غرناطہ کی چھتوں پر اذان نہیں، اذانیں

ہم پاکستانیوں کے لیے کرونا کی یہ افتاد کچھ اتنی نئی تو نہیں ہاں البتہ اس کی سنگینی بہت گمبھیر ہے۔ دہشت گردی جیسے عفریت کو کِس طرح اِس قوم نے بھگتا ہے، یہ کوئی ہم ماؤں سے پوچھے، جن کے دلوں کی ہر دھڑکن اور سانسوں کی ہر تار میں عافیت اور خیر کی دعائیں پروئی ہوتی تھیں۔ بات کو طول کیا دوں، اِن بڑی طاقتوں کے مفادات غلبے اور حرص و ہوس کے ہتھکنڈے کیسے ہم کمزور ملکوں کو خون میں نہلاتے رہے ہیں۔ خدا تو انہیں کہیں یاد ہی نہیں تھا۔
پچھلے دنوں مذہبی رواداری اور یگانگت کے بہت سے مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ اِن میں ٹرمپ کا تلاوت سننا، بل گیٹس کا کہنا یہ ہمیں سکھانے آیا ہے۔ روحانی طاقت کا اعتراف، ویٹی کن سٹی میں سورہ رحمن کا گونجنا اور اسپین میں صدیوں بعد اذان کی آواز۔ اخبارات نے اسپین میں اذان کو جس طرح نمایاں جگہ دی، وہ کہیں اس کرب کی تسکین کا اظہار تھا جو ہم عام بے عمل سے مسلمانوں کی جذباتیت سے جڑا ہوا ہے۔ جہاں انہوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔
اسپن سیاحت کے حوالے سے اہم ملک۔ مورش تہذیب کا نمایندہ جس نے صدیوں مور مسلمانوں کے اُس علمی، ادبی فکری، سائنسی، تعمیری، تہذیبی و تمدنی اثاثوں کو نظر انداز کیا۔ یہاں بریفالٹ کو خراج تحسین پیش کرنا پڑے گا، جس نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ عربوں نے کوئی نیوٹن اور کوپر نیوکس پیدا نہیں لیے، لیکن انہوں نے جو کچھ یورپ کو دیا اس کے بغیر کوپر نیوکس اور نیوٹن پیدا ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ تاہم گزشتہ صدی نے اہل اسپین کو اس کا احساس دلایا اور انہوں نے اِس کا اعتراف کیا۔
آٹھ جولائی 2003ء کا یہ حبس آلود سا دن تھا۔ اخبارات اور ٹی وی نے ایک ایسی خبر نشر کی تھی جس نے آنکھیں بھگو دی تھیں۔
خبر الجزیرہ ٹیلی ویژن لائیو نشر کررہا تھا۔ غرناطہ کی اِس نئی تعمیر شدہ مسجد کے موذن کا مینا ر پر چڑھنا اور نصف ملنینیم کے طویل عرصے بعد اللہ اکبر کی صدا کا گونجنا کیسا ایمان افروز واقعہ تھا۔ اس کو بنانے کے لیے کتنا انتظار کرنا پڑا۔ اس کی تفصیل بڑی طویل ہے۔ تعریف و تحسین کے لفظ بہت چھوٹے ہیں اُن پندرہ سولہ ہزار ہسپانوی مسلمانوں کے لیے جن کے اندر عزم صمیم کی لو، اُنہیں سرگرم رکھتی تھی۔ مسلسل جدوجہد، مسلسل کوشش۔ حکومتی سطح پر ارکان کی مخالفت بہت شدید تھی۔
تاہم ایک وقت ایسا آیا کہ سیاسی طور پر مسلسل بلند ہونے والی اِس آواز کو دبانا مشکل ہو گیا۔ یواے ای اور شارجہ کے حکمران نے اِس کے کم و بیش سارے اخراجات اٹھائے تھے۔
نصف صدی سے بھی زیادہ کی کاوش کا یہ حسین تحفہ اس کی خوبصورت اپنی طرز کے منفرد اکلوتے مینار کی چھوٹی سی جگہ پر جب موذن نے اللہ اکبر کی صدالگائی تو غرناطہ کی پہاڑیوں، غرناطہ کے میدانوں، اس کی ہواؤں، اس کی فضاؤں میں وہ آواز گونجی تھی جسے سُنتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔
اور اب البیازین کے گھروں کی چھتوں پر اذانیں گونجی تھیں۔ پروردگار عزتیں اور ذلتیں دینا صرف تیرا ہی کام ہے۔
تین سال قبل اکتوبر کی ایک میٹھی سی دُپہر جب میں غرناطہ میں تھی تو اُس مسجد کو دیکھنے کے لیے مری جا رہی تھی۔ اب شہرہ آفاق الحمرا محل کی ڈھلانوں پر بکھری مسلمانوں کی عرب تہذیب و ثقافت کی نمایندہ بستی البیازین جانے اور اس کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھنے کے لیے جا رہی ہوں۔
سیاہ آہنی گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ دعائیں ہونٹوں پر تھیں۔ درختوں سے گھری خوبصورت روشن اور فوارے سے سجی اپنی پشت پر الحمرا اور پہاڑوں کے منظر دکھاتی یہ کیسی دل کو بھائی تھی۔
اور جب اذان کی آواز گونجی۔ یہ وجد کی سی کیفیت تھی جو ہم دوستوں پر طاری ہوئی۔ اندر ایک روح پرور منظر ہمارا منتظر تھا۔ حددرجہ خوبصورت اور پرکشش محراب و منبر بھی اپنی نوعیت میں منفرد لگے۔ نماز ادا کی۔ شکر تھا۔ دعائیں تھیں اور گہری عبودیت کا اظہار تھا۔
پلازہ سان نکولس کے کشادہ ٹیرس کی منڈیر پر بیٹھنا، موروں کے اِس شاہکار محل کی برجیوں، میناروں کو چمکتے سونے جیسی دھوپ میں دیکھنا اور عقب میں سیرا نویدا کے کہیں کہیں برف میں ڈھنپے پہاڑوں کو سائبانوں کی طرح مستعد محسوس کرنا جیسا مسرور کرنے والا کام بھی ہم نے وقت کی قید سے جیسے بے نیاز ہو کر کیا۔
اوپر والے کی احسان مندی تو ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ بھلا جو جگہ بل کلنٹن کی یادوں میں کھلبلی مچاتی رہی ہو اور جسے وہ دنیا کا بادشاہ بن جانے پر بھی دیکھنے کے لیے آئے کہ وہ اِس سے بہت متاثر ہوا تھا۔ تو کہنا پڑے گا کہ سارا منظر کسی شاہکار پینٹنگ کی طرح لگتا تھا کہ جسے دیکھتے جاؤ اور دل نہ بھرے۔
حسین اور موہ لینے والا تو سب کچھ تھا مگر پس منظر میں جو دکھ اور کرب تھا اس کا احساس تو اِس دل کو ہی تھا کہ چرچ تو کبھی مسجد تھی جہاں سجدہ دیا جاتا تھا اور درختوں سے سجا یہ کشادہ سا پلازہ کبھی قلعہ تھا۔ Alcazaba Kadima جس کا کوئی ٹوٹا پھوٹا نشان تو نظرآتا ہے۔ باقی سب صفایا ہو گیا ہے۔
در اصل Alcazaba کے ساتھ بھی تو بڑی تلخ سی یاد وابستہ ہے کہ جب غرناطہ کا سقوط ہوا تو پہلا کام تو گھنٹی کا نصب کرنا تھا جو رومن کیتھولک عقیدے کے مطابق ایمان کا حصّہ ہے۔ لاویلا اسی کو کہتے ہیں۔ 2جنوری کو گھنٹی کا بجنا 1492 غرناطہ کو واپس لینے کا دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔ سچی بات ہے یہ البیازین ایسا حسین و جمیل ٹکڑا ہے کہ جسے جتنا دیکھو اُتنا کم۔ اسے جب تک انسانی آنکھ سے نہ دیکھا جائے اس کے حسن کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔ تنگ تنگ خم دار گلیوں والا یہ البیازین جو مورش تہذیب و تمدّن کے آغاز سے سجا قرون وسطیٰ کا حسن آنکھوں کے سامنے مجسم کرتا ہے۔
البیازین کے جس محرابی دروازے سے ہم اندر داخل ہوئے وہ گیٹ آف Puerta Elvira قدرے سرخی مائل بھورا تھا۔ نام کے بارے بہت سی روایات ہیں۔ مجھے تو صرف ایک حقیقت کے قریب تر لگی تھی کہ جب لگ بھگ کوئی تیرہویں صدی کے کم و بیش وسط میں مسلمانوں کو بیاز اBaeza شہر سے عیسائیوں نے دیس نکالا دیا، تو وہ بھاگ کر غرناطہ کی اِن شمالی پہاڑیوں پر آباد ہو گئے اور انہوں نے اِس مضافات کو اپنے پرانے شہر کا نام دیا۔ جسے آج البیازین کہا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ال کذابا تھا۔ اور قرطبہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کی طاقت کا سارا مرکز غرناطہ بن گیا۔ شہر خوبصورت مسجدوں سے سج گیا۔ یہ کوئی آٹھ دس نہیں، پچیس تیس کے لگ بھگ تھیں۔ خوبصورت مکانات، بازار محرابی بڑے بڑے چوبی پٹوں والے گیٹ یا باب، ڈھلانی گلیاں، سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بستی کا روپ دھار گئی جو آج بھی اپنی اسی انفرادیت کے ساتھ قائم ہے۔
یہاں کے بہت سارے چرچ تو وہ ہیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں پر بنائے گئے ہیں۔ بعض خوبصورت مینار بیل ٹاور بنا دیے گئے۔ اِن میں سب سے خوبصورت اور حسین Al Minar de San Colegita اور اس کا صحن تھا جو کہ کبھی مسلمانوں کی بہت بڑی مسجد تھی۔ جو چرچ آف del Salvador سے منسلک کر دیا گیا تھا۔
چرچ کی یہ کہانی اس ظلم و زیادتی کو بہت اچھی بتاتی ہے کہ اسلام کو عیسائیت میں بدلنے کے کیا کیا جتن ہوئے۔ اور ان کے اپنے شہر میں مسلمانوں اور ان کے ساتھ ساتھ یہودیوں پر بھی ظلم و ستم کے کون کون سے پہاڑ نہیں ٹوٹے۔
اس گیٹ سے اندر داخل ہونا گویا اس عہد قدیم میں داخل ہونے کے مترادف تھا۔ یہاں کہیں کہیں دیواروں پر بکھری خستگی اور کہنگی بھی نظر آئی۔ کہیں بلند و بالا پتھریلی اینٹوں اور پتھروں کی سیڑھیاں جو گھروں کے ساتھ ساتھ اوپر چڑھتی چلی جاتی تھیں۔ پھول پتے بیلیں گملے بھی آنکھوں کو طراوت دیتے تھے۔ جس گلی میں جاتے کچھ نہ کچھ وہاں مختلف ہی نظر آتا۔ کہیں کوئی محرابی دروازہ توجہ کھینچتا۔ کہیں گلی یا تنگ دہانہ کسی الف لیلوی داستان کی طرح پھولوں سے چمکتے کِسی میدان میں دھکیل دیتا۔ کہیں چونے اور گچ میں گندھے مکان نظر میں پڑتے ہیں۔
البیازین۔ یہ کیسا جہان اور کیسی دنیا تھی۔ قدامت کے حسن میں پورم پور ڈوبی۔ نئے رنگ کے پینٹ پالش رنگ روغن کے غاز ے میں لپٹی ہوئی۔ ورلڈ ہیرٹیج کی گود لی ہوئی۔ عربوں کے شاندار ورثے کی مالک۔
شائقین کا ہجوم تھا۔ بیگ کندھوں سے لٹکائے جتھوں کی صورت پروانوں کی طرح اس کی گلیوں میں منڈلاتے پھرتے تھے۔ کہیں گھروں کی بالکونیاں اور فرنٹ کی دیواریں آرائشی نوادرات سے سجی آپ کی آنکھوں سے اشارے بازیاں کرتی تھیں۔ کہیں کشادگی اور کہیں اتنی تنگی کہ دو منزلہ سہ منزلہ گھروں کی بالکونیوں اور دریچوں سے ذرا سا ہی ہاتھ بڑھانے سے سالن اور چائے کے کپ کا لین دین ہو جائے۔ مکانوں کی چھتیں اور چوباروں کی کھڑکیاں ایک دوسر کے گھر میں گویا کھلتی تھیں۔ گلیوں کے نام کہیں چونکاتے تھے۔ گو بگڑے ہوئے تھے مگر ذرا سا زور دینے اور تھوڑی سی فکر ماضی سے ناتا جوڑ دیتی تھی۔
کہیں پیڑوں پر سجے سنگترے، مالٹے۔ ہائے جی چاہتا تھا توڑ کر کھائیں۔ کہیں سے لون مرچ مل جائے تو چٹخارے بھرتے ہوئے بچپن آنکھوں کے سامنے آ جائے گا۔ کہیں چڑھائی، کہیں اُترائی، کہیں پھول، کہیں بیلیں، کہیں پیڑ، کہیں درخت۔ سب اس کا حسن بڑھانے کا باعث ہیں۔
سب سے زیادہ لُطف سان نکولس چرچ کے احاطے میں آیا جہاں اونچی منڈیر پر ٹورسٹوں کے پرے بیٹھے ان رنگ رنگیلے جپسیوں کے فلیمنکو گیت اُن کے گٹاروں پر سنتے تھے۔ اِس منظر کا حصّہ بننے میں ہم نے لطف اٹھایا۔






How did these Muslims reach Spain? As friendly tourists? And what is happening to the churches in Muslim countries now? Think about the feelings of the Berbers when they were massacred bythe Arabs.