کرونا وائرس اور سیاسی فلسفے سے متعلقہ سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین نے 76 دنوں میں کرونا پر قابو کیسے پایا۔ اس کا جواب کچھ ایسا مشکل نہیں ہے۔ جس شہر میں کرونا کے مریض تھے وہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ لوگوں کو سختی سے ایک دوسرے سے ملنے سے روک دیا گیا جس سے فوری طور پر کرونا کا پھیلاؤ رک گیا۔ اس کے بعد وہ لوگ جنہیں یہ مرض لاحق تھا ہر چودہ دن کے وقفے سے خود بخود سامنے آنا شروع ہو گئے۔ ان میں سے وہ لوگ جن کی امیونٹی طاقتور تھی ان کے جسم نے کرونا وائرس کو خؤد ہی ہلاک کر دیا اور جن کی امیونٹی اتنی طاقتور نہیں تھی وہ ہسپتال آن پہنچے۔

ہسپتال آنے والوں میں سے کچھ مارے گئے باقی صحت یاب ہو کر واپس گھروں کو چلے گئے۔ جو ہسپتال نا آ سکے وہ اپنے اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے۔ متواتر چودہ چودہ دنوں کے کئی سپیل گزرنے کے بعد ایک وقت ایسا آیا جب وائرس زدہ مریضوں میں سے مرنے والے اپنے انجام کو پہنچے اور صحت مند باقی بچ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چودہ دن کے پانچ سپیل وائرس کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اگر مسلسل 70 دنوں تک لوگوں کو سختی سے ایک دوسرے سے ملنے سے روک دیا جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

لیکن اربوں کی آبادی کے اس کرہ ارض پر یہ کیسے ممکن بنایا جائے کہ اتنے زیادہ لوگ مسلسل 70 دنوں تک ایک دوسرے سے ملیں ہی نا۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب چائنا، روس، شمالی کوریا جیسے ممالک کے پاس تو ہے مگر جمہوری روایات کے تحت چلنے والے ممالک کے پاس نہیں۔ یا وہ ممالک جہاں عوام کو حکومت کا حکم نا ماننے کی عادت ہو۔

اٹلی کی مثال اس حوالے سے بڑی سبق آموز ہے۔ اٹلی کا کلچر یورپ میں اپنی ممتاز شناخت اور مقام رکھتا ہے۔ جب لوگوں کو سماجی میل جول نا کرنے کا کہا گیا تو ہزاروں سال کی تاریخ اور ثقافت کا حامل اطالوی اس نصیحت کو ماننے سے انکاری ہو گیا۔ اس کی وجہ جو کچھ بھی ہو مگر نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ ریاست چونکہ جمہوری روایات پر چلتی رہی، کرفیو، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت گیر پالیسی ان میں سے کچھ بھی اٹلی حکومت نے استعمال نہیں کیا۔ نتیجہ، بے شمار اموات۔

اس وقت جمہوری معاشروں یا دوسرے معنوں میں کمزور ریاستوں کو یہ سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے کہ وہ لوگوں کو زبردستی ایک دوسرے سے ملنے سے کیسے روکے۔ دوسرا مسئلہ ممالک کے درمیان تجارت کا ہے۔ تجارت ایک ایسی حقیقت ہے جس کی وجہ سے ممالک باہم میل جول ختم نہیں کر سکتے۔ اور اگر وہ ایسا کرنا بھی چاہیئں تو دنیا کے بیشتر ممالک غذائی اجناس کی قلت کا شکار ہو جائیں گے۔ لیکن تجارت کے نام پر تعلق باقی رکھا جائے تو وائرس کے آنے کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔

اس پیچیدہ صورتحال میں اگر کسی کے پاس حل ہے تو وہ سائنسدان ہیں۔ وہی سائنسدان جنہوں نے پلیگ، خسرے اور دیگر جان لیوا بیماریوں کی ویکسین تیار کی۔ اگر کرونا کا کسی کے پاس پائیدار حل ہے تو وہ یہی سائنسدان ہیں۔ لیکن جب تک وہ یہ علاج ڈھونڈیں گے جس میں ایک سے ڈیڑھ سال تک کا عرصہ لگ کتا ہے تب تک انسان ایک شدید خطرے سے دوچار ہے۔

کیا اس خطرے کی نوعیت ایسی ہے کہ کرہ عرض سے انسان کے نام و نشان مٹ جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے۔ نہیں۔ ہر گز نہیں۔ جب ویکسین نام کی کوئی چیز دنیا پر موجود نہیں تھی تب بھی کروڑوں اموات کے باوجود حضرت انسان کسی نا کسی طرح زندہ رہنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ تاہم سائنس کی ترقی نے چونکہ آج کے انسان کی یادداشت سے یہ بات بالکل ہی محو کر رکھی ہے کہ وبائی امراض کا پھیلنا عین فطری عمل ہے اور اس کے نتیجے میں کروڑوں انسانوں کا مر جانا بھی عین فطری۔ ۔ ۔ اس لئے اتنی ہا ہا کار مچی ہے۔ کیا انسان یہ جانتا ہے کہ 70 دن کے کرفیو میں اس کی جان کے بچ جانے کا راز چھپا ہے۔ یقیناً جانتا ہے۔ لیکن کیا انسان یہ بھی جانتا ہے کہ اتنے سیدھے اور سامنے کے حل پر وہ عمل کیوں نہیں کر رہا۔ اس کا جواب ہے نہیں۔

ایک طرف تو ہمیں اپنی مرضی کرنے کی آزادی چاہیے جو صر ف اور صرف جمہوریت کی دین ہے۔ دوسری طرف ہمیں زندگی، صحت اور سلامتی بھی چاہیے جو بہت حد تک سائنس، طب اور بہترین نظام حکومت پر منحصر ہے۔ چونکہ تینوں حوالوں سے پوری دنیا کے پاس چین کے کامیاب ماڈل کے علاوہ کوئی مثال ہی موجود نہیں جسے جمہوری دنیا چاہتے ہوئے بھی فالو نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے سیاسی ڈھانچے میں اتنی سختی کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں اس لئے آج کا سوال ماضی قریب اور قدیم کے تمام سوالا ت سے زیادہ اہم اور حساس ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں اس کا کیا جواب نکلتا ہے۔ تب تک سائنس کا مذاق اڑانے اور جمہوریت کو گالیاں دینے والے اپنا کام کرتے رہیں لیکن غورفکر پر یقین رکھنے والے ضرور سوچیں کہ کیا سائنس اور جمہوریت کے علاوہ بھی انسانیت کے دامن میں کچھ ایسا ہے جس پر وہ فخر کر سکے، جس پر وہ تکیہ کر سکے، جس سے امید باندھ سکے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply