ایک انٹرویو

مگر پھر اچانک کرونا وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچادی اور پاکستان سمیت دنیا میں لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر پہ ہی موجود ہوں۔ کھانے اور سونے کے علاوہ گھر میں کوئی کام نہیں ہے، ایک معمولی رپورٹر کی نوکری تھی جس سے فروری کے شروع ہوتے ہی جواب مل چکا تھا، اوپر سے پولن الرجی کا شکار ہونے کی وجہ سے گھر میں رہنا مجبوری تھی، لہذا مکمل فرصت۔ اس عالم میں سوشل میڈیا پر پرانی بھارتی فلم ”نائیک“ کا ایک کلپ دیکھا تو سوچا یہ فلم پھر سے دیکھی جائے۔
جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے انہیں معلوم ہوگا کہ ایک رپورٹر، وزیر اعلی کا انٹرویو کرنے کے بعد کیسے ایک صوبے کا وزیر اعلی بن جاتا ہے اور اسے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت کی سیاست اور بہت سے دیگر مسائل پاکستانی مسائل سے ملتے جلتے ہیں۔ کرونا وائرس سے چین میں پھیلنے والی وبا کی خبر جنوری میں پھیل چکی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ یہ مرض چین کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
مگر کسی نے دھیان نہیں دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ، اٹلی اور سپین جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس پر قابو نہیں پاسکے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں اور اب تک ہزاروں افراد مرچکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔ تاحال اس وبا کی اب تک کوئی ویکسین دریافت نہیں ہوسکی، صرف ایک ہی حل ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہیں تاکہ یہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ حکومت پاکستان نے تقریباً مارچ کے تیسرے ہفتے میں لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم وزیراعظم عمران خان قوم کے ساتھ خطاب کے دوران لاک ڈاؤن سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ بات بھی سمجھ آتی ہے کیونکہ ہمارے ملک کی ایک بڑی آبادی دیہاڑی دار مزدور طبقہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ کے حالات بھی مزدوروں کے برابر ہی ہیں۔ خیر لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا اور چند روز تک اس پر سختی سے عمل بھی کیا گیا اورمخیر حضرات نے غریب غربا کی مدد بھی کرنا شروع کردی۔ لیکن پھر چند روز کے بعد سب نے دیکھا یہ رفتہ رفتہ لوگ گھروں سے باہر نکلنا شروع ہوگئے۔
ہوا یہ کہ جیسے ہی رفاہی اداروں اور مخیر حضرات نے غریبوں کی مدد کرنا شروع کی تو حقداروں کے ساتھ ساتھ پیشہ ور بھکاریوں کے غول سڑکوں پر نکل آئے اورانہوں نے گلیوں اور گھروں میں جاکر بھیک مانگنا شروع کردی۔ اور کچھ چوری چکاری، چھینا جھپٹی اور نوسربازی جیسے واقعا ت بھی سامنے آئے۔ دوسری جانب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہوگیا۔ جس کو کنڑول کرنے کے لئے ہسپتال اوردیگر وسائل موجود نہیں ہے اور حکومتی وزرا اس بات کا برملا اظہار کرچکے ہیں۔
اس کا ایک ہی حل ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل بھی کرایا جائے۔ چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران غریب غربا اور مستحقین کو کھانا یا راشن دینا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ سرکار اور رفاہی اداروں کے پاس نادار اور مستحقین کی لسٹیں موجود ہیں، سرکار کی نگرانی میں شہروں، گلیوں اور محلوں میں یہ کام بڑی آسانی اور احسن طریقے سے ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب چھوٹے کاروباری یا متوسط طبقے کے زیادہ تر افراد کرائے کے گھروں میں رہتے یا کرائے کی دکانوں میں کام کرتے ہیں۔
متوسط طبقے کو ہرماہ کرایہ اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، لہذا حکومت ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے دو ماہ کے تاخیری کرائے کی چھوٹ اور یوٹیلٹی بلز کی تاخیر کا اعلان کرے اور اس پر عمل درآمد کرائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالک مکان یا دکان کو حکومت کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس یا دیگر ذرائع سے چھوٹ دی جائے تاکہ ان کا نقصان بھی پورا ہوسکے۔ رہی بات کھانے کی تو بھوک سے اتنی تیزی اور اتنی بڑی تعداد میں لوگ نہیں مریں گے جتنی جلد ی اس وبائی مرض سے مررہے ہیں۔
تاہم جہاں ضرورت محسوس ہوتو اشیا خورد ونوش فراہم کی جاسکتی ہیں۔ واضع رہے کہ چند روز پہلے ایک وزیر موصوف فرما چکے ہیں کہ حکومت کے پاس دو ماہ تک کا راشن موجود ہے۔ کرونا وائرس مصنوعی ہے یا قدرتی، اس سے بچنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن واحد حل ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت یہ فیصلہ کرکے عمل کرے۔ جزوی لاک ڈاؤن سے نہ ہم اِدھر کے رہیں گے نہ اُدھر کے اور کمزور منصوبہ بندی کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ریاست کے پاس مسائل کے حل اور وسائل موجود ہوتے ہیں، قوموں کی بقا اور بربادی سربراہان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور تاریخ میں وہی ذمہ دار قراردیے جاتے ہیں۔ لہذا خان صاحب ہمت کریں اور ایک مثبت قدم اٹھا کر عوام کو اس مشکل وقت سے نکالنے کے لئے فوری فیصلہ کریں۔ کل تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاسکتا ہے۔

