بِگ ڈیٹا، بِگ بَرادر اور فِری وِل کا خاتمہ: یووال حریری کے خیالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یووال حریری کا کہنا ہے کہ ہزاروں سالوں سے انسانوں کا عقیدہ رہا ہے کہ حاکمیت خداؤں کی طرف سے تفویض ہوتی ہے، پھر، جدید دور کے دوران، انسانیت پسندی نے بتدریج یہ اخیتار دیوتاؤں سے انسانوں کو منتقل کردیا۔ اب، ایک تازہ تبدیلی یہ ہو رہی ہے کہ جس طرح کبھی خدائی اختیار کو مذہبی اساطیر نے اور انسانی اختیار کو ہیومنسٹ نظریات نے قانونی حیثیت دی تھی اسی طرح اب ہائی ٹیک گرو اور سلیکان ویلی کے پیامبر ایک نیا یونیورسل بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جو الگورتھم اور بگ ڈیٹا کے اختیار کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔ اس افسانوی یا ناول عقیدے کو ”ڈیٹا ازم“ کہا جاسکتا ہے۔

ہم پہلے ہی ایک دیو ہیکل سسٹم کے اندر بالکل ننھے، منے سے چپ بن رہے ہیں، جنہیں حقیقی طور پر کوئی بھی نہیں سمجھتا۔ میں ہر روز پہلے، بے شمار ڈیٹا بٹس کو بذریعہ ای میلز، فون کالز اور مضامین جذب کرتا ہوں ؛ اس ڈایٹا کو پراسیس کرتا ہوں ؛ پھرانہیں نئی بٹس کی صورت دوبارہ ای میلز، فون کالز اور مضامین کی صورت واپس بھیج دیتا ہوں۔ میں واقعتاً نہیں جانتا کہ اشیاء کی اس عظیم اسکیم میں، میں کہاں فٹ ہوں اور میرے ڈایٹا بٹس کس طرح اربوں دوسرے انسانوں اور کمپوٹروں کے ذریعے تیار کردہ بٹس سے مربوط ہوتے جاتے ہیں۔

میرے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ میں اس کی جانچ کر سکوں، کیونکہ میں اپنی ای میلز کے جواب دینے میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔ یہ بے لگام ڈیٹا کی آمد ور فت، نئی ایجادات کی طرف مائل اورپرانی ایجادات کی توڑ پھوڑ کو نئی چنگاری مہیا کرتی ہے، جس کا کسی بھی شخص کے پاس نہ تو کوئی منصوبہ ہے، نہ کنٹرول اور نہ ہی سمجھ بوجھ۔ لیکن کسی کو بھی یہ سب کچھ سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ آپ کو صرف اپنے ای میلز کا تیزی سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔

جس طرح فری مارکیٹ کے سرمایہ دار، مارکیٹ کے پوشیدہ ہاتھ پر یقین رکھتے ہیں، اسی طرح ڈیٹاسٹ، ڈیٹا فلو کے پوشیدہ ہاتھ پر یقین رکھتے ہیں۔ جیسے جیسے گلوبل ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم، سب جاننے والا اور ہر طرح سے طاقت ور، بنتا جائے گا، ویسے ویسے، اس سسٹم سے جڑ نا کئی طرح کے معانی کو بیان کرنے کا ایک ذریعہ بنتا جائے گا۔ نیا ماٹو کہتا ہے : ”اگر آپ نے کوئی تجربہ حاصل کیا ہے، اسے ریکارڈ کریں۔ اگر آپ کچھ ریکارڈ کر چکے ہیں تو اسے اپ لوڈ کریں۔ اگر آپ اسے، اپ لوڈ کرچکیں ہیں تو پھر شئیر کریں۔ “

ڈیٹاسٹ مزید کہتے ہیں کہ مناسب بائیو میٹرک ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کی طاقت ملنے سے، یہ ہمہ گیر نظام، انسانوں کو ہم سے کہیں بہتر سمجھ سکے گا۔ لیکن اگرایک بار ایسا ہوگیا تو، انسان اپنا اختیار کھو دیں گے اور پھر انسان دوست طرز عمل، جیسے جمہوری انتخابات، بارش کے رقص اور چاقوؤں کی چمک کی طرح متروک ہوجائیں گے۔

سیاست میں، ہم سمجھتے ہیں کہ اتھارٹی کا انحصار عام رائے دہندگان کے آزادانہ انتخاب پر ہے۔ مارکیٹ اکانومی میں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صارف ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ ہیومنسٹ فن سوچتا ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے ؛ ہیومنسٹ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنے لئے سوچو؛ اورہیومنسٹ اخلاقیات ہمیں مشورہ دیتی ہیں کہ اگر ہمیں کچھ بھی اچھا محسوس ہوتا ہے تو، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور اسے کرنا چاہیے۔ یقینًا انسانیت پسندی کی اخلاقیات اکثر ایسی صورتحال میں مشکلات میں مبتلا ہوجاتی ہیں، جب کوئی چیز مجھے اچھی لگتی ہے جب کہ آپ کو بری۔ مثال کے طور پر، ہر سال، پچھلی ایک دہائی سے، یروشلم میں ایل جی بی ٹی ( لیزبین، گے، بائی سیکسوئل اور ٹرانس جینڈر ) کمیونٹی کا سڑکوں پر ہم جنس پرستوں کی پریڈ کا انعقاد۔

اس کے باوجود انسانیت کو اب ایک وجودی چیلنج درپیش ہے اور ”فری ول“ کے تصور کو خطرہ لاحق ہے۔ ہمارے دماغ اور جسم کے کام کرنے کے طریقے کی سائنسی بصیرت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے جذبات کا کوئی خاص انسانی روحانی معیار نہیں ہے۔ اس کی بجائے یہ حیاتیاتی کیمیائی میکانزم ہیں جسے تمام ریڑھ کی ہڈی والے جانور اور پرندے استعمال میں لاتے ہیں تا کہ وہ فوری حساب کتاب کر کے فیصلہ کر سکیں کہ ان کی اپنی بقا اور افزائش نسل کے کیا امکانات ہیں۔

جب کہ مقبول رائے کے برعکس، احساسات عقلیت کے خلاف نہیں ہیں ؛ یہ احساسات ہیں جوارتقائی عقلیت پسندی سے پٹھوں پر مبنی بافتیں بناتے ہیں۔ جب ایک بن مانس، زرافہ یا انسان، شیر کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر خوف پیدا ہوتا ہے کیونکہ بائیو کیمیکل الگورتھم متعلقہ اعداد و شمار کا حساب لگاتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ موت کا امکان زیادہ ہے۔ اسی طرح، جنسی کشش کے احساسات پیدا ہوتے ہیں، جب دوسرے بائیو کیمیکل الگورتھم حساب لگا کر یہ بتاتے ہیں کہ قریبی فرد سے کامیاب جماع کا اعلی امکان موجود ہے۔

یہ بائیوکیمیکل الگورتھم لاکھوں سالوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر تیار اور بہتر ہوئے ہیں۔ اگر ہمارے قدیم آبا و اجداد میں سے کسی کے احساسات نے غلطی کی ہے تو وہ جین، جو ان جذبات کو شکل دیتے ہیں، اگلی نسل کو منتقل نہیں ہوئے۔ اگرچہ انسانیت پسندوں کا یہ سوچنا غلط تھا کہ ہمارے جذبات کچھ پراسرار ”فری ول“ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابھی تک انسانیت پسندی نے بہت عمدہ عملی سینس اپنائی ہے۔ جب کہ ہمارے احساسات میں کچھ بھی ایسا جادوئی نہیں ہے، اس کے باوجود کائنات میں فیصلہ کرنے کے یہ بہترین طریقے تھے۔

اور نظام سے باہر کوئی میرے سے زیادہ میرے احساسات کو سمجھنے کی امید کیسے کر سکتا ہے؟ یہاں تک کہ اگر کیتھولک چرچ یا سوویت یونین کی کے جی بی، ہر دن کے ہر منٹ کی میری جاسوسی کرنا چاہتی ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ان میں حیاتیاتی علم اور کمپیوٹنگ کے علم کی کمی ہے جو میری خواہشات اور چناؤ کو تشکیل دینے والے بائیو کیمیکل پروسیس کا حساب کتاب کرنے کے لئے درکار ہے۔ لہذا ہیومن ازم یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ اپنے دل کی سنو۔

اگر آپ نے بائبل کی سننے یا اپنے احساسات کی سننے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے احساسات کی سنو۔ جب کہ بائبل قدیم یروشلم میں موجود چند پروہتوں کی رائے اور تعصب کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کی بجائے آپ کے احساسات لاکھوں سالوں کی جمع شدہ دانائی کے ارتقاء کی نمائندگی کرتے ہیں، جو قدرتی انتخاب کے انتہائی سخت کوالٹی کنٹرول ٹیسٹ میں سے گزر چکے ہیں۔

تاہم، جیسے ہی چرچ اور کے جی بی گوگل اور فیس بک کو راستہ فراہم کرتے ہیں، ہیومن ازم اس کے عملی فوائد کھو دیتا ہے۔ کیونکہ اب ہم دو قسم کی سائنسی سمندری لہروں کے سنگم پر موجود ہیں۔ ایک طرف، ماہر حیاتیات انسانی جسم اور خاص طور پر دماغ اور انسانی احساسات، کے اسرار کو سمجھ رہے ہیں جب کہ دوسری طرف اسی وقت کمپیوٹر سائنس دان ہمیں بے مثال ڈیٹا پروسیسنگ کی طاقت دے رہے ہیں۔ جب آپ دونوں کو ساتھ رکھتے ہیں تو، آپ کو ایسے بیرونی سسٹم ملتے ہیں جو میرے احساسات کو مجھ سے کہیں بہتر سمجھ سکتے ہیں اور میری نگرانی کر سکتے ہیں۔ ایک بار بگ ڈیٹا سسٹم نے مجھے میرے اپنے آپ کو جاننے سے بہتر جان لیا تو اتھارٹی انسانوں سے الگورتھم میں منتقل ہوجائے گی۔ تب بگ ڈیٹا، جارج اورویلؔ کے، ”بگ برادر“ کو با اختیار بنا دے گا۔

طب کے میدان میں یہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ آپ کی زندگی کے اہم طبی فیصلوں کا بڑھتا ہوا انحصار آپ کی بیماری کے احساسات پر مبنی نہیں ہے کہ آپ اپنے کو بیمار محسوس کر رہے ہیں یا ٹھیک یا یہاں تک کہ اب آپ کے اپنے ڈاکٹر کی باخبر پیش گوئیوں پر بھی فیصلے نہیں ہوتے، بلکہ ایسے کمپیوٹرز کے حساب کتاب پر ہوتے ہیں جو آپ کو، آپ سے بہتر جانتے ہیں۔ اس کی عملی مثال اداکارہ انجلینا جولی کا معاملہ ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply