مجھے کیون کارٹر بننا منظور نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اس کی عمر تینتیس سال تھی اور نام کیون کارٹر (Kevin Carter) تھا۔ وہ تیرہ دسمبر 1960 کو جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں پیدا ہوا اور ستائیس جولائی 1994 کو اسی شہر میں وفات پا گیا۔ اسے فارماسسٹ بننے کا شوق تھا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس دور میں جنوبی افریقا میں سیاہ فام نسلی تعصب کا شکار تھے لیکن کیون سکول میں بھی ان کے حق میں آواز اٹھاتا رہتا تھا۔ آخرکار اسے سکول سے نکال دیا گیا۔ فارماسسٹ بننے کا خواب پورا نہ ہوا تو فوج میں بھرتی ہو گیا۔

دو سال کی خدمات کے بعد اسے ایئرفورس میں شمولیت مل گئی۔ ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ آرمی میس میں کھانا کھا رہا تھا۔ کھانا سرو کرنے والا ویٹر ایک سیاہ فام لڑکا تھا۔ جونہی وہ ویٹر کھانا دینے ان کی ٹیبل پر آیا کیون کے کولیگ اس ویٹر کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ اس سے بدتمییزی بھی کرنے لگے۔ کیون سے یہ برداشت نہ ہوا اور وہ اپنے ہی ساتھیوں سے الجھ پڑا۔ اس لڑائی میں وہ زخمی ہوا، اس نے استعفاء دیا، ایک کیمرا لیا اور اس منزل کی طرف روانہ ہو گیا جس کی طرف قدرت اسے لے جانا چاہتی تھی ؛ فوٹوگرافی کی منزل۔ یوں وہ ایک فری لانس فوٹوگرافر صحافی بن گیا۔ وہ تصویریں بنا کر مختلف اخبارات اور میگزین بھیجتا اور جو معاوضہ ملتا اس سے دال روٹی پورا کرتا۔ اس کی زندگی اسی ڈھب سے گزر رہی تھی کہ پھر اچانک اس کی زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ آیا جو نہ آتا تو وہ بھی کروڑوں لوگوں کی طرح گمنامی کی موت مر جاتا۔

پھر اس کے کیمرے نے وہ تصویر لی جسے دنیا نے اس کا شاہکار کہا اور یہی شاہکار تصویر اس کی خودکشی کی وجہ بنی۔ یہ تصویر 1993 میں سوڈان میں لی گئی تھی جب وہاں قحط خونی کھیل کھیل رہا تھا۔

تصویر ایک چھوٹی بچی کی تھی جسے شاید ہڈیوں کا ڈھانچا کہنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر کیون اسے خود رینگتا ہوا نہ دیکھتا تو اسے زندہ بھی نہ سمجھتا۔ وہ بھوک اور پیاس سے اس قدر نڈھال تھی کہ اس کے لیے قدموں پر چلنا بھی مشکل تھا۔ وہ گھسٹ کر منزل کی جانب جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد جب گھسٹنا بھی مشکل ہو گیا تو اس نے اپنا ماتھا زمین پر رکھا اور بے سدھ ہو گئی۔ وہ بالکل اسی طرح پڑی تھی جس طرح کوئی عورت سجدہ کرتی ہے۔

اس کے بالکل پیچھے ایک گدھ بیٹھا ہوا تھا جس کی للچائی ہوئی نظریں اس بچی پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ اس بچی کو کھا کر اپنی بھوک مٹانا چاہتا تھا۔ جونہی لڑکی بے سدھ ہوتی گدھ اسے کھانے کے لیے آگے بڑھتا، بچی اسے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھتی تو جیسے تیسے کر کے گھٹنوں اور کہنیوں کے بل جان بچانے کے لیے آگے رینگنے کی کوشش کرتی لیکن سر نہ اٹھا سکنے کی وجہ سے یہ کوشش ایک خفیف سی حرکت پر ہی ختم ہو جاتی۔ بچی اور گدھ کے درمیان جاری موت اور حیات کی اس جنگ کو کیون نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔

یہ تصویر نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی، دنیا اس تصویر کو دیکھ کر تڑپ اٹھی۔ لوگ اپنے آنسو نہ تھام سکے۔ آپ بھی کیون کارٹر کا نام گوگل کر کے اس تصویر کو دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تصویر دیکھ کر آپ کی ہوک نکل جائے گی۔ میں نے جب یہ تصویر دیکھی تو میں نے پریشان ہو کر یہ دعا مانگتے ہوئے ریسرچ کرنی شروع کی کاش یہ تصویر جعلی ہو۔ یوں کیون کارٹر صف اول کا فوٹوگرافر بن گیا اور دنیا جہان کی نیوزایجنسیاں اس سے رابطہ کرنے لگی، اسے فوٹوگرافی کا سب سے بڑا پولٹزر پرائز (Pulitzer Prize) نامی ایوارڈ بھی دیا گیا، مختلف تقریبات کا چیف گیسٹ بننے لگ گیا۔

ایسی ہی ایک تقریب میں ایک صحافی نے اس سے سوال کیا ”اس بچی کا کیا بنا تھا؟ وہ بچ گئی تھی یا گدھ نے اسے زندہ ہی نوچ کھایا تھا؟ آپ تھوڑی دیر رک نہیں سکتے تھے؟ آپ بچی کو اٹھا کر اقوام متحدہ کے کیمپ تک ہی لے آتے، اگر خود نہیں اٹھا سکتے تھے تو کیمپ کو اطلاع کر دیتے، اس کا وزن ہی کتنا تھا آپ اسے اپنے جہاز میں بھی تو سوار کر سکتے تھے“۔

ٹیلیویژن، ریڈیو، اخبارات یا کوئی بھی تقریب ان سوالوں سے تنگ آ کر کیون اس قدر ڈپریشن کا شکار ہوا کہ اس نے تنہائی اختیار کر لی۔ ایک دن اس نے اپنی کار نکالی اور اس پارک میں جا پہنچا جہاں وہ بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔ اس نے ایک ٹیوب کار کے سائیلنسر پر چڑھائی، اسے ڈرائیونگ سیٹ والی کھڑکی سے اندر لا کر شیشہ بند کر لیا اور کارسٹارٹ کر دی۔ وہ لگاتار ایکسیلیٹر دباتا رہا یہاں تک کہ پوری کار دھویں سے بھر گئی اور کیون کارٹر کاربن مونوآکسائیڈ کا زہر پھیپھڑوں میں لیے اگلے جہان سدھار گیا۔

کرونا کی وبا میں تصاویر دیکھیں تو مجھے یہ واقعہ دوبارہ شدت سے یاد آنے لگا اور میں سوچنے لگا کہ کہیں ہمارا معاشرہ کیون کارٹر تو نہیں بن گیا؟

باقی دنیا کی طرح ملک عزیز پاکستان میں کرونا کی وبا چھائی ہوئی ہے، لوگ بھوک پیاس سے بے حال ہیں، لاکھوں لوگوں کا کاروبار بند ہو چکا ہے، لوگ بھوک مٹانے کی خاطر ڈکیتیاں کر رہے ہیں، جو ڈکیتی کی ہمت نہیں کر پا رہے وہ خودکشی کی جانب مائل ہیں، حکومت سوشل ڈسٹناسنگ پر زور دے رہی ہے مگر لوگ راشن کی خاطر دھکے دے بھی رہے ہیں اور دھکے کھا بھی رہے ہیں اور ہم کیون کارٹر کی طرح تصاویر بنا رہے ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر پر لائیو سٹریمنگ کر رہے ہیں، جو لوگ راشن تقسیم کر رہے ہیں ان کے جذبے کو سلام مگر محض لائیک، کمینٹس اور ریٹنگ کی خاطر ویڈیو یا تصاویر بنانے والے کس کیٹاگری میں ہیں؟

ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں؟ ان کی دلجوئی کر سکتے ہیں؟ ان کو کھانا کھلا سکتے ہیں؟ ان کی پیاس بجھا سکتے ہیں؟ ان کی مالی یا اخلاقی مدد کر سکتے ہیں؟ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارے رشتہ دار، ہمسائے، دوست اور متعلقین اس آفت کی وجہ سے کسی پریشانی کا شکار تو نہیں؟ ہمیں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس وبا میں ہمارا شمار ان لوگوں میں نہیں جو ہاتھ پھیلائے مانگ رہے ہیں۔

لیکن افسوس کہ یہ اخلاقی ذمہ داریاں بھول کر ہم صرف تصاویر بنا رہے ہیں۔ اگر ہم صرف تصاویر بناتے رہے، لوگ اسی طرح مرتے رہے تو کل قیامت کا دن بھی آئے گا۔ اگر اس دن اللہ نے پوچھ لیا کہ کیا تم انہیں کھانا نہیں کھلا سکتے تھے، پانی نہیں پلا سکتے تھے، انہیں امدادی کیمپ کا یا کسی امدای کیمپ کو ان کا پتا بھی نہیں بتا سکتے تھے تو ہمارے پاس کیا جواب ہو گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *