ڈیجیٹل عقوبت


واٹس ایپ کے ذریعے جہاں رابطے میں آسانی ہوئی ہے، وہیں کچھ اور باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں مجھے اندازہ ہوا ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگی کا مقصد ہی شاید یہ ہے کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے ہمیں اذیت بلکہ یوں کہیں کہ ”ڈیجیٹل اذیت“ دیتے رہیں۔

یہ لوگ آپ کو نہار منہ اپنی آنکھ کھلنے کا ثبوت بذریعہ دو چار ”صبح بخیر/ گڈ مارننگ“ کے میسج بھیج کر دیتے ہیں، اس کے ساتھ ایک دو اسلامی میسجز بھی کردیتے ہیں تاکہ ان کی گڈ مارننگ پر اسلامی رنگ نمایاں نظر آئے۔

دن کا آغاز آپ کی خیریت چاہنے کے ساتھ کرتے ہی ہر آدھے یا ایک گھنٹے بعد دو چار مختلف نوعیت کی وڈیوز بھیجنا شروع کردیتے ہیں تاکہ آپ کو یاد رہے کہ دنیا میں سکون و آرام کے علاوہ بھی عناصر پائے جاتے ہیں۔

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے میسجز مختلف رنگوں اور ذائقوں پر مشتمل ہونے لگتے ہیں۔ کبھی کسی بیماری کے متعلق ایسی خوفناک تصویریں بھیجتے ہیں کہ آپ کو ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے ہی اس بیماری کی کچھ علامات اپنے اندر محسوس ہونے لگتی ہیں۔

کبھی اتنا لمبا مضمون بھیجیں گے کہ اس کی طوالت دیکھ کر ہی آپ سمجھ جاتے ہیں کہ بھیجنے والے نے خود بھی اسے پورا نہیں پڑھا ہوگا (کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہ کتنا پڑھنے والا ہے ) ۔

کبھی ان کی طرف سے دو چار احادیث یا آیات پر مبنی مسیجز بھی موصول ہوتے ہیں تاکہ آپ کو ان کے اہلِ ایمان ہونے پر اگر کوئی شک ہے تو آپ فوراً اسے دل سے نکال پھینکیں۔

ان کی جانب سے موصول ہونے والے پچانوے فیصد میسجز ایسے ہوتے ہیں کہ یا تو آپ انھیں دیکھتے ہی ڈیلیٹ کردیتے ہیں یا پھر دیکھنے کا ہی دل نہیں چاہتا، اس کے پیچھے بھی وہی بات لاگو ہوتی ہے کہ آپ ان حضرت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ 😊

ان کے بھیجے ہوئے اکثر میسجز وہ ہوتے ہیں جو پچھلے ایک ہفتے سے سوشل میڈیا پر ویسے ہی گردش میں ہوتے ہیں۔ بندہ پوچھے کہ بھائی ان چیزوں میں سے ہمارا کیا امتحان ہونا ہے جو بار بار بھیج کے یاد کروا رہے ہو؟

ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں کی جانب سے کبھی کوئی اچھی بات یا اچھا میسج نہیں آتا، ضرور آتا ہے لیکن پورا دن یہ لوگ فضولیات اتنی بڑی تعداد میں بھیجتے ہیں کہ اچھی چیز اس ڈھیر میں کہیں بہت نیچے دب جاتی ہے۔

اب اس لاک ڈاؤن نے تو گویا ایسوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ پہلے اگر یہ لوگ دن کا کچھ حصہ کسی کام میں مصروف رہتے تھے تو اب اس سے بھی گئے۔ اب یہ لوگ پورے تن من دھن سے دن کے بیشتر حصے میں میسج فارورڈنگ کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

گو کہ اس لاک ڈاؤن میں انٹرنیٹ کی سہولت سب کے لیے ایک نعمت ہے لیکن ایسے لوگوں کے لیے تو کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ان کا انٹرنیٹ تو بند ہو ہی جائے، اور کچھ نہیں تو واٹس ایپ ہی جواب دے جائے۔

ایسے ہی ایک صاحب کو تو تنگ آ کر میں نے بلاک ہی کردیا کہ جب بھی موبائل اٹھاؤ، ان کے آٹھ دس میسجز موجود ہوتے تھے۔ ان میں سے اکثر وڈیو میسجز ہوتے تھے کہ اگر آپ ان کے تمام میسجز دیکھنے لگیں تو ہر بار آدھا گھنٹہ تو ان ہی کی نذر ہوجائے۔

ایک دو بار تو یوں بھی ہوا کہ پانچ منٹ کے لیے موبائل رکھ کر واپس اٹھایا تو ان کے پچیس سے زائد میسجز آ چکے تھے، غضب خدا کا، یوں لگتا ہے کہ ان کو میسج فارورڈنگ کی تنخواہ ملتی ہے۔

شکر ہے کہ میسج فارورڈنگ پر کسی قسم کا ثواب نہیں ملتا ورنہ کارِ ثواب جان کر تو ایسے لوگ پتہ نہیں کیا کر گزریں۔

اگر کوئی اچھا میسج نظر سے گزرے تو اچھی بات ہے کہ آپ اسے دوسروں تک پہنچائیں لیکن کیا یہ لازم ہے کہ دنیا جہان کے اچھے میسجز آپ نے ہی بھیجنے ہیں اور آج ہی سونے سے پہلے سب کے سب بھیجنے ہیں؟

ایسا نہیں ہے کہ میں خود کسی کو میسج نہیں بھیجتا، کہیں کوئی بات، کوئی تصویر، کوئی مضمون بہت عمدہ نظر سے گزرے تو اسے دوست احباب تک بھیجتا بھی ہوں لیکن ایسی بدتمیزی سے پرہیز ہی کرتا ہوں کہ جس کی وجہ سے سامنے والا آپ کا میسج کھولنے کی بجائے آپ کا سر کھولنے کی خواہش کرنے لگے۔

Facebook Comments HS