گھریلو مہارتیں اور ہمارا تعلیمی نظام

اب آتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی طرف۔ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان ہی کیا پوری دنیا ایک طرح سے تعطیلات پر ہے اور لاک ڈاؤن کے اس فیز میں ”جو ہے جہاں ہے کی بنیاد پر“ زندگی کے ہر گزرتے دن کے ساتھ دعا گو ہے کہ یہ آزمائش جلد از جلد ختم ہو۔ اسی سلسلے میں راقم الحروف جیسا مصروف بھی فراغت کے ان دنوں میں مصروفیات ڈھونڈ رہا ہے۔ اور پھر سوچا کہ کیوں نہ اپنی مہارتیں گھریلو سطح پر گھر میں موجود چھوٹوں تک منتقل کی جائیں۔
اسی بابت ڈھیر ساری وِڈیوز اور تحاریر بھی کچھ دنوں سے دیکھنے سننے کو بکثرت مل رہی ہیں۔ راقم نے اپنی ہمشیرہ کو ایم ایس آفس سکھانے کی غرض سے ایک کوشش کی۔ اس نے کالج کی سطح پر گریجویشن میں دوسال تک کمپیوٹر سائنس کو ایک آپشنل مضمون کے طور پڑھا ہے اور اب فائنل کے امتحانات ہونا تھے کہ کرونا کی آمد ہو گئی۔ مجھے یہ غلط فہمی تھی، کہ دو سال تک کمپیوٹر سائنس کو پڑھنے کے بعد، میں کچھ نیا نہیں سکھا پاؤں گا، لیکن اس وقت حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے، جب صرف یہ معلوم ہوا کہ وہ ان آف کی حد تک ہی کمپیوٹر سے واقف ہے۔
خیر پہلے درجے میں ہم نے ”ورڈ ڈاکیومنٹ“ پر طبع آزمائی کی۔ نیا فولڈر بنانا، اس میں ورڈ کی ایک نئی فائل بنانا، پیج کی لے آؤٹ، فونٹ، سائز یہ سب سکھایا۔
دوسرے درجے میں ”پاور پوائنٹ“ پر مائی فیملی اور پھر مائی فیوچر پلان کے موضوع پر دو عدد پریزنٹیشنز بنوائیں اور تیسرے درجے پر ”مائی فیملی بجٹ“ کے حوالے سے ایکسل کی ایک فائل بنوائی۔ یہ ایک شاندار تجربہ رہا اور اپنے ہاتھ سے خود کام کرنے سے ہمشیرہ کو بھی بہتر انداز سے سیکھنے کو ملا۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کمزوری کہاں ہے؟ کیا ہمارے طلبا و طالبات سیکھنے میں دل چسپی نہیں رکھتے یا سکھانے والوں کے پاس کوئی میکنزم نہیں ہے اور یا پھر ہمارا تعلیمی ڈھانچا ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ متعلق مضمون کو جانچنے کے لئے کوئی مناسب بنچ مارک بنا سکا ہو؟
کمزوری کوئی بھی ہو، خامی کہیں بھی ہو لیکن ان صلاحیتوں کے ساتھ کیا ہم آنے والے وقت کا مقابلہ کر پائیں گے؟ خصوصاً کرونا وائرس کے بعد کی دنیا بالکل مختلف ہو گی۔ اور بیش بہا نئے چیلنجز منہ کھولے ہمارے منتظر ہوں گے۔
خدا نے آج دن تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

