دس از ٹائم لِس


۔ انیسویں صدی میں اٹھنے والی ہیضے کی وبا جس نے لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنایا تھا، کے تناظر میں لکھی گئی نظم جس کو انیس سو انیس کے سپینش فلو میں دوبارہ شائع کیا گیا تھا، آج کے حالات سے حیرت انگیز مماثلت رکھتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے پروفیسر کیون جن سے میں نے فیض پایا ہے کی وال پر یہ نظم نظر سے گزری۔ نظم کا عنوان ہے ’دس از ٹایم لیس‘ ۔ اس نظم کی خالق کا نام
Kathleen O ’Meara
ہے
نظم کا آزاد ترجمہ پیش خدمت ہے۔

اور لوگ گھروں تک محدود رہے
انہوں نے کتابیں پڑھیں
اور سنیں
اور آرام کیا
اور ورزشیں کیں
اور فن تخلیق کیا اور کھیل کھیلے
اور اپنے ہونے کی نئی راہیں تلاش کیں
اور رکے اور خود کو زیادہ گہرائی سے سنا

کچھ نے دلجوئی کی، کچھ نے عبادت کی
کچھ اپنے سایوں سے ملے
اور لوگوں نے مختلف سوچنا شروع کیا
اور لوگوں نے شفا پائی
اور لوگوں کی غیر موجودگی میں

جو لاعلم طریقوں سے زندگی گزارتے رہے
خطرناک، بے معنی اور سنگ دل طریقوں سے
زمین نے بھی اپنے زخم بھرنے شروع کیے
اور جب خطرہ ٹل گیا اور
لوگوں نے خود کو پایا

وہ جان سے جانے والوں کے لئے روئے
اور نئے فیصلے کیے
اور نئے تصورات کا خواب دیکھا
اور جینے کی نئی راہیں تلاش کیں
اور زمین مکمل طور پر شفایاب ہوئی
جس طرح لوگ شفایاب ہوئے
۔ ۔
مترجم
عامر گمریانی
۔ ۔
This is Timeless۔
And people stayed at home
And read books
And listened
And they rested
And did exercises
And made art and played
And learned new ways of being
And stopped and listened
More deeply
Someone meditated، someone prayed
Someone met their shadow
And people began to think differently
And people healed۔
And in the absence of people who
Lived in ignorant ways
Dangerous، meaningless and heartless،
The earth also began to heal
And when the danger ended and
People found themselves
They grieved for the dead
And made new choices
And dreamed of new visions
And created new ways of living
And completely healed the earth
Just as they were healed۔
Reprinted during Spanish flu
Pandemic, 1919
Photo taken during Spanish flu

Facebook Comments HS