روزنِ قرنطینہ سے
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
کرونا کے اس عہد میں مولانا حسرت موہانی کے اس شعر کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ تمام کام جنہیں ہم دنیاوی ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دانش مندی گردانتے تھے, آج اپنی بے معنویت پر اصرار کر رہے ہیں۔ مثلاً کرونا سے پہلے زیادہ وقت گھر سے باہر صرف کرنا، بچوں کی تعلیمی استعداد بڑھانے کے لیے انھیں رات گئے تک اکیڈمیوں میں محصور رکھنا، گلوبلائزیشن کی موج میں ہر سال دبئی اور استنبول کے چکر لگانا، اور اپنے وسائل (خواہ وہ سود پر لیا ہوا قرض ہی ہو) کو بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کی مثل لٹانا، خرد مندانہ رویے سمجھے جاتے تھے۔
ان مصروفیات پر لگنے والی نا گہانی پابندی نے اگر چہ ہمارے ماحول میں آکسیجن کی مقدار بڑھا دی ہے، پھر بھی ہمیں سانس لینا دو بھر ہو رہا ہے۔ ایک ننھے سے شرارتی وائرس نے ہمارے رائج الوقت رویوں یعنی جہان ہے تو جان ہے پر جنون اور کم فہمی کی چھاپ لگا دی ہے اور ثابت کیا ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ آج کے زمینی حقائق کے مطابق ہوش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام۔۔۔۔ گویا اعتدال سے قدم باہر نہ نکالیں، گھروں کو گوشہء عافیت جانیں، بچوں کی تعلیم گھروں میں بھی ممکن بنائیں، ملک اور قومیت کی قدر کریں، کیونکہ اجنبیت کے کسی احساس کے تحت آپ کو کبھی بھی آپ کی جغرافیائی حدود میں واپس دھکیلا جا سکتا ہے۔
یہ آپ کی دھرتی ماں ہی ہے جو آپ کو ہر حال میں اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے۔ یہ تو ہوا معاشرتی طرزِ عمل، اب اگر عالمی صورتِ حال کا جائزہ لیں تو دنیا کے طاقتور ممالک اپنی سالمیت کے ڈھونگ میں جنگی اسلحہ، ایٹمی ہتھیاروں اور ہلاکت خیز ڈرون حملوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی پالیسی کو نہ صرف غیر معمولی اہمیت دیتے، بلکہ ترقی پذیر ممالک پر ایسے حالات مسلط کیے جاتے کہ اسلحے کی خریداری ان کی بقاکے لیے بھی لازم ٹھہرتی۔
اکثر ماہرینِ اقتصادیات کے نزدیک عالمی اقوام کا اصول یہ ہے کہ فوری فائدے کی اشیا پر سب سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ہتھیار کی افزائش اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ حیاتیاتی سہولتیں یعنی ادویات اور جراحی کے آلات کو وہ مقام حاصل نہیں، جس کا ایک بڑا ثبوت دنیا بھر میں وینٹی لیٹر کی برائے نام تعداد کا سامنے آنا ہے۔ آج جب دنیا بھر کا سب سے بڑا حریف کرونا وائرس ہے، جس ملک نے بھی اسے شکست دی، وہ ایسے ہی سراہا جائے گا جیسے تیسری جنگِ عظیم کا فاتح ہو۔
یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ جنگ انسانی تباہی کے بجائے انسانی بہبود پر جیتی جائے گی۔ یہ خیال کہ جغرافیائی حدود کو بند کر کے ہر قوم خود کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکے گی حقائق سے لگا نہیں کھاتا۔ دنیا میں کسی جگہ بھی کرونا وائرس کی موجودی اس کی واپسی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی صحت ہی قوموں کی صحت کی ضامن ہے۔ گویا وہ بقائے باہمی کا نظام جو کبھی مذاہب، صوفی ازم، ہیمون ازم اور معاشرتی مثبت قدروں کا مطمح نظر تھا اور دو عالمی جنگوں کے خاتمے پر شکست و ریخت کا شکار ہو گیا، آج بیں الاقوامی پروجیکٹس کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ بحثیتِ مجموعی ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں، کہ مختلف ادوار میں خرد اور جنوں کے معیار بدلتے رہتے ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دانشِ حاضر کی روشنی میں کیے گئے فیصلے کرونا کے بعد کی زندگی میں کس حد تک توازن قائم رکھ سکیں گے۔ بقول شاعر:۔
نکال لایا ہوں ایک پنچرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے


