EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مذہبی علما کو ڈارون سے کیاپرخاش ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بہار کے موسم میں کرونا وبا کی وجہ سے سرخ گلابوں کا رنگ ابھی کالا ہے۔ ہر جانب سے حمد و ثنا کے رقت بھرے لہجے میں وبا کی روک تھام کی کاوش زوروں پر ہے۔ اس معمولی سے بے جان کرونا نے انسان کا زعم برتری خاک میں ملا دیا ہے۔ اللہ اس موذی کرونے کو غارت کرے۔ دعاوں کے زور پر کرونا کے وبال سے نجات میں سب مذاہب کے علما نے حسب روایت حصہ ڈالا ہے اور اسی طرح بہت سے علما نے اس آفت نادیدہ کو خدا کے عذاب سے تعبیر کیا ہے۔ عورتوں کی آزادی اور لوگوں کی بے راہ روی کی گل افشانی ان کی نوک زباں پر ہے۔

ہم سب پر شایع ہونے والے پچھلے کالم ”کرونا وائرس: سازشی تھیوری اور بنیادی سائنسی معلومات“ میں ہم نے کرونا وائرس اور اس کے ارتقائی عمل کی بات کی تھی۔ ہمارے کئی دوستوں کو اعتراض ہوا کہ کرونا کا ڈارون والے ارتقا سے بھلا کیا تعلق؟ وہ اعتراض کرتے ہیں کہ بات کرونا وبا تک تو درست ہے مگر ڈارون کا ذکر بر محل نہیں۔

اس وبا کے موسم میں ڈارون کے نظریہ، ارتقا پر سائنسی گفتگو جو کسی قدر طویل ہو جائے گی، ہم کسی اور دن پر اٹھا رکھتے ہیں۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے مسلمان تعلیم یافتہ طبقے کو ڈارون سے کیا پرخاش ہے؟ گمان ہے کہ وہی جو مسیحی پادریوں کو کوپر نیکس اور گلیلیو سے تھی۔ ویسے حقیقت تو یہ ہے کہ ڈارون سے دشمنی یورپ میں بھی دائیں بازو کے مسیحیوں کا امتیازی وصف ہے اور دوسرے مذاہب کے بہت سے علما کا خاصہ بھی بعینہ یہی ہے۔ مذہب کے ساتھ اس طرح کا سائنسی اختلاف رکھنے کے باوجود ہمیں اعتراف ہے کہ مذہب انسان کے لاشعور کے ان گوشوں تک رسائی رکھتا ہے، جہاں تک عقل کی روشنی کو پہنچنے میں وہی ہمت آزمائی ہے جو قطرے کو گوہر ہونے میں ہے۔

سائنس کی ساری تحقیق اور دریافت انسان کے ذہن رسا کی دین ہے، جس کی بدولت پرانے انسان کے مقابلے میں جو جنگل میں رہتا تھا، آج کے زمانے کی تن آسانی سے سبھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سائنس کے نظریات مذہبی فکر کے احباب عرفان پر جس طرح پہلے زمانے میں بار ہوئے تھے، آج بھی ہو رہے ہیں۔ یادش بخیر۔ کوپر نیکس اور گلیلیو اپنی سائنسی تحقیق کی بنا پر مذہبی جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ جس جرم کے مرتکب ہوئے تھے وہ کچھ ایسا عام بھی نہیں تھا۔

ان لوگوں نے اشرف المخلوقات کی زمین کو کائنات میں مرکزی حیثیت سے عامیانہ دوری پر جا پھینکا، مگر ڈارون کے گناہ کبیرہ کی بات ذرا اور ہے۔ اس نے انسان کی پیدائش کو ارتقائی حادثہ ثابت کیا۔ ڈارون تو سائنس دان تھا، اس نے حیاتیات کے حقائق کے ساتھ وہی کیا جو سائنس دان کا خاصہ ہے۔ اس نے حقائق کو بلا کم و کاست بیان کیا اور انہیں نظریے کی سائنسی لڑی میں پرو کر رکھ دیا۔

عہد نامہ عتیق میں ہفتے بھر پر محیط پیدائش کا اسطورہ جو بھی ہے سو ہے، سائنسی حقیقت یہ ہے اس کرہ ارض کی تاریخ ساڑھے چار بلین سالوں پر محیط ہے۔ اس حساب سے تو انسان ابھی کل کا جانور ہے، جو تقریباً ایک لاکھ سال پہلے سوئے اتفاق ارتقا کے اس راستے پر چل نکلا جس پر آج ہم سب کھڑے ہیں۔ حیاتیات کے جس مقام سے انسان کے ارتقا کی شروعات ہوئیں، وہ زیادہ سے زیادہ ستر لاکھ سال پرانا ہے۔

بات غور طلب ہے کہ کائناتی وقت کے حوالے سے انسان کا اس حیاتی راہ پر چل نکلنا، ابھی کل کی بات ہے۔ اگر مزید وضاحت درکار ہو تو اس پر غور کر لیجیے کہ بیکٹیریا زندگی کی ایک سادہ سی شکل ہے۔ اس وقت تک بیکٹیریا کا سب سے پرانا فاسل 3600 ملین سال پرانا ہے۔ گمان غالب ہے کہ بیکٹیریا کی تاریخ اس سے کہیں پرانی ہے۔

بات اگر صرف زندگی اور زندگی کے شعور کی ہوتی تو معاملہ شاید زیادہ دقت طلب نہ ہوتا۔ دوسرے جانور بھی انسان کی طرح شعور رکھتے ہیں اور اپنے ماحول سے شعوری طور پر آگاہ ہیں۔ انہیں سردی گرمی اور بھوک پیاس کا احساس ہے۔ صرف انسان نے اپنے شعوری معاملات کے گرد نظریات کی دیواریں کھڑی کی ہوئی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کو ”وقت“ کے ہونے کا شعور ہے اور اسے اپنی ذات کو ”وقت“ کے آب رواں پر ہونے کا احساس دوسرے جانوروں سے زیادہ گہرا ہے۔

انسان جانتا ہے کہ وقت کے دوسرے سرے پر بر حق موت کی پرچھائیاں ہیں اور حیات انسانی وقت کی لہر پر صرف ایک بلبلہ ہے اور انسان اس گھڑی کو ”جو ابھی نہیں آئی“، اس کو وقت سے پہلے جانتا ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ آگہی ایک عذاب ہے اور اس سے بڑا عذاب ابھی تک انسان پر نہیں آیا۔

میرے شعور نے احساس آگہی بخشا
اور آگہی کا یہ احساس کھا گیا مجھ کو
[سیدہ نزہت صدیقی]


سچ پوچھیں تو انسان کا موت سے خوف ہی ہے جس نے کائنات، حیات اور ممات کے شعور کا تمام تر سلسلہ مذہبیات سے جوڑ کر خوف سے نجات کا حیلہ کیا ہے۔ ایسے میں ڈارون کے نظریہ ارتقا کو برداشت کرنے کے لئے صبر ایوب چاہیے۔ ڈارون کا گناہ یہ ہے کہ اس نے انسان سے دوسری مخلوقات کے مقابلے میں افضل ہونے کا تمغہ امتیاز چھین لیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے گلیلیو نے زمین کو باقی عامیانہ سیارچوں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔ ڈارون کے نظریات کی وجہ سے انسان کی سوچ میں ایک انقلاب رونما ہوا۔

ڈارون نے انسان کو زندگی کی اسطوری تشریحات سے آزاد کرنے میں مدد دی۔ ڈارون کے نظریے کی بدولت انسان کے لئے عقل کی روشنی میں حقیقت کی تلاش کے نئے در وا ہوئے، کہ وہ کون ہے؟ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اس کا باقی مخلوقات کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ ڈارون کے نظریہ ارتقا کی وجہ سے اس وبا والے کرونا وائرس کی پیدائش کی تشریح بھی ممکن ہو سکی جو کہ اس دور کی پیداوار ہے۔

ڈارون کے نظریات کی بنیاد پر حیات کے آفاقی حقائق کو اساطیر کی بجائے سائنس کے حوالے سے دیکھنا ممکن ہو سکا ہے اور کرونا کا علاج بھی جو آج موجود تو نہیں، اگلے مہینوں اور سالوں میں دریافت ہو جائے گا، مگر کسی مافوق الفطرت حوالے سے نہیں، انسانی عقل اور سمجھ بوجھ کے استعمال سے۔

سر راہ یاد آیا کہ ہمارے یہاں ”سوشل ڈارونزم“ کی اصطلاح عام ہے۔ ڈارون کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ڈارون نے نظریہ ارتقا میں یہ واضح کیا تھا کہ زندگی کو قائم رکھنے کے واسطے زندگی اور ماحول کے درمیان ایک کشمکش کی کیفیت ہے۔ زندہ وہی رہتا ہے جو ماحول میں رچ بس جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سماجی استحصال کی تشریح کے لئے ڈارون کے نظریہ کو جواز کے طور پر استعمال کرنا ناروا ہے۔

بہار کے اس موسم میں کرونا وبا کا ایک سماجی پہلو بھی ہے جو سماجی ارتقا سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وائرس نے جہاں انسان کے طاقت ور ہونے کا بھرم توڑ دیا ہے، اس نے اس حقیقت کو بھی طشت از بام کیا ہے کہ اس کی نظر میں امیر اور غریب برابر ہیں اور اس کے باوجود یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ غریبوں میں کرونا وبا سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہے۔ یہ فرق انسان کے پیدا کردہ سماجی حالات کا ہے، جن کے اور زیادہ بگڑنے کا اندیشہ کرونا کے جانے کے بعد بھی باقی رہے گا۔

جس طرح کرونا وائرس سے نبرد آزما ہونے کو دعا اور مناجات اپنی جگہ مگر حکمت عملی کے واسطے عقل و دانش کو آواز دیے بغیر چارہ نہیں، اسی طرح غیر مساوی سماجی حقائق کو انسانیت کا جامہ پہنانے کے لئے سماج کے سائنسی اصولوں پر مکالمے کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جس طرح بعض دوست ڈارون کے نام سے ڈر جاتے ہیں اسی طرح سماج کے سائنسی اصولوں کا لفظ سنتے ہی وہ اشتراکیت کے کسی پرانے تجربے سے خوف کھانے لگیں۔ مجھے اس موقع پر ن م راشد یاد آئے۔

مجھے روسیوں کے ”سیاسی ہمہ اوست“ سے کوئی رغبت نہیں ہے
مگر ذرے ذرے میں
انساں کے جوہر کی تابندگی دیکھنے کی تمنا ہمیشہ رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے