کرپٹ وزیر کابینہ میں رکھنے کا فائدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک نیمروز میں جب پیر تجلی شاہ کی حکومت قائم ہوئی تو ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ ملک سے سرکاری عمال کی رشوت ستانی کا خاتمہ ہو اور ان کی حکومت شفافیت کی ایک مثال بن کر ابھرے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہت سختی سے کام لیا۔ پرانے بادشاہوں کے زمانے میں جو امیر وزیر تھے، تجلی شاہ انہیں کرپشن کا واہمہ تک ہونے پر بندی خانے میں ڈال دیتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد عمالِ حکومت کرپشن سے اتنا گھبرانے لگے کہ تمام کام دھندا چھوڑ کر فارغ بیٹھنے میں عافیت جاننے لگے۔

لیکن ایسا نہیں تھا کہ پیر تجلی شاہ کے دل میں رحم کا جذبہ نہیں تھا۔ وہ ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جو آدمی دیکھ کر فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اس کے قصور پر سزا دینی ہے یا چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے درگرز کرنا ہے۔ اغیار کے حق میں عموماً پہلا کلیہ استعمال کیا جاتا تھا لیکن جن افراد کی صلاحیتوں کے تجلی شاہ ذاتی طور پر معترف تھے کہ ان کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا تھا، انہیں سدھرنے کا موقع بار بار دیا جاتا تھا۔

اپنے دربار میں تجلی شاہ نے اپنے اعتماد کے لوگوں کو ہی بڑے بڑے مناسب دیے تھے جن کی صلاحیتوں پر وہ ذاتی طور پر اعتبار کرتے تھے۔ ان صلاحیتوں کے بارے میں ان افراد نے خود تجلی شاہ کو بارہا بتایا تھا تو ان پر یقین نا کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔

بہرحال کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ ایک مرتبہ تجلی شاہ کو ایک ایسے وزیر کے مالی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا علم ہوا جس سے ان کی دانت کاٹی روٹی کھانے کی دوستی تھی۔ سفر حضر میں ساتھ رہتے تھے۔ بلکہ اکثر تجلی شاہ ان ہی کے تخت رواں پر سفر کیا کرتے تھے۔ یہ وزیر باتوں کے ایسے میٹھے تھے کہ تجلی شاہ نے انہیں قند الملک کا خطاب دے کر اپنا مدارالمہام مقرر کر رکھا تھا اور تمام امور مملکت میں وہ پیر تجلی شاہ کی نیابت کیا کرتے تھے۔

تجلی شاہ کو پہلے پہل تو یقین ہی نہیں آیا کہ قند الملک ان کے نام کو بٹا لگا سکتے ہیں لیکن جب پرچہ نویسوں نے ثبوتوں کی لین ڈوری باندھ دی تو انہیں یقین کرنا پڑا۔ تجلی شاہ انصاف کے معاملے میں بہت سخت تھے اس لیے اسی وقت قند الملک کو طلب کیا اور نہایت غضب ناک ہو کر فرمایا ”ہم تمہیں اس عہدے سے معزول کرتے ہیں۔ ایک راشی اور بدعنوان شخص ہمارا وزیر نہیں رہ سکتا۔ ہم تمہاری جگہ اپنے خانساماں ہونق میاں کوفتہ گر کو مدار المہام مقرر کریں گے اور اسے شکم پرور جنگ کے خطاب سے سرفراز کریں گے“۔

قند الملک یہ سن کر کورنش بجا لائے اور عرض گزار ہوئے ”اے عظیم بادشاہ، جس کے علم و فضل، عقل و دانش، معاملہ فہمی اور انصاف کی چہار دانگ عالم میں دھوم ہے۔ آپ ایسا کریں گے تو یہ ایک بھیانک غلطی ہو گی۔ بندہ ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہے کہ شاہ عالی مقام اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لیں ورنہ مملکت میں بدعنوانی، رشوت اور چوری چکاری بہت بڑھ جائے گی“۔

تجلی شاہ نے حیران ہو کر پوچھا ”ایسا کیوں کر ہو گا؟ ایک راشی اور بدعنوان وزیر کو ہٹا کر اس کی جگہ ایک مالی طور پر متوسط شخص کو وزیر بنانے سے کرپشن میں کیسے اضافہ ہو گا؟ ہونق میاں کوفتہ گر عوام میں سے ہیں، اور ان کی تکالیف اور مسائل کو خوب جانتے ہیں۔ جبکہ تمہارے پاس اس وقت دولت کے اتنے ڈھیر ہیں کہ تم خود بھی انہیں شمار کرنے سے قاصر ہو“۔

قند الملک نے یہ سن کر پاپوش شاہی کو بوسہ دیا اور عرض گزار ہوئے ”شاہ عالی جاہ نے ہمیشہ کی طرح درست فرمایا۔ ہم نے جتنا مال بنانا تھا بنا لیا ہے۔ اب ہماری سات پشتیں دولت کے اس ڈھیر پر بیٹھ کر عیش کریں گی اور اسی دولت سے مزید دولت کھینچیں گی۔ ہمیں عوام سے مزید لوٹ مار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ شکم پرور جنگ کے پاس اس وقت مال و دولت کے نام پر دوسرا گدھا تک نہیں ہے، اس کا جو کچھ ہیں وہ آپ ہی ہیں۔ وہ مدار المہام بنتے ہیں اپنی سات پشتوں کے لیے ہر جائز ناجائز طریقے سے مال کمانے میں لگ جائے گا۔ برا بھلا ہم حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ آگے شاہ مختار ہیں۔ ان کے حکم کی تعمیل سب پر لازم ہے“۔

شاہ ذیشان پیر تجلی شاہ نے قند الملک کی بات پر غور کیا اور اسے درست پایا۔ وہ تخت سے اٹھے اور قند الملک کو گلے سے لگا کر ان کا عہدہ اور مرتبہ پہلے سے بھی بڑھا دیا اور انہیں میر جملہ کے خطاب سے بھی سرفراز کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1270 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *