شعبان المعظم اور بابرکت راتِ برأت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی مہینوں میں سے اک بابرکت مہینہ شعبان المعظم کا مہینہ ہے۔ شعبان کا لفظ عربی زبان میں مستعمل لفظ ”شَعّْبْ“ سے ما خوذ ہے جس کے معنی ”پھیلنے“ کے آتے ہیں، اس مہینے کی اپنے نام سے مناسبت یہ ہے کہ رمضان سے پہلے بھلائی پھیلتی ہے اس لیے اس مہینے کو شعبان کہا جاتا ہے۔ آپﷺ کی زندگی ہمیں جو اس مہینے کے متعلق درس دیتی ہے وہ یہ کہ آپؐ کو اس مہینے کے روزے بڑے محبوب تھے، آپؐ نے فرمایا : رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینے ہے، شعبان پاک کرنے والا ہے جبکہ رمضان گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ حضرت عائشہؒ فرماتی ہیں (مفہوم) میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپؐ نے شعبان، رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔

اس مہینے کی پندرہویں رات کو ”شب برأت“ کہا جاتا ہے۔ برأت کے معنی ”چھٹکارا“ ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں : شب برأت کو شب برأت اس لیے کہتے ہیں کہ اس رات میں دو قسم کی براء ت ہوتی ہے ایک تو یہ کہ اللہ تعالی بد بختوں سے برأت کا اعلان کرتے ہیں، اور دوسری وجہ یہ کہ اللہ کے ولی کی ذلت و رسوائی سے برأت ہوتی ہے۔ نیز فرمایا کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے اس روئے زمین پر عید کے دو دن (عیدالفطر وعیدالاضحی) ہیں، اسی طرح فرشتوں کے لیے آسمان پر دو راتیں (شبِ براء ت وشبِ قدر) عید کی راتیں ہیں۔ مسلمانوں کی عید دن میں رکھی گئی؛ کیوں کہ وہ رات میں سوتے ہیں اور فرشتوں کی عید رات میں رکھی گئی؛ کیوں کہ وہ سوتے نہیں۔ (ماہنامہ دارالعلوم)

اس رات کے اور بھی نام ہیں، قرآن کی سورۃ دخان میں مبارک رات کا تذکرہ ہے جس سے بعض مفسریں نے رات برأت ہی مراد لی ہے۔ اس رات کی فضیلت کے متعلق تقریباً دس صحابہ کرام سے ایسی روایات منقول ہیں جس میں آپ ؐ نے اس رات کی فضیلت کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مفہوم) ’جب شعبان کی درمیانی شب آئے، تو اس رات نوافل پڑھو، دن میں روزہ رکھو؛ اس لئے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟ کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں ؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی اک روایت ہے کہ اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی بخشش کرتا ہے۔ بیہقی کی روایت کے مطابق قطع تعلق کرنے والا، پاجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، والدین کا نافرمان، مستقل شراب پینے والا، کسی کو ناحق قتل کرنے والا اس رات بخشش سے محروم رہتا ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارک پوریؒ فرماتے ہیں کہ شب برأت کی فضیلت پر متعدد احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس رات کی کوئی حقیقت ہے، اور فرمایا یہ تمام احادیث اس شخص کے خلاف حجت ہیں جو اس رات کی فضیلت کا انکار کرتا ہے۔

اب سوال یہ کہ اس رات ہمیں کس طرح اور کیا عمل کرنا چاہیے؟ یاد رہے کہ اس رات کوئی خاص عبادت منقول نہیں۔ البتہ علماء فرماتے ہیں کہ اس مبارک رات میں جتنی آسانی سے جتنا ممکن ہو پورے اخلاص سے اس رات کو ذکر و تلاوت اور نوافل میں گزارا جائے، اور اگر اس رات عبادت کے لئے غسل کر لیا جائے تو وہ بھی اچھا ہے۔ منکرات سے بچتے ہوئے قبرستان جانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ بخشش و مغفرت کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی مشکلات و پریشانیوں سے نجات کی دعا کی جائے۔

جس رات آپ یہ عبادت کر رہے ہیں اگلے روز روزہ رکھا جائے، اور جن خرافات سے اس رات کی فضیلت اور اجر و ثواب ضائع ہو سکتا ہے مثلاً چراغا، آتش بازی یا کوئی بھی ایسا کام جو اصحاب قرون ثلاثہ سے ثابت نہ ہو اس سے ہر ممکن پرہیز کیا جائے۔ مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ اِن مبارک راتوں میں اور اس کے علاوہ جب بھی موقع ملے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق کی ارزانی ہو، تو ماضی کی قضا نمازیں پڑھنی چائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شریعت کا مزاج سمجھنا بھی ہمارے لئے نہایت ضروری ہے۔ جس چیز کو شریعت نے جس درجے میں رکھا ہے اس سے زیادہ درجہ دینے کی کوشش نہ کی جائے، جیسا کہ فرض عبادت کی ہم پرواہ نہ کریں اور مستحب کی طرف دوڑ دوڑ کر جائیں جیسا کہ احمد رضا قادریؒ لکھتے ہیں : ”شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے، نادان سمجھتا ہی نہیں، نیک کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے، اِس کے قبول کی امید تو مفقود اور ُاس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض، خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجیے اور بالائی بیکار تحفے بھیجیے، وہ قابل ِقبول ہوں گے؟ ، خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے، (فتاویٰ رضویہ) ۔

مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں : مجھے ایسا لگتا ہے کہ شب برأت رمضان سے دو ہفتے پہلے اس لئے رکھی گئی کہ رمضان کا استقبال ہے، اور ریہرسل ہو رہی ہے کہ تیار ہو جاؤ اس مہینے کے لئے جس میں ہماری رحمتوں کی بارش ہو گی، جس میں ہم مغفرت کے دروازے کھولنے والے ہیں۔ اور آدمی جب کسی بڑے کے دربار میں جاتا ہے تو نہا دھو کر جاتا ہے۔ جب اللہ کا عظیم دربار رمضان کی صورت میں کھلنے والا ہے اور اس دربار میں حاضری سے پہلے اک رات دی ہے جس میں ہم پاک ہو جائیں، اس کے بعد رمضان کی رحمتوں سے صحیح معنوں میں فیض یاب ہو سکیں۔ اسی غرض سے اللہ ہمیں اس عظیم رات کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ لہذان تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر اعمال کیے جائیں، اور بحث و مباحثہ سے مکمل پرہیز کیا جائے کیونکہ آپؐ نے بھی اس سے منع فرمایا ہے۔ جس کے ہاں جس صاحب علم کی بات قابل اعتماد ہو اس پر عمل کر لینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply