کرپٹ وزیر کابینہ میں رکھنے کا فائدہ

ملک نیمروز میں جب پیر تجلی شاہ کی حکومت قائم ہوئی تو ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ ملک سے سرکاری عمال کی رشوت ستانی کا خاتمہ ہو اور ان کی حکومت شفافیت کی ایک مثال بن کر ابھرے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہت سختی سے کام لیا۔ پرانے بادشاہوں کے زمانے میں جو امیر وزیر تھے، تجلی شاہ انہیں کرپشن کا واہمہ تک ہونے پر بندی خانے میں ڈال دیتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد عمالِ حکومت کرپشن سے اتنا گھبرانے لگے کہ تمام کام دھندا چھوڑ کر فارغ بیٹھنے میں عافیت جاننے لگے۔

لیکن ایسا نہیں تھا کہ پیر تجلی شاہ کے دل میں رحم کا جذبہ نہیں تھا۔ وہ ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جو آدمی دیکھ کر فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اس کے قصور پر سزا دینی ہے یا چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے درگرز سے کام لینا ہے۔ اغیار کے حق میں عموماً پہلا کلیہ استعمال کیا جاتا تھا لیکن جن افراد کی صلاحیتوں کے تجلی شاہ ذاتی طور پر معترف تھے کہ ان کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا تھا، انہیں سدھرنے کا موقع بار بار دیا جاتا تھا۔

Read more

ملک نیمروز میں ملا حکومت کرتے ہیں

بھوک، غربت اور جہالت کے شکار ملک نیمروز کے باشندوں نے فیصلہ کیا کہ ملک کی حکومت سیاسی علما کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ سارے قوانین خوب چھان پھٹک کر بنا لیں اور ملک سے خرابی دور ہو اور لوگوں کو کھانے پہننے کو ملے۔ حکمران کونسل کا پہلا اجلاس ہوتا ہے تاکہ ملک کے لیے سب سے زیادہ اہم امور پر سب سے پہلے قانون سازی کی جائے۔ ملا امام العصر کونسل کی کارروائی شروع کرتے ہیں اور

Read more

ملک نیمروز میں انسان کو بکرے کا جگر لگاتے ہیں

عبدالستار ایدھی مرحوم کے بعد از مرگ اپنی آنکھوں کا عطیہ دینے پر بات چل رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ حرام کام ہے۔ ہم نے غور کیا تو بات معقول ہے۔ انسان کا جسم اس کی اپنی ملکیت نہیں ہوتا ہے، بعد از مگر اس کی چیر پھاڑ ہمیں جائز نہیں لگتی ہے۔ ویسے یہ مردہ انسان کا پوسٹ مارٹم وغیرہ بھِی بند ہونا چاہیے اور بندہ قریب المرگ ہو تو اس وقت یہ کام کر

Read more