سیاسی قیادت کی توقیر کا راستہ بلوچ ہم وطنوں کے دل سے گزرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بروقت انصاف کی طرح اگر کسی ظلم کے خلاف وقت پر آواز نہ اٹھائی جائے اور مظلوم کے ساتھ اظہار ہمدردی سے گریز کیا جائے تو بعد از وقت ہمدردی کے الفاظ بولنے سے گھاؤ نہیں بھرتا۔ کسی شخص یا گروہ کی خدمات کے باوجود ان پر ہونے والے تشدد کے خلاف اگر ملک کا وزیر اعظم دو دن تاخیر سے افسوس یا پشیمانی کا اظہار کرتا ہے تو اسے مجبوری تو کہا جا سکتا ہے، اظہار ذمہ داری یا کسی زیادتی کا ازالہ کرنے کی خواہش کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

وزیر اعظم عمران خان نے آج ملک کے ایک کروڑ بیس لاکھ غریب لوگوں میں 12 ہزار روپے ماہانہ ایمرجنسی امداد تقسیم کرنے کے پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کے سامنے دو روز پہلے کوئٹہ میں ڈاکٹروں کے خلاف پولیس تشدد کا بھی ذکر کیا اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میڈیکل عملہ اس وقت کورونا کے خلاف جنگ میں صف اوّل پر مصروف عمل ہے۔ یہ لوگ جہاد کر رہے ہیں۔ انہیں حفاظتی ساز و سامان ملنا چاہئے‘۔ کوئٹہ میں ڈاکٹروں کے ایک گروہ کے ساتھ شدید ناانصافی کے واقعہ کے بعد جس میں درجنوں ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا تھا، وزیر اعظم کی طرف سے دو روز بعد افسوس کا اظہار زخموں پر مرہم نہیں رکھے گا۔ اس سے ان کی لاتعلقی واضح ہوتی ہے۔

یہ رویہ ملک میں کورونا وائرس کے خلاف جد و جہد کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس واقعہ کے فوری بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوری نوٹس بھی لیا تھا اور فوج کو حکم دیا تھا کہ کوئٹہ میں ڈاکٹروں کو حفاظتی ساز و سامان فراہم کیا جائے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی بجائے اگر یہی کام عمران خان کرتے اور یہ تسلی دلاتے کہ ڈاکٹروں کی حفاظت حکومت کی اوّلین ترجیح ہے، ضروری ساز و سامان کی عدم فراہمی پر ڈاکٹروں کا غم و غصہ جائز تھا اور اس موقع پر پولیس کا رویہ اور صوبائی حکومت کا طرز عمل درست نہیں تھا تو صرف بلوچستان کے ڈاکٹر اور طبی عملہ کے لوگ ہی مطمئن نہ ہوتے بلکہ باقی سب صوبوں میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملہ کو یہ احساس ہوتا کہ اگر وہ اس بحران میں ملک و قوم اور عوام کے لئے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں تو حکومت کو بھی ان کی خدمات اور قربانیوں کا احساس ہے۔

بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی اور سیاسی طور سے سرگرم لوگوں کے خلاف خفیہ اداروں کی کارروائیوں اور ظلم و تشدد کی طویل تاریخ کے پس منظر میں فوج کی بجائے اگر ملک کی منتخب حکومت کا سربراہ کوئٹہ میں رونما ہونے والے ایک ناخوش گوار واقعہ کا نوٹس لیتا، وہاں کے ڈاکٹروں سے رابطہ کرکے ہمدردی کے دو بول کہتا اور پولیس حکام سے اس واقعہ میں ہونے والی بے اعتدالی کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلیتا تو بلوچستان کے ڈاکٹروں کو ہی نہیں، وہاں کے عوام کو بھی یہ احساس ہوتا کہ اسلام آباد کی حکومت اور ملک کا وزیراعظم ان کے معاملات میں دلچسپی رکھتا ہے۔

وزیر اعظم کی بجائے جب یہ کام فوج کے سربراہ کی طرف سے کیا گیا تو اس سے اس قیاس کو تقویت ملی کہ منتخب وزیر اعظم کی معاملات پر گرفت ہی نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کس وقت کیا بیان دینا ہے اور کس موقع پر خاموش رہنا ہے یا آگے بڑھ کر عملی اقدام کرنا ہے۔ بعض عناصر صوبے کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے وزیر اعظم کی بجائے آرمی چیف کی طرف سے مداخلت کو قابل تحسین عمل قرار دینے کی بجائے یہ سیاسی مؤقف سامنے لانے کی کوشش بھی کریں گے کہ ملک کی سیاسی قیادت نے بلوچستان کو فوج کے حوالے کررکھا ہے جو اس صوبے اور اس کے عوام کے ساتھ نوآبادی جیسا سلوک کرتی ہے۔ اس طرح ایک مثبت اور قابل تحسین کام بھی سیاسی طور سے نقصان دہ اور غلط فہمیوں کو مستحکم کرنے کا سبب بنا۔

یہ امر بھی باعث حیرت ہونا چاہئے کہ پاکستانی حکومت کی معاشی منصوبہ بندی کے سارے انڈے بلوچستان نام کی ٹوکری میں رکھے ہیں۔ گوادر بندرگاہ کو سی پیک منصوبہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں کی معدنیات کو بروئے کار لاکر ملکی ترقی اور 22 کروڑ عوام کے سنہری مستقبل کی امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں لیکن عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اسلام آباد میں وزارت عظمی سنبھالنے والے شخص کو بلوچستان جانے اور وہاں کے لوگوں سے براہ راست رابطہ استوار کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ نہ ہی کسی بھی بحران یا تصادم کی کیفیت میں ملک کا وزیر اعظم بلوچ عوام کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران تو گزر جائے گا لیکن اس کے بعد جو معاشی چیلنجز اور قومی استحکام کے حوالے سے سیاسی اندیشے سامنے آئیں گے، ان میں بلوچستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہوگی۔ کیا وجہ ہے کہ عمران خان اس موقع پر خود کوئٹہ جاکر نوجوان ڈاکٹروں کی دلجوئی کرنے اور بلوچ عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں اسلام آباد کی حکومت ان کے ساتھ رہے گی۔

 وفاقی حکومت اس وقت جس طرز عمل کا مظاہرہ کررہی ہے، اس سے صرف اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وفاق یا ملک کے دیگر حصوں کی قیادت کو صرف اس وقت بلوچستان یاد آتا ہے جب اس کے وسائل بٹور کر مالی مشکلات حل کرنا مطلوب ہوتا ہے۔ جب انہیں سہولتیں دینے، ان کی مشکل کا حل تلاش کرنے اور ہمدردی کے دو بول کی حاجت ہوتی ہے تو وفاق کی قیادت آنکھیں ملانے کا حوصلہ نہیں کرتی۔ کوئٹہ میں ڈاکٹروں کے احتجاج کے معاملہ پر عمران خان نے جس سست روی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ معاملہ کسی نہ کسی طرح حل ہونے کے دو روز بعد جس طرح ’افسوس‘ اظہار کیا ہے، اس سے صرف ایک وزیر اعظم کی بے حسی اور نااہلی کا بھانڈا ہی نہیں پھوٹا بلکہ یہ معاملہ وفاق اور بلوچستان کے تعلق میں ایک داغ کی طرح زندہ بھی رہے گا۔ بلوچ عوام کس طرح یہ سچائی بھلا سکیں گے کہ کورونا وائرس کے بحران میں جب ان کے صوبائی دارالحکومت میں پولیس ڈاکٹروں پر تشدد کرکے انہیں گرفتار کررہی تھی تو ملک کا وزیر اعظم بدعنوانی کے ایک ایسے اسکینڈل میں خود توصیفی کی میڈیا مہم جوئی میں مصروف تھا جس میں فیصلہ کرنے والا وہ خود اور لوٹنے والے اس کے قریب ترین معتمد تھے۔

وزیر اعظم نے آج تین ماہ کے لئے ایک کروڑ بیس لاکھ لوگوں کو 12 ہزار روپے ماہانہ فراہم کرنے کے جس پروگرام کا اعلان کیا ہے، وہ اگرچہ ایک خوش آئیند منصوبہ ہے جس پر آئیندہ تین ماہ کے دوران حکومت 144 ارب روپے صرف کرنے یا ملک کے غریب ترین لوگوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک بھر میں 17 ہزار مراکز بنانے اور نو تشکیل شدہ کورونا ئیگر فورس کو استعمال کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ آسان لفظوں میں سمجھا جا سکتا ہے کہ سرکاری خزانہ سے فراہم کی گئی دولت کو حکمران جماعت کی سیاسی شہرت اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ایک شدید بحران کے دوران کورونا ٹائیگرز نام سے تحریک انصاف کے حامیوں کا گروہ جمع کرنے اور شدید ترین مشکل میں گھرے ہوئے لوگوں کو رقوم یا راشن پہنچانے کے لئے اس نئے گروہ کو استعمال کرنے کے طریقہ پر ملک کے ہر طبقہ کی طرف سے تحفظات سامنے آچکے ہیں۔ حتیٰ کی تحریک انصاف کے غالی حامی عناصر نے بھی اس طریقہ کو نامناسب قرار دیا ہے۔

ملک میں رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے سینکڑوں ادارے مصروف عمل ہیں جن میں سے درجنوں حکومت کی کسی بھی قسم کی اعانت یا سرپرستی کے بغیر عوام کے عطیات سے صحت اور سماجی شعبوں میں اہم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے پاس بھی ایسا وسیع انتظامی ڈھانچہ موجود ہے جو اس قسم کی ہنگامی امداد تقسیم کرنے کا کام پروفیشنل انداز میں شفافیت کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان نے عجلت میں نئی یوتھ فورس جمع کرنے اور اس کے ذریعے قومی وسائل کو تقسیم کرنے پر اصرار کیا ہے۔ اس کی کوئی دلیل یا حجت اب تک سامنے نہیں آئی۔

یہ بات بھی باعث حیرت ہے کہ حکمران تحریک انصاف موجودہ بحران میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ نہ ہی اس پارٹی نے اپنی صفوں کو منظم کرکے رضاکار جمع کرنے اور عوام کی امداد کے کسی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن عمران خان وزیر اعظم کے عہدے اور اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے حامی نوجوانوں کے گروہ کے ذریعے سرکاری وسائل تقسیم کرنے کے منصوبے کا آغاز کررہے ہیں۔ اس پروگرام میں ناانصافی، جماعتی وابستگی کی بنیاد پر وسائل کی فراہمی اور بدانتظامی کی شکایات سامنے آتے دیر نہیں لگے گی۔ کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والے بحران میں ایسا فیصلہ نہ صرف غریبوں کی بروقت مدد کرنے کے کاز کو نقصان پہنچائے گا بلکہ اس حوالے سے نت نئے سوالات بھی سامنے آئیں گے۔ وزیر اعظم کا یہ قدم سرکاری وسائل کی بنیاد پر ایک پارٹی کو غریبوں کا مسیحا قرار دینے کی بھونڈی کوشش بن کر رہ جائے گا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال نے عمران خان کو یہ موقع فراہم کیا تھا کہ وہ ایک پارٹی کے لیڈر بننے کی بجائے قوم کے رہنما بن جاتے اور صرف اپنے حامیوں کے وزیر اعظم کی بجائے پورے ملک اور سیاسی وابستگی سے قطع نظر سب عوام کے قائد بنتے۔ بسا اوقات بحران پست قامت لیڈروں کو بلند قامت ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں لیکن کورونا وائرس کے بحران میں عمران خان ہر آنے والے دن کے ساتھ اپنا قد چھوٹا کررہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1506 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “سیاسی قیادت کی توقیر کا راستہ بلوچ ہم وطنوں کے دل سے گزرتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *