چین کی ترقی کا راز 400 کرپٹ ٹائیگر وزیر پکڑنا ہے
کپتان نے اکتوبر 2019 کے شروع میں چین کا دورہ کیا۔ ادھر چین یعنی ملک ختا میں صدر ژی جن پنگ حکمران ہیں جو کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائے ہوئے ہیں۔
کپتان نے بیجنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ”صدر ژی کی صلیبی جنگوں میں سے ایک کرپشن کے خلاف ہے اور میں نے سنا ہے گزشتہ پانچ برسوں میں وزیر کے لیول کے چار سو افراد کو کرپشن کے الزام میں سزا سنا کر جیل بھیجا گیا ہے“۔ کپتان نے اپنی تمنا ظاہر کی کہ ”میری خواہش ہے کہ کاش میں صدر ژی کی مثال کی تقلید کر سکتا اور پاکستان میں پانچ سو کرپٹ افراد کو جیل میں ڈال سکتا“۔
ہم نے پوچھ پریت شروع کی کہ پتہ تو چلے کہ صدر ژی نے کیا کیا ہے۔ ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ سے پتہ چلا کہ کپتان کو کسی نے صحیح نمبر ہی نہیں بتایا ہے۔ صدر ژی نے گزشتہ پانچ برسوں میں تیرہ لاکھ سے زیادہ سرکاری عہدیداروں کو کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈال رکھا ہے۔ ان میں جو وزیر کبیر تھے انہیں ”ٹائیگر“ کا نام دیا گیا اور جو چھوٹے موٹے اہلکار تھے انہیں ”مکھی“ کہہ کر ان کی حیثیت جتلائی گئی۔
گزشتہ برسوں میں سو سے زیادہ ٹائیگر پکڑے گئے۔ انہیں بیجنگ کے نواح میں چنگ چینگ جیل میں رکھا گیا۔ یہ جیل 1958 میں سوویت یونین کے تعاون سے بنائی گئی تھی اور اس کا مقصد انقلاب دشمن چیانگ کائی شیک کی کامن تانگ کے عہدیداروں کو ان کے شایان شان مقام پر قید رکھنا تھا۔ چین کی باقی تمام جیلیں وزارت انصاف کے تحت کام کرتی ہیں لیکن یہ واحد جیل ہے جسے عوامی تحفظ کی وزارت چلاتی ہے۔
صدر ژی نے کرپشن کے خلاف اپنی مہم شروع کرنے سے پہلے اس جیل کی گنجائش میں اضافہ کیا تھا مگر کرپشن کے خلاف مہم ایسی کامیاب جا رہی ہے کہ جیل میں جگہ ختم ہو چکی ہے۔ اس برس تو چینی نئے سال کی عید پر قیدیوں کو ان کے اقارب سے بھی نہیں ملنے دیا گیا کیونکہ جیل میں ان کی ملاقات کی جگہ ہی باقی نہیں بچی تھی۔
چین کی آبادی تقریباً ایک ارب چالیس کروڑ ہے۔ پاکستان کی اس سے تقریباً ساڑھے چھے گنا کم یعنی بائیس کروڑ ہے۔ اگر چین کی تقلید کی جائے تو چین کے 13 لاکھ کرپٹ ٹائیگرز اور مکھیوں کے مقابلے میں کپتان کو بھی دو لاکھ پاکستانی ٹائیگرز اور مکھیاں پکڑ کر جیل میں ڈالنے ہوں گے۔
مکھیوں کا تو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے مگر ٹائیگرز پکڑنا کپتان کے لیے نہایت آسان ہونا چاہیے۔ ابھی حالیہ گندم اور چینی سکینڈل کو ہی دیکھ لیں، اس کے علاوہ بھی طرح طرح کے سکینڈل سننے میں آتے رہتے ہیں۔ ایک ادویات کی قیمتیں دگنی تگنی کرنے والا کوئی معاملہ بھی سننے میں آتا رہتا ہے۔ کچھ ٹائیگرز کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ ان کی فائلیں نیب میں ہیں لیکن نیب کے چیف جسٹس جاوید اقبال بتاتے ہیں کہ وہ محض حکومت بچانے کے لیے انہیں کھول نہیں رہے۔ بقول ان کے مالم جبہ اور پشاور ریپڈ بس منصوبے پر ریفرینس تیار ہیں لیکن انہیں عدالت نے روک رکھا ہے۔ ممتاز تاریخ ساز صحافی جاوید چوہدری کو ایک انٹرویو میں وہ یہ بھی بتا چکے ہیں کہ ”یہ درست ہے ہم اگر آج حکومت کے اتحادیوں کو گرفتار کر لیں تو یہ حکومت دس منٹ میں گر جائے گی“۔ یعنی کرپٹ ٹائیگرز کی کپتان کے گرد و نواح میں کوئی کمی نہیں ہے۔
کپتان بہت دلیر اور ہٹ کا پکا ہے۔ بھلا وہ حکومت گرنے سے ڈرتا ہے؟ اس کے لیے پانچ سو ٹائیگر پکڑنا دشوار نہیں ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے علاوہ اب تو وہ تحریک انصاف اور اتحادیوں سے بھی ٹائیگر پکڑ کر اپنا 500 ٹائیگر پکڑنے کا ہدف با آسانی پورا کر سکتا ہے۔ اس کے بعد دو لاکھ مکھیاں بھی پکڑی جائیں گی۔ امید ہے کہ دو لاکھ چھوٹے موٹے سرکاری افسران و اہلکاروں یعنی صدر ژی کی اصطلاح کے مطابق مکھیوں کی گرفتاری کے بعد پاکستان چین جیسی ترقی کر لے گا۔ اس سے نوجوانوں کے لیے دو لاکھ سرکاری جابز بھی پیدا ہوں گی۔
امید ہے کہ کپتان ان خالی ہونے والی سرکاری اسامیوں پر بے لوثی سے قوم کی خدمت کرنے والے نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرے گا۔ ہماری ناقص رائے میں حالیہ دنوں میں جن نوجوانوں نے ٹائیگر فورس میں نام درج کروائے ہیں، ان ٹائیگرز کو مکھیوں کی اسامیوں پر رکھنے کے لیے فوقیت دینا مناسب ہو گا۔


