آسیب زدہ نیویارک میں محصور بیٹی کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جان مادر!

تمہارا خط پڑھا!

دل کی دھڑکنیں بے تریتب ہوئی جاتی ہیں۔ بے آواز آنسو گریبان بھگوتے ہیں، کرب سانس نہیں لینے دیتا۔ سوچتی ہوں، گہرے احساس کا یہ روگ اس عمر میں آخر کیسے لاحق ہوا تمہیں ؟

پھر خیال آتا ہے تمہارا کیا دوش؟ تم نے تو زندگی کو اس دن سے برتنا شروع کیا جب تم ماں کے بطن میں تھیں۔ تم زندگی کے اس سفر میں شروع ہی سے ماں کی ہمرکاب رہیں، ننھی عمر سے دنیا کو دیکھنا شروع کیا، دنیا میں پھیلے رنج و الم کو لاشعوری طور پہ محسوس کیا اور جانے انجانے میں اس تصویر کا حصہ بن گئیں۔

کیسے بھولوں وہ دن جب کبھی کبھی تمہاری آیا چھٹی کر لیتی اور میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہوتا کہ تمہیں اپنے ساتھ ہسپتال لے جاؤں۔ سول ہسپتال مری کی چڑھائی پہ دو ڈھائی سالہ بچی کی پرام دھکیلتے ہوئے میں ہانپ ہانپ جاتی۔ پھر دوپہر تک مریض دیکھتی اور تم صبر سے پرام میں بیٹھی کھیلتی رہتی۔ کبھی میری گود میں آنے کے لئے نہ ضد کرتیں اور نہ ہی روتیں۔

اس عمر میں بھی تمہاری قوت مشاہدہ اس قدر تھی کہ ایک دفعہ گھر جا کے اپنے پاپا سے کھیلتے ہوئے تم نے بے اختیار فرمائش کی تھی، آپ لیٹ جائیں میں نے چیک کرنا ہے اور بعد میں پیٹ کو ہاتھ لگا کے تمہارا سوال ” کیا بچہ ہلتا ہے؟” ہمیں ہنسا ہنسا کے بے حال کر گیا تھا۔

میری بیٹی! دنیا میں جب بھی کوئی ابتلا آئی، چاہے انسان کے اپنے ہاتھوں یا قدرتی آفات کے ذریعے، انسان کو نہ صرف اس آزمائش سے گزرنا پڑا بلکہ بھاری قیمت بھی چکانا پڑی۔ بہت سوں نے نہ صرف وقت کا عذاب سہا اور جان کا نذرانہ دیا۔ وہیں بچ نکلنے والوں کی ماہیت قلب ہی بدل گئی کہ درد و اذیت باقی رہ جانے والی زندگی کے ساتھی ٹھہرے۔ موت کا بے رحم چہرہ اور وحشیانہ ناچ دیکھ کے آپ کیسے وہ رہ سکتے ہیں جو تھے ؟

انسان کا پیدا کردہ طوفان پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی شکل میں اور قدرت کی آزمائش سپینش فلو کی صورت میں اس کائنات نے دیکھی۔ لاکھوں افراد نے بلیک آوئٹس کی تاریکی میں چاروں طرف بموں کی برسات سہی، مورچوں میں چھپ کے موت سے پناہ مانگی، بھوک اور پیاس کا ذائقہ چکھا، گھروں سے دربدری ہوئی، اپنے پیاروں کو جنگ یا بیماری میں پاؤں رگڑتے اور بچھڑتے دیکھا۔ جانتی ہو ان کے ساتھ کیا ہوا؟

وہ کبھی بھی ان برسوں سے پہلے کے وقت میں نہیں لوٹ سکے۔ ان کی بقیہ زندگی کی راتیں بے خواب ہی رہیں، ان کے کانوں میں مرنے والوں کی چیخیں زندہ رہیں۔ کسی کی یادیں ان سے بات کرتی ہی رہیں۔ لیکن وہ پھر بھی جیے ایک امید اور خواہش کے ساتھ کہ کبھی کوئی اور ان جیسا جنگ اور بیماری کی وحشت کا شکار نہیں ہو گا۔ ان کی کہانیاں عبرت کا باعث بنیں گی۔ آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے شوقین سبق سیکھیں گے۔

تمہیں علم ہی ہو گا کہ عورت اس امتحان سے کیسے گزری؟

مصائب، وحشت، دہشت، بھوک، پیاس، خوف، غم اور در بدری تو تھی ہی ، عورت کو اپنے عورت ہونے کا خراج بھی دینا پڑا۔ طوفانوں اور ہتھیاروں سے کھیلنے والوں اور موت کو ارزاں کرنے والوں کو اپنی وحشتوں کو ٹھنڈا کر کے وقتی سکون چاہیے تھا۔ اس زد میں اسی سالہ بڑھیا بھی آئی اور کم عمر بچی بھی۔ ہر خطے اور ہر رنگ و نسل کی لاکھوں عورتوں نے ابتلا کے اس عالم میں اپنی ذات کو کچلا ہوا دیکھا۔

ہمارے خطے میں بھی قیامت تقسیم کی صورت آئی اور عورت یہاں بھی بے موت ماری گئی۔ ہمارے اہل درد نے عورت کی بےچارگی کے نوحے لکھے۔ منٹو وہ دیوانہ تھا جسے یہ درد روگ بن کے چمٹ گیا۔ لہو کی تلاش میں اس نے دستانے پہنے ہوئے شہر کو کبھی”کھول دو “ کہہ کے جھنجوڑنا چاہا اور کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کا دلخراش حال کہا۔ وحشت کو ٹھنڈے گوشت کا نام دے کے انسانیت پہ قہقہے لگانے والا اصل میں ہماری بے حسی پہ روتا رہا۔ ہم بدقسمت ٹھہرے کہ اس کی نشترزنی کو نہ سہار سکے، الٹا اسے ہی نشانہ بنا ڈالا اور وہ زندگی ہار گیا۔

میری جان! ہم وہ نسل ہیں جو ان عالمگیر جنگوں کو تو نہ دیکھ سکی لیکن حضرت انسان کی لگائی ہوئی دہشت گردی کی آگ سے نہ بچ سکی۔ تم بچوں نے اسی خوف میں آنکھیں کھولیں۔ یاد ہیں وہ دن جب پنڈی میں بیکن ہاؤس سکول میں دھمکی کے بعد دیواریں اونچی کرنے کے بعد باڑ لگوائی گئی تھی اور گیٹ کے سامنے پشتے رکھ دیے گئے تھے۔ میں تم تینوں کو سکول لرزتے دل کے ساتھ بھیجتی تھی اور سارا دن ہولتی تھی جب تک تم تینوں کے معصوم چہروں کی روشنی آنگن میں پھر سے روشنی نہ کر دیتی۔

میری بیٹی! غم کی ہر گھڑی ایک عجیب ساعت بن کے گزرتی ہے۔ یہ روح پر ایک ایسا چرکا لگاتی ہے جس کا نشان کبھی مندمل ہی نہیں ہو پاتا، دل پہ پڑی خراش بھر ہی نہیں پاتی۔ ہر برا وقت ایک ایسی یاد چھوڑتا ہے جو آنکھوں میں نمی اور جسم کے اندر خلا پیدا کرنے پہ قادر رہتا ہے۔ اہل دل اور اہل نظر کے لئے یہ خالی پن احساس کی ایک ایسی جوت جگاتا ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوا کرتی۔ انسان کے اندر ایک تیسری آنکھ جاگ اٹھتی ہے جو ظلم ہوتا دیکھ کے مظلوم کی آہ زمانے کو سنواتی ہے۔

مجھےخوشی ہے کہ تمہارے اندر کی آنکھ اس کم عمری میں بیدار ہے۔ انسانی کرب پہ تم تڑپ اٹھتی ہو، رنج والم تمہاری روح تک پہنچتا ہے۔ انسانی درد کے یہ موتی ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوا کرتے، یہ تو اہل درد کا خاصہ ہے۔

میری بہادر بیٹی!

تاریخ کو رقم ہوتے دیکھنا اور اس کا عینی شاہد ہونا تمہاری زندگی کا ایک اہم موڑ ہے۔ تم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہو اور میں تمہاری آنکھوں سے بالکل ویسے ہی جیسے تم نے کبھی زندگی کو میری نظر سے جانا تھا۔

میری زندگی! جب تمہاری یاد آتی ہے تو میں تمہارے کمرے میں چلی جاتی ہوں۔ آنکھیں بند کر کے تمہاری کتابوں کو چھوتی ہوں تمہارا چھوڑا ہوا لمس محسوس کرنے کے لئے۔ تمہارے کپڑے سونگھتی ہوں اور تمہاری خوشبو کے سہارے میں تم تک پہنچ جاتی ہوں تمہیں گلے لگانے کے لئے۔

لان میں تمہارے پسندیدہ جھولے پہ بیٹھ کے اداس آسمان کو دیکھتی ہوں۔ سوچتی ہوں کہ آسمان کا کونسا ٹکڑا تمہاری کھڑکی سے تمہیں تکتا ہو گا، شاید اس ٹکڑے کی پلکوں پہ مجھے تمہارا کوئی عکس نظر آ جائے۔

دیواروں پہ چڑھی بوگن ویلیا پہ زرد پھولوں کی بہار ہے۔ تیز دھوپ میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے چاروں طرف سرسوں پھولی ہو۔ بوڑھا برگد اداس تھکی ہوئی نظروں سے چاروں طرف پھیلے سناٹے کو تکتا رہتا ہے تم لوگوں کی آوازوں کی تلاش میں جو یادوں کی لہروں کے ساتھ دبے پاؤں یونہی چلی آتی ہیں۔

ہم ڈاکٹرز تالہ بندی میں نہیں ہیں سو ہسپتال کا شغل تو جاری ہے۔ ہسپتال میں سب نادیده دشمن سے خبردار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے سا ماحول تو نہیں رہا لیکن سب کی کوشش ہے کہ اضطراب اور بے چینی حواس کو بکھرنے نہ دے۔

مجھے کامل یقین ہے کہ ہم اس بے رحم وقت کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گزار لیں گے۔ میں یہ نہیں جانتی کہ طوفان گزر جانے کے بعد ہم کتنا بدل چکے ہوں گے مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ ہمارا احساس اور درد کا اثاثہ ضرور بڑھ جائے گا۔

 بدیس گئی چڑیوں کے اپنے آنگن میں لوٹنے کی آس لئے بہت سا پیار اور دعائیں!

تمہاری ماں۔

یہ بھی پڑھیے

وبا زدہ نیویارک میں مقیم بیٹی کا خط

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *