کرپٹ وزیر کابینہ میں رکھنے کا فائدہ
ملک نیمروز میں جب پیر تجلی شاہ کی حکومت قائم ہوئی تو ان کی ساری توجہ اس بات پر مرکوز تھی کہ ملک سے سرکاری عمال کی رشوت ستانی کا خاتمہ ہو اور ان کی حکومت شفافیت کی ایک مثال بن کر ابھرے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بہت سختی سے کام لیا۔ پرانے بادشاہوں کے زمانے میں جو امیر وزیر تھے، تجلی شاہ انہیں کرپشن کا واہمہ تک ہونے پر بندی خانے میں ڈال دیتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت جلد عمالِ حکومت کرپشن سے اتنا گھبرانے لگے کہ تمام کام دھندا چھوڑ کر فارغ بیٹھنے میں عافیت جاننے لگے۔
لیکن ایسا نہیں تھا کہ پیر تجلی شاہ کے دل میں رحم کا جذبہ نہیں تھا۔ وہ ان عظیم بادشاہوں میں سے تھے جو آدمی دیکھ کر فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اس کے قصور پر سزا دینی ہے یا چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے درگرز سے کام لینا ہے۔ اغیار کے حق میں عموماً پہلا کلیہ استعمال کیا جاتا تھا لیکن جن افراد کی صلاحیتوں کے تجلی شاہ ذاتی طور پر معترف تھے کہ ان کے ساتھ دن رات کا اٹھنا بیٹھنا تھا، انہیں سدھرنے کا موقع بار بار دیا جاتا تھا۔
Read more

