عالمی وبا کے دن اور عالمی اجتماعی نظر کا فقدان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تو اس صدی کے نصیب میں یہ عالمی وبا لکھی تھی! وبا، جس نے ایک ہی وقت میں پوری زمیں کی گلیوں اور رستوں کو ویران کر دیا، بازارون کے شٹر گرا دیے، انسان چاردیواری کے ساتھ اپنی ہی سوچ کے شکنجوں میں گرفتار، حیرت زدہ، یہ سب پہلی بار دیکھ رہا ہے کہ جب ایک وبا پورے عالم کو ایک ہی وقت اپنے احاطے میں جکڑ لیتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ یہ بات اس وجہ سے بھی حیرت زدہ کر دیتی ہے کہ عالمی جنگوں کے دنوں میں بھی زمین اس طرح مفلوج نہیں ہوئی تھی۔ کورونا جاتے جاتے دنیا پر جو اثر چھوڑے گا ان میں سے ایک یہ بھی ہوگا کہ اس موضوع پر تعلیمی و تدریسی شعبہ جات اس صدی کا آنے والا وقت تحقیق کر کے حیرت انگیز نتائج سامنے لاتے رہیں گے۔

اس مضمون کا اہم ترین سوال آج کے انسان کے لیے بھی اہم سوال ہے، کہ اس موتمار اجتماعی ایمرجنسی کے دوران کونسی اجتماعی سوچ و فکر کا اظہار ہو جس سے انسانی عظمت کا تہذیبی شان و شعور واضح نظر آئے؟ کہ اکیسویں صدی میں انسانوں نے اس وبا سے اپنی مکمل ٹیکنالاجیکل اور دوسرے وسائل کے باہمی استعمال اور اجتماعی ساتھ کے ساتھ کتنا جلد چھٹکارا حاصل کیا! لیکن حقیقت اذیت ناک ہے، اس سے پہلے کے دنیا کے انسان ایک اجتماعی قوت بن کے ابھرنے کا یہ موقع گنوا دیں، ہمیں گہرائی سے کچھ پہلوؤں پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

یہ وقت تھا کہ سب ممالک اپنے مسائل ایک جانب رکھ کر اپنے وسائل اس وبا کے جلد خاتمے پر لگاتے، لیکن افسوس کہ امریکا اور ان کے حمایتی ممالک ایران و وینزویلا سمیت ممالک پر تحریمات (sanctions) اور کچھ ممالک میں (یمن، صومالیہ) میں ہتھیاربند تنازعات کی پشت پناہی کر کے عوامی اموات کی تعداد بڑھا رہے ہیں، جو کہ ایک بدترین جرم ہے۔

پینٹاگان نے حکم جاری کیا ہے کہ عراقی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر حملہ کی تیاریاں کی جائیں، جواز دیا جا رہا ہے کہ یہ حملے اس لیے ضروری ہیں کہ ایران عراق میں امریکی اڈوں پر حملوں پر ملوث ہے۔ پینٹاگان کے اس بیان کو خود عراق میں تعینات امریکی کمانڈر نے رد کر دیا ہے کہ ایسے اقدام سے ایران کے ساتھ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ پینٹاگان کورونا وائرس کو ایران کو دیوار کے ساتھ لگانے کا ایک اہم موقع سمجھ رہا ہے۔ آج کل جو مفروضہ بازار میں گرما گرم کیک کی طرح بک رہا ہے وہ ہے کہ ایران امریکہ پر حملہ کرنے والا ہے۔

یہ احمقانہ پرویگنڈا اصل میں ایک بہت ہی خطرناک صوتحال کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ جو امریکی سیاست کی گھناؤنی سازشوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ امریکہ ہر خطہ میں ایسے ہی الزام لگا کر داخل ہوتا رہا ہے۔ اب تو بچہ بھی اس چالاکی کو سمجھ سکتا ہے کہ کہیں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا کر حملوں کا جواز بنایا جاتا ہے، 60 کی دہائی میں ویتنامی کیتھولک و بدھسٹ گروہوں میں مذہبی تنازعات شروع کروا کر، 50 کی دہائی کے عین آخر میں میرونائیٹ عیسائی اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑوں کو سازش سے شروع کروا کر ان کو جواز بنا کر پہلی بار مشرقِ وسطہ میں داخل ہونا، سوشلزم کے انسان دشمن ہونے کا پروپیگنڈا کر کے عوام میں روس اور سماجواد ریاستوں کے خلاف ہیجان پیدا کرنا، یا خلائی مخلوق کا خوف پیدا کر کے عوام کو یکجہتی کا درس دینا، اصل میں یہ ایسے کئی اور پروپیگنڈا کے گُر عوام کو اصل مسئلے سے دور کرتے ہیں ایسی سستے جھوٹے پروپیگنڈا کو کارپوریٹ میڈیا کے بکاؤ ادارے مہنگے داموں خرید کر کے منفی حربوں سے پھیلاتے ہیں۔ با الخصوص امریکی عوام ایسے سستے پروپیگنڈوں کے زبردست خریدر ہیں۔ امریکی عوام سمجھتے ہیں کہ امریکا مظلوم اقوام کا ہیرو، ظلم کا خاتمہ کرنے کے لئے دنیا میں نکل پڑا ہے۔ تو یہی طریقہ ایران کے خلاف استعمال کر کے امریکی عوام میں یہ وہم پیدا کیا جا رہا ہے کہ چونکہ ایران ہم پر حملہ کرنے والا ہے، اس لیے اس پر حملہ لازمی ہے۔ اس سے پہلے ایران کے ہر دلعزیز کمانڈر سلیمان قاسمی کو مارا گیا، اب کورونا نے ایران میں ایمرجنسی قائم کی ہے، اس کا فائدہ اٹھا کر تحریمات کو سخت کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جرنل انتونیو گٹریس نے اپیل کی ہے کہ ایک جانب وائرس کا خوف ہے تو دوسری جانب دنیا میں کچھ ممالک کی حماقت کی وجہ سے جنگی تنازعات جاری ہیں، لازم ہے کہ ان کو فوراً بند کیا جائے تاکہ وسائل کووِڈ 19 پر استعمال کیے جائیں۔ ان کے الفاظ میں ”Silence the guns; stop the artillery; end the airstrikes۔ “ بندوق کو خاموش کیا جائے، ہتھیاروں کو روکا جائے اور ہوائی حملے بند کیے جائیں ”۔

لیکن امریکا کے اپنی انسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ساتھ کوئی بہتر تعلق نہیں رہے۔ امریکا وہاں پر بھی ساری انسان دوست قانون سازی کو اپنے ویٹو پاور کے ذریعے رد کرتا ہے، تاکہ اس کی فوجی مقاصد و جارحیت کے سامنے کوئی قانونی رکاوٹ نہ ہو۔ مثال کے طور پر، فلسطینی ورثے کو شامل کرنے پر امریکا نے یونیسکو کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ یا اقوام متحدہ کے اجلاس میں پچھلے سال نومبر میں 190 ممالک میں سے تین (آمریکا، اسرائیل، برازیل) کو چھوڑ کر 187 ممالک نے ووٹ دیا کہ کیوبا پر لگی پابندیاں ہٹا دی جائیں، گزشتہ 28 برس سے یہی ہو رہا ہے۔

ایران کے ساتھ بھی یہی روش ہے یا تو امریکا کو ایران سے کوئی بیر ہے، یا کوئی نفسیاتی وہم یا پیرانیا ہے، اس کے ظاہری اسباب جو کہ بتانے کے ہیں، وہ کچھ اور ہیں اور باطنی کچھ اور۔ سب جانتے ہیں کہ ایران  COVID۔ 19 کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ ایران کے لئے صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایران ہسپتالوں میں دوائیوں، آکسیجن اور سانس لینے والے اوزار کی کمی ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ پابندیاں قائم رکھ کر ایران کے وائرس کے خلاف اقدامات کو کمزور کر رہی ہے۔ امریکی کانگریس کے تیس ممبران بشمول سینیٹر برنی سینڈرز اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو ایران پر سے پابندیاں ہٹا کر اس کو فلاحی سروس مہیا کرنے کا لکھا ہے تاکہ اس وبا کا با آسانی مقابلہ کیا جا سکے۔ اس خط کے متن میں یہ پرزور انداز میں لکھا گیا ہے، کس طرح اس حالت میں ایران پر نئی تحریمات متعارف کی جارہی ہیں؟

ان تحریمات کی وجہ سے ایران اپنا تیل نہیں بیچ سکتا، وائرس کی تشخیص و اعلاج کے لئے لازمی اوزار لانے میں رکاوٹیں ہیں، ایرانی ریال ان تحریمات کی وجہ سے اسی فیصد کم ہو گیا ہے۔ جہاں تک تیل کا تعلق ہے، ایران ہر روز 250000 بیرل سے زیادہ تیل فروخت نہیں کر سکتا، جو کہ 2015 کے ایگریمینٹ کے بیوپار کا دسواں حصہ مشکل سے ہے۔ امریکہ نے اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی ہے، ایک محاذUnited against Nuclear Iran (UANI) تیار کیا ہے جو کہ فارما کمپنیوں کو مخصوص قسم کے لائنسس دیتا ہے تاکہ وہ ایران کے ساتھ بزنس نہ کر سکیں جو کہ عوامی دشمنی کی انوکھی مثال ہے۔ یہ موقف اصولی طور پر غلط ہے کہ دنیا کا سب عوام انسانی حقوق رکھتے ہیں لیکن ایران کے عوام ان حقوق سے محروم ہوں گے۔ اس صورتحال میں ایران کا سب سے زیادہ مدار چین پر ہے، جو کہ امریکی پابندیوں کو نظرانداز کر کے ایران کے ساتھ اقتصادی روابط جاری رکھ رہا ہے۔ تربیت یافتہ میڈیکل اسٹاف کے ساتھ اشیائے ضرورت بھیج رہا ہے۔ دوسری جانب کیوبا بھی جو ایک طرف خود تحریمات کو بھگت رہا ہے، اور دوسری جانب دنیا کو اپنے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف بھیج رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ان ہنگامی حالات میں یہ صرف ایک ایران نہیں ہے، امریکہ کی فاشسٹ پالیسیوں کو بہت سارے ممالک بھگت رہے ہیں۔ صومالیہ میں بمباری کیوں ہو رہی ہے؟ یمن میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو رہی؟ وینزویلا پر پابندیاں کیوں ہیں؟ زمبابوے کے ساتھ آخر ٹرمپ انتظامیہ کو کیا مسئلہ ہے؟ وینزویلا کینسر اور ذیابیطس کی دوائیاں ان تحریمات کی وجہ سے نہیں منگوا سکتا، جس کی وجہ سے ملک میں ہر سال 40000 لوگ مر رہے ہیں، یہ تعداد و شمار واشنگٹن کے تحقیقی ادارے Center for Economic Policy Research  کی روپوٹ ہے۔ روس، چین، نکاراگوا، شمالی کوریا، شام پر تحریمات کیوں قائم ہیں؟ ایک ہی وقت لاطینی امریکا، کیریبیئن، مشرق وسطیٰ، شمالی اور سب صحارن افریقہ ہی امریکی سیاسی ہتھکنڈوں کا محور کیوں ہیں؟ ان ملکوں نے مل کر اقوام متحدہ کو ایک بیان بھیجا ہے کہ امریکی پابندیاں غیر قانونی ہیں، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، جو کہ ان حالات میں وبا کے ساتھ لڑنے میں بڑی رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

یہ بیانات پینٹاگان کے انسان دشمن خدوخال میں کیا پالیسی شفٹ لا سکتے ہیں؟ کچھ بھی ہو، لیکن ایک امید قائم ہے، ان سنگین حالات میں انسان کی شعوری تربیت ہو رہی ہے، اس وقت سرمایہ دار ممالک کے معاشروں میں انسانی رویوں میں حساسیت جنم لے سکتی ہے، جو کہ سماج کے سیاسی، معاشی اداروں میں ایک بہت بڑی انسان دوست تبدیلی لا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر سحر گل

سحر گل بینظیر بھٹو چیئر کراچی یونیورسٹی کی ڈائیریکٹر، محقق، کالم نگار، ناول نگار و افسانہ نگار اور اردو کی شاعرہ ہیں.

sahar-gul has 5 posts and counting.See all posts by sahar-gul

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *