جہانگیر ترین کا سپریم کورٹ سے اپنی نااہلی میں عمران خان کے ممکنہ کردار پر شک و شبہ وزیراعظم تک پہنچ گیا تھا: روف کلاسرا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی روف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان فاصلے دراصل اس وقت شروع ہوئے جب جہانگیر ترین کے خلاف سپریم کورٹ سے فیصلہ آیا اور وہ نااہل ہوئے۔ جہانگیر ترین بہت پراعتماد تھے کہ انہیں نااہل نہیں کیا جائے گا۔ وہ پر اعتماد تھے کہ میں نے چیزیں ظاہر کی ہوئی ہیں اور مجھے نااہل نہیں کیا جائے گا اور وہ یہی سوچ کر سپریم کورٹ گئے تھے، لیکن جب انہیں نااہل قرار دینے کا فیصلہ آیا تو یہ ان کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا ۔

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین نے دس سال پارٹی پر سرمایہ کاری کی، گھر کے خرچے اور جہاز چلایا جبکہ جلسے اور جلسوں پر بھی خرچ کیا لیکن جب وقت آیا اور پارٹی حکومت میں آ رہی تھی تو انہیں نااہل کر دیا گیا۔ جہانگیر ترین بھاری دل کے ساتھ گھر چلے گئے اور انہوں نے گھر بیٹھ کر اپنے دوستوں کے ساتھ مشاورت کی کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے؟ اس سے فائدہ کس کو ہوا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری ساری چیزیں طے تھیں کہ مجھے نااہل نہیں کیا جائے گا۔

روف کلاسرا کے مطابق جہانگیر ترین نے کچھ نام لیے کہ ان کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ تین چار ممکنات پر غور کیا گیا کہ کونسی ایسی طاقتیں ہو سکتی ہیں جن کو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن ایک مرحلہ ایسا آیا کہ فیملی میں مشاورت ہوئی کہ کہیں عمران خان نے انہیں نااہل کروانے کیلئے کوئی کردار تو نہیں ادا کیا ؟ ۔سینئر صحافی نے کہا کہ میں یہ بات وثوق سے کر رہا ہوں۔

روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ مشاورت کے دوران کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ جہانگیر ترین کے بوجھ بننے کا خدشہ پیدا ہوا ہو۔ ایک پہلو یہ بھی تھا کہ وہ کہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہ مانگنا شروع کر دیں اور مرکز میں کہیں ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ نہ مانگ لیں کیونکہ عمران خان کے بعد سب سے زیادہ اثر و رسوخ جہانگیر ترین کا تھا۔ ان کے ذہن میں ایک لمحے کیلئے یہ سوچ آئی کہ ممکن ہے عمران خان کا بھی اس میں کردار ہو؟

روف کلاسرا نے بتایا ہے کہ جہانگیر ترین کی بدقسمتی سے یہ ساری گفتگو جو ان کی گھر میں ہوئی، عمران خان تک پہنچ گئی۔ جہانگیر ترین کیمپ کا خیال ہے کہ یہ انفارمیشن عمران خان تک پہنچائی گئی ہے، اس کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان اس مسئلے پر بات بھی ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کا سامنا کیا۔ عمران خان دکھی تھے کہ جہانگیر ترین آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کروں گا۔

روف کلاسرا کے مطابق یہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلق میں پہلی دراڑ تھی۔ جہانگیر ترین نے عمران خان سے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پر بات ہوئی تھی لیکن اگر مجھے اس پر یقین ہوتا یا دل میں کچھ میل ہوتا تو میں آپ کے ساتھ نہ کھڑا ہوتا، اپنا جہاز استعمال نہ کر رہا ہوتا، جتنے آزاد امیدوار آئے، انہیں پارٹی میں نہ لاتا اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے آپ کی مدد نہ کرتا۔

روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان اس بات پر کافی حد تک قائل ہو گئے اور سمجھ بھی گئے لیکن دونوں طرف سے دل میں ایک بڑی دراڑ آ چکی تھی۔ عمران خان نے اس سب کے باوجود جہانگیر ترین کی زراعت کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ آگے چلے۔ انہوں نے جہانگیر ترین کو کردار دینے کا فیصلہ کیا جس پر پارٹی میں بھی مزاحمت ہوئی۔ شفقت محمود، اسدعمر اور شاہ محمود قریشی دراصل جہانگیر ترین کے اثر و رسوخ سے خوش نہیں تھے۔ انہیں فکر لاحق ہو گئی کہ جہانگیر ترین صاحب ’اَن آفیشلی‘ طور پر چیف منسٹر بن گئے ہیں ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *