٹ کے پاس گارڈ کے سامنے کھڑے ہوتے ہم انہیں یرغمالی کہتے یعنی وہ لوگ جنہیں طالبان نے یرغمال بنایا ہوا ہو۔ اچھا اب گارڈ چونکہ گانوں کے خلاف تھا اس لئے مجبوراً ہمیں گاڑی میں نعتوں اور قوالیوں سے خود کو بہلانا پڑتا۔ جیسے رمضان یا محرم میں لوگ نوحے یا نعتیں سن کر گزارا کرتے ہیں۔

ایک دن نصرت فتح علی خان کے گانے ”ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے“ اور ”آپ بیٹھے ہیں بالن پے میری موت کا زور چلتا نہیں ہے“ بھی چلا دیے گئے اور گارڈ کو پتہ ہی نہ چلا۔ امتیاز مجھے کہتا ہے کہ لگتا ہے گارڈ انکل یہی سمجھتے ہیں کہ نصرت کی صرف قوالیاں ہی ہوتی ہیں۔ دراصل گاڑی میں گانے ایسے چلائے گئے تھے جیسے پاکستان میں ”سود“ چلایا جارہا ہے۔

خیر گاڑی بھی پاکستان کی طرح اچھے برے حالات میں، نئے نئے تجربوں کے باوجود ابھی تک چل رہی ہے۔ اللّٰہ پاکستان اور ہماری بس دونوں کو بہتری کی جانب گامزن کرے مگر اپنے کرتوت دیکھ کر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *