وبائیں سبھی بھیانک تھیں!



کرونا وائرس جیسی وباؤں، فلو جیسی آفات اور طاعون نے نسل انسانی کو ابتدا سے تباہی سے دوچار کیا ہے۔ ان میں سے اکثر و بیشتر آفات نے انسانی تاریخ اور تہذیب کو بر ی طرح متاثر کیا۔ وقت کے تھپیڑوں نے انسان کو یہ سوچنے پہ مجبور کیا کہ اسے اپنی اور آنے والی نسلوں کی بقاکے لیے خود کو پہلے سے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

آج ہم ایسی ان گنت وباؤں میں سے چھ کاتذکرہ درج ذیل سطور میں پڑھیں گے۔

H 1 N 1 سوائن فلو: 2009۔ 2010

اس وائرس کا سب سے پہلا کیس میکسیکو میں سامنے آیا اور 2009 کے موسم بہار سے پہلے یہ باقی ممالک میں پھیل گیا۔ ایک سال کے اندر اس وائرس نے ایک سو چالیس کروڑ لوگوں کو دنیا بھر میں متاثر کیا۔ امریکی ادارہ سینٹر آف ڈیزیز اینڈ پریونشن کے مطابق 2009 کی اس وبا نے زیادہ تر بچوں اور نوجوان افراد کو متاثر کیا۔ 80 فیصد کے قریب اموات ان افراد کی ہوئی جن کی عمریں 65 سال سے کم تھیں۔ یہ ایک غیرمعمولی بات تھی کیونکہ اس سے پہلے جتنی بھی اقسام کے موسمی فلو تھے وہ 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔

H 1 N 1 سے متاثرہ شخص بخار اور سانس لینے میں معمولی سی دشواری محسوس کرتا تھا، جس کی وجہ سے کھانسی، نزلہ اور دم گھٹنے جیسے احساسات سے دوچار ہوتا۔ کچھ متاثرہ افراد میں شدید علامات بھی دیکھنے میں آئی جیسا کہ پیچس لگنا، سردی لگنا، قے آنا، جبکہ چند ایک مریضوں کے اندر سانس لینے میں شدید مشکل محسوس کرنے جیسی علامات بھی دیکھی گئی۔

یہ وائرس متاثرہ شخص کے ساتھ ملنے جلنے، وائرس زدہ جگہ سے یا پھر متاثر شخص کے منہ سے سانس لینے یا کھانسنے کے عمل سے خارج ہونے والے قطروں کا سانس کی نالی کے ذریعے صحت مندانسان کے جسم میں داخل ہو جاتا تھا۔ اس وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے چند ایک احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ضروری تھا، جس میں صفائی ستھرائی کی عادت کو اپنانا، خاص طور پر ہاتھوں کو بار بار دھونا، چہرہ کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھنا اور گردونواح میں موجود تمام اشیا ء کو ممکنہ حد تک اس وائرس کی زد سے پاک رکھنا تھا۔ اس وائرس سے واحد بچاؤ ویکسین تھا۔

(اس مرض کی علامات کرونا وائرس سے ملتی جلتی ہیں۔ شاید اسی لیے سوشل میڈیا پر لوگ اسے 2011 میں بننے والی انگلش فلم ”کنٹی جن“ سے جوڑ رہے ہیں۔ )

ایڈز: 1981 سے لے کر آج تک

ایک محتاط اندازے کے مطابق جب پہلی بار ایڈ ز کی تشخیص ہوئی اس وقت تک یہ 350 لاکھ زندگیوں کو متاثر کر چکا تھا۔ یہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے والا مرض ہے۔ یہ انسانی جسم کے اندر بہت آہستگی سے حملہ آور ہوتاہے، اس لیے جب اس کے حملہ کا ادراک ہوتاہے تب تک یہ انسانی جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو تباہ و برباد کر چکا ہوتاہے۔ جس کی وجہ سے انسانی جسم دیگر بیماریوں کے خلاف بھی قوت مدافعت کھو دیتا ہے اور دفاعی نظام کی یہ کمزوری بالآخر متاثرہ شخص کی موت کا سبب بنتی ہے۔

ایچ آئی وی وائرس ایڈز کاباعث بنتا ہے۔ غالب گما ن یہ ہے کہ 1920 کی دہائی میں مغربی افریقہ کے اندر یہ وائرس چمپینزی اور گوریلوں سے انسان میں منتقل ہوا۔ پھروہاں سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل گیا اور بیسویں صدی کے اختتام تک یہ ایک وبا کی شکل اختیار کرگیا۔ ایچ آئی وی وائرس متاثرہ شخص کے جسم سے خارج ہونے مائع سے منتقل ہوتا ہے۔ یہ مائع متاثرہ شخص کا خون، منی یا بریسٹ فیڈنگ سے منتقل ہوسکتاہے۔ دنیا بھر میں اس منتقلی کی بنیادی وجہ متاثرہ شخص کے ساتھ ہم بستری ہے۔ اس کے علاوہ یہ نشہ کرنے والے افراد کے درمیان بھی تیزی سے پھیلتا ہے کیونکہ وہ استعمال شدہ سرنج کا آپس میں تبادلہ کرتے ہیں۔

کئی دہائیاں گزر چکی ہیں مگر اس مرض کا باقاعدہ علاج سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن 1990 ء میں اس مرض سے لڑنے کے لیے بنائی گئی ادویات نے انسان کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ باقاعدہ اور مسلسل علاج کی بدولت ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

سب سے زیادہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 2020 کی ابتدا میں دو لوگ ایچ آئی وی کو شکست دے چکے ہیں۔

ایشیائی فلو: 1957۔ 1958

اس وبا کی تشخیص سب سے پہلے فروری 1957 میں مشرقی ایشیا میں ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ 1957 ء میں آنے والی اس وبا سے پوری دنیا میں دس سے بیس لاکھ کے قریب لوگوں کی اموات ہوئیں۔ تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ وبا دو قسم کے وائرسوں کے ملاپ H 2 N 2 سے وجود میں آئی۔

1957 کے پہلے مہینے میں یہ وائرس چین اور اس کے ہمسایہ ممالک میں پھیل گیا، موسم گرما تک یہ امریکہ پہنچ گیا۔ تاہم اس نے تب تک زیادہ لوگوں کو متاثر نہیں کیا تھا۔ لیکن کافی مہینوں بعد بچوں اور حاملہ عورتوں کی وسیع تعداد اس وبا سے متاثر ہوئی۔ متاثرین کی تعداد میں شدید اضافہ اس وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے آیا، جس نے شمالی کرہ ارض کو نومبر 1957 تک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت تک یہ وبا پورے یورپ میں پھیل چکی تھی۔ صرف امریکہ میں مارچ تک 69800 اموات ہوچکی تھیں۔

اگر اس وائرس سے متاثرہ شخص میں پائی جانے والی علامات کی بات کی جائے تو کچھ لوگوں میں معمولی کھانسی، بخار جیسی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ کچھ لوگوں کو جان لیوا نمونیا جیسی پیچیدہ صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وائرس H 2 N 2 کے خلاف تیزی سے بننے والی ویکسین اور اینٹی بائیوٹک کی بدولت اس وبا سے متاثرین کو بچا کر شرح اموات کو کافی حد تک کم کرلیا گیا۔

روسی طاعون : 1770۔ 1772

طاعون کی اس وبا سے 1770 سے 1772 کے درمیان وسطی روس کے شہر ماسکو میں کم و بیش ایک لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس بھیانک وبا کا آغاز جنوری 1770 میں روس ترکی جنگ کے دوران یوکرائن اور وسطی روس میں ہوا تھا۔ یہ وبا ستمبر 1771 تک ماسکو میں اپنے پورے عروج پر پہنچ گئی۔

اس وقت لوگوں کے درمیان افواہ پھیل گئی کہ حکومت متاثر ہ گھروں کو جلادے گی۔ اس لیے اگر کسی کا کوئی عزیز فوت ہوجاتا تو اس بات کو حتی الا امکان چھپانے کی کوشش کی جاتی اور رات کے اندھیرے میں اس کے مردہ جسم کو دفنایا جاتا یا پھر کسی گلی میں پھینک دیا جاتا۔

جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے دکانیں، سرائے، ہوٹل، فیکٹریاں حتی کہ چرچ بھی بند کردیئے گئے اور پورے ملک کو قرینطینہ قرار دے دیا گیا۔ ماسکو کی عوام نے ان حکومتی اقدامات کو بیماری پھیلانے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا اور اس کے خلاف بغاوت کردی اور یوں صورتحال مزید ابتر ہوگئی۔

بلیک ڈیتھ : 1346۔ 1353

بلیک ڈیتھ نے ایشیا میں اچھی خاصی تباہی پھیلانے کے بعد یورپ کا رخ کیا۔ محتاط اندازوں سے خبر ملتی ہے کہ اس وبا سے یورپ کی تقریباً آدھی آبادی موت کے گھاٹ اتر گئی۔ یہ بیماری پورے یورپ میں Yersinia Pestis نامی بیکٹریا کی وجہ سے پھیلی تھی۔ اگرچہ آج اس بیکٹریا کا وجود تک نہیں ہے، لیکن تب تباہی اس قدر بھیانک تھی کہ مرنے والوں کی اجتماعی قبریں تیار کرنا پڑ گئی تھیں۔

اس طاعون نے یورپ کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ ان گنت اموات کی وجہ سے افرادی قوت کم ہوگئی۔ اس لیے مزدوروں کو کام پر لانے کے لیے زیادہ اجرتیں دینے کا چلن ہوا اور یوں یورپ میں غلامی کا خاتمہ ہوا۔ تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ زندہ رہ جانے والوں کی ضروریات زندگی تک رسائی احسن انداز میں ہونے لگی۔ سستے مزدوروں کی اسی عدم دستیابی نے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

500 قبل مسیح کی وبا

تقریبا 500 قبل مسیح کے چین کے ایک گاؤں میں وبا نے پورے علاقے کا خاتمہ کردیا۔ مردہ لوگوں کے اجسام کو ایک گھر میں جمع کیا گیا، جنہیں بعد میں جلا دیا گیا۔ اس وبا نے کسی کو بھی نہ چھوڑا کیونکہ اس گھر کے اندر سے بچوں، جوان اور ادھیر عمر افراد کے ڈھانچے ملے ہیں۔ آثار قدیمہ کی اس جگہ کو اب تاریخ میں ہامین منگاہ (Hamin Mangha) کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ شمال مشرقی چین میں قبل از تاریخ کی بہترین محفوظ شدہ جگہوں میں سے ایک ہے۔ آثار قدیمہ اور علم البشریات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وبا اتنی تیزی سے پھیلی کہ اس وقت لوگوں کو مناسب انداز میں تدفین کے لیے جگہ بھی میسر نہ آ سکی۔ اس کے بعد آج تک یہ جگہ دوبارہ آباد نہ ہوسکی۔ یامین منگاہ کی دریافت سے پہلے شمال مشرقی چین میں ماہر ین کو تقریباً اتنے ہی قبل مسیح کی ایک اور جگہ ملی جسے می آز گو (Miaozigou) کا نام دیا گیا۔ اس جگہ بھی کچھ اسی طرح ڈھیر سارے انسانی ڈھانچے ایک ساتھ ملے ہیں۔ یہ دونوں آثار قدیمہ کے مقامات اس حقیقت کی نشاندھی کرتے ہیں کہ اس وبا نے سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

(اس مضمون کی تیاری میں انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا اور ویب سائٹ live science۔ com سے استفادہ کیا گیا ہے۔ )

Facebook Comments HS