علیم خان کا رانا ثنا اللہ سے پنجاب کی بدلتی سیاسی صورتحال پر رابطہ: دی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز انگریزی اخبار دی نیوز نے صحافی نور آفتاب کی بائی لائن کے ساتھ آج یہ خبر دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رکن علیم خان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صوبائی صدر رانا ثنا اللہ کے ساتھ فون پر رابطہ کر کے خاص طور پر پنجاب کے تناظر میں ملک کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

خبر کے مطابق علیم خان نے رانا ثنا اللہ سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ وہ کچھ اہم امور پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے فوراً رابطہ کیا اور اس پیشرفت کے متعلق بتایا جنہوں نے انہیں اس بارے میں مزید ہدایات تک انتظار کرنے کا کہا۔

ذرائع کے مطابق رانا ثنا اللہ، تحریک انصاف کے اس غیرمطمئن رکن کو شہباز شریف سے ہدایات ملنے کے بعد جواب دیں گے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ تمام سیاسی آپشنز کا جائزہ لے گی مگر تحریک انصاف کے ایسے عناصر سے ایک محفوظ فاصلہ برقرار رکھے گی جو مبینہ طور پر آٹے اور چینی کے بحران میں ملوث تھے اور اس سے اربوں روپے کمانے کا الزام ان پر لگا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ علیم خان نے اس سے قبل بھی اس وقت رانا ثنا اللہ سے رابطہ کیا تھا جب انہیں عمران خان سے بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے سائیڈ لائن کر دیا گیا تھا۔ جب رانا ثنا اللہ کو منشیات کے متنازع مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تو علیم خان نے انہیں ٹیکسٹ میسیج بھیج کر امید ظاہر کی تھی کہ وہ اس مقدمے میں باعزت بری ہو جائیں گے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ جب دی نیوز نے مسلم لیگ ن کے لیڈر رانا ثنا اللہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”میری علیم خان سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ہم نے ملک کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے“۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”یہ کہنا بہت قبل از وقت ہے کہ مسلم لیگ ن اور علیم خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا غیر مطمئن گروپ مل کر پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی لانے کے لئے کوششیں کریں گے کیونکہ ہماری پارٹی کا اس بارے میں ایک اصولی موقف ہے“۔

انہوں نے کہا کہ ”پہلے ہم انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں اور اس کے بعد ہم نئے جنرل الیکشن کے متمنی ہیں لیکن اس ہدف کی تکمیل سے قبل کچھ عبوری انتظامات کیے جا سکتے ہیں“۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہیں نے کہا کہ ”اگر کوئی کہتا ہے کہ علیم خان کے پاس پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے (محض) بیس سے پچیس اراکین کی سپورٹ ہے تو وہ انہیں انڈر ایسٹیمیٹ کر رہا ہے۔ میں ذاتی طور پر تحریک انصاف کی صفوں میں ان کی اصل طاقت سے آگاہ ہوں اور وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔ “

خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب علیم خان کو تحریک انصاف کی حکومت میں ہی گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں تو انہوں نے ان سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ عمران خان ان کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہیں۔

”اسی طرح جب مجھے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تو علیم خان نے مجھے پیغامات بھیجے تھے اور بتایا تھا کہ وہ اس پر تحفظات رکھتے ہیں۔ تو ہم ایک اچھا باہمی تعلق رکھتے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہا ہے“۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب سے تحریک انصاف کے چند دوسرے اراکین نے ماضی میں مسلم لیگ ن سے رابطہ کیا تھا لیکن اس وقت مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ عوام کے حق میں کسی واضح سیاسی ایجنڈے کے بغیر پاور پالیٹکس کا حصہ بننا بیکار ہو گا۔

علیم خان نے اپنے ویریفائیڈ ٹویٹر اکاونٹ سے دی نیوز کی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے مندرجہ ذیل ٹویٹس کی ہیں:

”رانا ثناء اللہ سے کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی، خبر من گھڑت ہے۔ مجھے یقین نہیں کہ رانا ثناء اللہ نے اس طرح کا کوئی بیان دیا ہوگا۔ تحریک انصاف کاحصہ تھا، ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔ عمران خان کا مشکل میں ساتھ دیا اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا۔ “

”میرا فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے جب ضرورت ہوئی حاضر ہوں۔ 2011 میں تبدیلی کے لئے پی ٹی آئی میں شامل ہوا اور اب تک ساتھ ہو۔ ملک میں تبدیلی عمران خان ہی لا سکتے ہیں، اُن کی نیت پر شک نہیں، اس طرح کی خبروں کے پیچھے بعض لوگوں کے مخصوص عزائم ہوتے ہیں۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *