ایک لڑکی کا شادی سے پہلے اپنے محبوب کو آخری خط

دل وہ واحد چیز ہے جو ٹوٹے تو آواز نہیں ہوتی۔ تم اس بات سے خوب واقف تھے کبیر۔ تمھیں یاد ہوگا کہ میں ٹوٹی ہوئی چیزوں سے کتنی زچ ہوتی تھی۔ وہ چاہے دل ہو گلاس یا کوئی گملا۔ کبیر تم دور بہت دور چلے گئے اتنی دور کہ جہاں پر میرے نام کا کوئی شخص موجود نہیں ہو گا۔ کبیر تمھارے جانے کے بعد مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے محبت ہونی لگی ہے۔ میں ان سے اب زچ نہیں ہوتی۔

کبیر تمھاری شہزادی تمھاری جان تم سے دور جانے والی ہے۔ گھر والوں نے میری شادی طے کردی ہے۔ اگلے ہفتے میں کسی اور کی امانت ہو جاؤں گی۔ کبیر میں یہ نہیں سمجھ پائی کہ تین بار گھر کی لاج رکھنے کے لیے ہاں کہہ دینے سے کوئی کسی کا کیسے ہو سکتا ہے؟

کیا قبول ہے کہنے سے میری روح فوراً اس شخص کو قبول کرلے گی، جو مجھے میرے جسم اور روح کے بدلے فقط ایک اچھا گھر، کھانے پینے اور چھت جیسی سہولیات میسر کرے گا؟

کبیر لوگ اتنے سستے سودے کرنے کے کیوں عادی ہیں؟ کبیر کیا محبت اتنی سخت ہے؟ کیا وہ اپنے چاہنے والوں پر رحم نہیں کرتی؟ کیا محبت والوں کے لیے ہی گھر والوں کی عزت اور معاشرے کی رسومات کی قربانی دینا فرض ہوتا ہے۔ کبیر چپ کیوں ہو؟ جواب کیوں نہیں دیتے تھے؟

کبیر تمھاری شہزادی اس صدمے کی تاب نہیں لا رہی، کچھ پتا نہیں کب سانس کی ڈوری ٹوٹ جائے۔ جانے کب ساتھ ٹوٹ جائے۔ کبیر سنا ہے کہ کوئی شخص جب اپنی زندگی کے آخری مراحل میں ہوتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کے اچھے لمحات کو یاد کرتا ہے۔ کبیر میری آنکھوں کے سامنے گھر کی دالان میں رکھے گملے کے پھول بار بار تمھاری یاد دلا رہے ہیں۔ وہ پھول جو ہم نے ساتھ اگائے تھے۔ اور مجھے لگتی ہے انھی پودوں کے ساتھ ہی میری زندگی کا آغاز ہوا۔ لوگ کتنے ظالم ہیں جو ان معصوم بے زبان درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں۔

کبیر! میں دن میں اس خیال سے کئی بار صحن میں گھوم چکی ہوں کہ یہیں کہیں تمھارے قدموں کے نشان تھے، یہیں کہیں ہم بیٹھے تھے۔ ساتھ چلے تھے۔ صبح سے دروازے کی جانب بار بار نگاہ اٹھ رہی کہ شاید تم لوٹ آؤ اور مجھے سینے سے لگا کے کہو:

”شہزادی تمھارا کبیر آ چکا ہے۔ پریشان نہ ہو، سب سنبھال لے گا“۔

کبیر میں نے سب کے سامنے ہنسنا بھی سیکھ لیا ہے۔ کبیر تم کھوکھلے لوگوں کی بات کرتے تھے نا، مجھے اب وہ سب باتیں سمجھ آنے لگی ہیں۔ کبیر اور لکھنے کی سکت نہیں رہی، میری طرف سے خط خود مکمل کر لینا کہ میں تمھارے بغیر کچھ بھی مکمل کرنے کی کبھی عادی نہ تھی۔

تمھاری شہزادی

Comments - User is solely responsible for his/her words
تنویر حسین، پنجاب یونیورسٹی کی دیگر تحریریں