کورونا انسانوں کو سلام کرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس کرہ ارض پر انسان کی تاریخ دائمی جد و جہد کی رہی ہے۔ یہ عالم رنگ و بو جس نے نہ جانے کتنے جانداروں کو صفحہ ہستی سے فنا ہو جاتے دیکھا، اس بات پر حیران ہے کہ پانچ۔ سات فٹ کا یہ انسان نامی دوپایہ اپنے وجود کو درپیش کتنے ہی خطرات سے ٹکراتا ہوا آج تک فنا سے محفوظ ہے۔ کیسی حیرت ہے کہ بقائے وجود کی جو جنگ ڈائنوسار جیسے عظیم الجثہ جاندار تک نہ جیت پائے اس میں حضرت انسان ہمیشہ کامیاب ٹھہرا۔ کبھی غور فرمایا کیسے؟

اس زمین پر زندگی کی معلوم تاریخ کے مطابق یہاں وجود کی بقا کا ایک سیدھا سا اصول کارفرما رہا ہے۔ اس کے مطابق ہر ایک جاندار کے وجود کو فنا سے مسلسل نبردآزمائی کرنی ہے۔ پس اس کھیل میں جس جاندار کی بھی ذرا آنکھ لگی یا توجہ بٹی، اس کو فنا کے پنجے نے آ لیا۔ مذہبی طبقہ ڈارون کے نظریات سے شاکی رہا ہے لیکن ذرا دیر کو ڈارون کے نظریہ کو سامنے رکھیں تو اس نے بھی اسی امر پر اصرار کیا ہے۔ تھیوری اور ایولیوشن یا ارتقا کے نظریے میں واضح کر دیا گیا ہے کہ وجود کی بقا اس سے مشروط رہی ہے کہ کس نے خود کو سب سے بہتر ثابت کیا؟

زندگی کا یہی مشاہدہ مہذب دنیا کے ادب میں مختلف شکلوں میں وارد ہوا۔ مثال کے طور پر سنسکرت زبان میں مقولہ ہے کہ ’دیوتا بھی کمزور کو ہی مارتے ہیں‘ ۔ ذرا یاد کیجے کہ کیا اس سے ملتی جلتی کوئی بات کسی مسلم فلسفی نے کہی ہے؟ علامہ اقبال کا وہ شعر بھول گئے :

تقدیر کے قاضی کا فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

معلوم ہوا کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وجود کی بقا کے لئے جد و جہد، تدابیر اور قوت لازمی ضرورت ہیں۔ انسان نے اس نکتہ کو جان لیا تھا اسی لئے اس زمین پر اس کا وجود سنگین امتحانات سے گزرتا ہوا یہاں تک آ پہنچا ہے۔ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لینے کا حوصلہ اور وجود کو درپیش سنجیدہ خطرات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔ یہ دونوں وہ کنجیاں ہیں جن کی وجہ سے انسان کا وجود باقی رہا ہے۔

انسان نے وجود کی بقا کے لئے کیا کچھ جتن کیے ؟ اس کی روداد انسانی ارتقا سے متعلق درسی کتابوں میں خوب پڑھی گئی۔ اتفاق سے ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں بھی ہم انسان کو اپنے وجود کو بچانے کی ایک سنجیدہ لڑائی لڑتے دیکھ رہے ہیں۔ آج کے انسان کو محسوس ہو چکا ہے کہ کورونا وائرس نامی وبا کرہ ارض پر اس کے وجود کا مستقبل خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس لئے وہ اپنی آزمودہ تراکیب یعنی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا اور خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا، کو کام میں لاتے ہوئے مصروف جہاد ہو گیا ہے۔

کیا عام حالات میں اس بات کا تصور بھی کیا جا سکتا تھا کہ دنیا کی دو تہائی کے لگ بھگ آبادی خود کو غیر معینہ مدت کے لئے اپنے گھروں میں قید کر لے گی؟ کیا مہذب دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا کہ اربوں انسان معاش سے لے کر تعلیم تک سب کچھ معطل کرکے اپنے گھروں کے دروازے بھیڑ کر بیٹھ گئے ہوں؟ آج ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ انسان جانتا ہے کہ وہ اپنے نادیدہ دشمن سے بچنے کے لئے پہلی کوشش یہی کر سکتا ہے کہ دنیا کا وسیع کاروبار روک دیا جائے۔

یہ وہی رویہ ہے جو ہزاروں برس سے انسان اپنے وجود کو بچانے کے لئے اختیار کرتا آ رہا ہے۔ اس کے مطابق جب بات وجود کی بقا کی آ جائے تو سب کچھ فروعی ہو جاتا ہے اور نجات اسی میں ہے کہ اس وقت کی ضرورت کے مطابق خود کو ڈھال لیا جائے۔

ایک طرف اربوں انسان خودساختہ قید میں چلے گئے تو بہت سے ایسے ہیں جو عین خطرے کی آغوش میں جا کھڑے ہوئے تاکہ اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ یہ جو سائنسداں کورونا کی دوا کھوجنے کے لئے دن رات لگے ہوئے ہیں کیا انہیں انفیکشن کا خطرہ نہیں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ میڈیکل سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ وائرس کے حصار میں جاکر انسانوں کا علاج کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کئی کئی دن مسلسل ڈیوٹی کرنے والے یہ ڈاکٹر بچوں والا ڈائپر پہن کر وائرس سے لڑ رہے ہیں تاکہ پیشاب پاخانہ کرنے میں بھی وقت ضائع نہ ہو۔ چین سے تہران تک کتنے ہی ڈاکٹر وائرس سے لڑتے ہوئے جان سے گزر گئے لیکن مجال ہے جو کسی دوسرے نے قدم پیچھے کیے ہوں۔ یہ ہے انسان کا وہ جذبہ جس نے اس کرہ ارض پر اس کے وجود کو درپیش خطرات کو ہمیشہ شکست دی ہے۔ کورونا کے عہد میں انسان کی حکمت عملی اور وجود کو باقی رکھنے کی اس کی جد و جہد قابل دید ہے۔

ایک طرف اربوں انسانوں کو گھروں میں محدود کرکے محفوظ کیا گیا تو دوسری جانب ڈاکٹروں، نرسوں اور وارڈ بوائز کی شکل میں لاکھوں انسان گھروں سے باہر نکل آئے۔ کورونا سے لڑتے ہوئے ڈاکٹر بھی مر رہے ہیں اور نرسیں بھی، لیکن بات انسانی وجود کی بقا کی آن پڑی ہے اس لئے اب قیمت نہیں دیکھی جا رہی۔

اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں۔

Latest posts by مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 112 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply