ایک میٹر کے سمندر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


چاروں اطراف ہو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہؤا تھا۔ شلوار قمیص میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔

”مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے بارے میں سوچنے کے بجائے رابعہ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں۔ پتا نہیں کیوں میرے خواب و خیال پر رابعہ کا مکمل قبضہ ہے۔ حالانکہ مجھے اس سے ملے ہوئے چالیس سال گزر چکے ہیں۔ میں خدا کے حضور رات کی تاریکی اور خاموشی میں گڑگڑاتا ہوں کہ کسی طرح رابعہ کو بھول جاؤں۔ سارہ، مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارا مجرم ہوں۔ “ سورج کی پہلی تیز کرن نے عدنان کو جھنجوڑ ا۔ اس کا چہرہ بھیگا ہوا تھا اور پاؤں سن ہو چکے تھے۔ ”شاید اگر میں اس سے ایک بار مل لوں تومجھے چین آجائے۔ مجھے چند دنوں کے لئے اجازت دے دو۔ خدا حافظ، خدا حافظ۔“

وہ کچھ دنوں کے لئے حیدر آباد آ گیا تا کہ رابعہ کے بارے میں پتا چلا سکے۔ بہت تگ و دو کے بعد کالج کے ایک مشترک دوست کی مدد سے رابعہ کے گھر کا فون نمبر معلوم کر لیا۔ عدنان نے کانپتے ہاتھوں سے نمبر ڈائل کیا ا اور سوچنے لگا۔

”اگر دوسری طرف رابعہ ہوئی تومیں اس سے کیا کہوں گا؟ مجھے یقین ہے کہ وہ ملنے سے انکار نہیں کرے گی۔ اگر اس کے شوہر نے فون اٹھایا تو اس کا ردّ عمل کیا ہو گا؟“

فون کی گھنٹی بجی۔ ”ہیلو“۔
”یہ رابعہ ہی کی آواز ہے۔ پہلے کی طرح کتنی سریلی آواز۔ یہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔“ عدنان کے دل کی دھڑکن اُس کی آواز سن کر بے ترتیب ہو گئی۔ اس نے خود کو سنبھالا۔

”میں عدنان بات کر رہا ہوں۔ آپ رابعہ ہیں؟“
”عدنان۔ کون عدنان؟“
”عدنان قریشی“۔
پھر دونوں طرف کچھ دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔
”میں آپ سے اور آپ کے شوہر سے ملنا چاہتا ہوں۔“
جواب نہ پا کر عدنان پھر بولا۔
”ہیلو۔“

”جی۔ میں تو کالج سے جلدی گھر آ جاتی ہوں لیکن میرے شوہر زاہد اکثر دس بجے تک گھر آتے ہیں۔ آپ کل صبح دس بجے میرے کالج آ جائیں۔ اور ہاں، اپنی بیگم کو بھی ساتھ لائیں۔“

”اس کا تو پچھلے سال ٹریفک کے حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔“
”مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا۔“

عدنان نے پتا پوچھا اور مزید بات نہ کر سکا اور شکریہ کا ایک لفظ ادا کر کے فون بند کر دیا۔ وہ سوچتا رہا۔ ”اس نے ملنے سے منع نہیں کیا۔ وہ اب بھی مجھ سے ملنا چاہتی ہے۔ کیا یہ اس کے اندر میرے لئے چھپی ہوئی محبت کی چنگاری ہے یا محض اس کا اخلاق؟ وہ اب کیسی لگ رہی ہو گی؟ چالیس سالوں کے بعد شاید میری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی! کیا اس کا حسن، اس کا طور طریقہ اس کے ساتھ عمر کی منزلیں طے کر رہیں ہیں یا اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں؟“

پونے دس بجے ٹیکسی رابعہ کے کالج کے باہر پہنچ گئی۔ عدنان کا لج کی عمارت کا جائزہ لینے لگا۔ ایک چھوٹی بلڈنگ مگر چاروں طرف مہکتے ہوئے پھولوں اور چھوٹے قد کے درختوں سے سجی ہوئی۔ عدنان نے اسٹاف روم کا پتا کیا اور وہاں پہنچ کر پھر سوچوں کی گہرائی میں غوطے لگانے لگ گیا۔

”شاید رابعہ کی زندگی کتنی پرسکون ہو! ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے اس کی زندگی میں کوئی طوفان برپا ہو جائے۔“ عدنان اسی کشمکش میں ایک دو منٹ باہر کھڑا رہا۔ ”مجھے یہاں سے فوراً واپس چلے جانا چاہیے۔“

اس نے واپسی کے لئے اپنا رخ موڑا، تو رابعہ کی آواز نے اسے چونکا دیا۔
”آپ اندر آئیں۔ دروازے پر کیوں کھڑے ہیں؟“

عدنان خود کو ایک مجرم محسوس کر رہا تھا۔ اسے لگا کہ وہ اپنے وجود کو دنیا سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں خاموشی سے چل کراسٹاف کینٹین میں جا کر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ عدنان کے ہونٹ سل چکے تھے۔ اس نے ہمت کر کے نظر اٹھائی اور اس کے دل سے اک گہری ہوک اٹھی۔

”میرا تو بیماری کی وجہ سے جسم نے ساتھ چھوڑ دیا ہے لیکن رابعہ کے ساتھ بھی وقت نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ زلفوں کی چمک، آنکھوں میں بیک وقت شوخی اور شرماہٹ، ہونٹوں پر مونا لیزا کی طرح دبی دبی مسکراہٹ، یہ سب کچھ نہیں ہے، بلکہ کچھ بھی نہیں ہے۔ کاش میں اپنے گھر والوں کی مرضی کے بغیر اس سے شادی کر لیتا تو اس کا یہ حال نہ ہوتا۔“

دونوں ٹکٹکی باندھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ کسی کی زبان سے ایک لفظ نہ نکلا۔ کچھ کہنے اور سننے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ آنکھوں سے ساری باتیں عیاں تھیں۔ ان میں بھی محبت بھی تھی، شکوے بھی تھے، درد بھی اور ہمدردی بھی۔ عشق کی چنگاریاں شعلوں میں بدل رہی تھیں، ایسے شعلے جو زندہ انسان کو جنونی بنا دیتے ہیں اور زندہ لاش کو انسان بنا دیتے ہیں۔ رابعہ صرف ایک میٹر دور بیٹھی تھی، لیکن اس ایک میٹر کے فاصلے میں نہ جانے کتنے سمندر پوشیدہ تھے، اخلاقی، سماجی، مذہبی، جن کو عبور کرنا ممکن نہیں تھا۔

دو چار رسمی باتوں کے بعد دونوں خاموش ہو گئے۔ دونوں کوئی ذاتی سوال کرنے سے گریز کر رہے تھے جیسے دوسرے کی زندگی میں جھانکنے سے ڈر رہے ہوں۔

اتنے میں کسی کا فون بجا اور عدنان چونک کر خفت مٹانے کے انداز میں بولا۔ ”آپ کے شوہر کیسے ہیں؟“
”اچھے ہیں۔“ اور پھر اس کی آنکھیں پرنم ہو گئیں۔

یہ منظر عدنان کی برداشت سے باہر تھا۔ اُس نے آپ سے تم تک کا فاصلہ فوراً بے اختیاری میں طے کر لیا۔ ”سچ سچ بتاؤ رابعہ۔“

رابعہ نے نقلی مسکراہٹ کا سہارا لیا۔ ”سب ٹھیک ہے۔“
”نہیں، تم مجھے بتاؤ ورنہ میں تمہیں جانے نہیں دوں گا۔“

رابعہ کھڑ کھی کے شیشے میں سے باہر خلا میں گھور رہی تھی۔ جیسے الفاظ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو۔
”اِس شادی میں تین لوگ ہیں۔ اُس دوسری عورت کو اس نے ملکہ کا درجہ دیا ہوا ہے اور میں نے ساری عمر زاہد کی کنیز بن کر گزار دی۔“ رابعہ کا سانس بکھر رہا تھا۔

”تم نے زاہد کو چھوڑ کیوں نہیں دیا؟“
عدنان جواب سننے کے لئے بیتاب ہو رہا تھا۔ رابعہ خاموش رہی۔
”رابعہ، تم نے زاہد کو چھوڑ کیوں نہیں دیا؟“
”میری کچھ مجبوریاں تھیں۔ میں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا اور آنکھیں اور زبان بند رکّھیں۔“

”کیا اب وہ مجبوریاں ختم ہو گئیں؟“
”ہاں! لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں اور کیسے کروں۔“

”میں تمہاری اس سلسلے میں ہر طرح سے مدد کروں گا۔“ عدنان نے رابعہ کے قریب آکر آہستہ سے کہا۔ ”تم ایک خوب صیرت خوش شکل عورت ہو۔ میں تمہاری شادی ایک اچھے مرد کے ساتھ کروا دوں گا۔ تم زاہد کو چھوڑ دو۔“

عدنان نے بھانپ لیا کہ رابعہ یہ سن کر کچھ پریشان سی ہو گئی۔
”کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟“
رابعہ نے نگاہیں جھکا کر کہا۔ ”اور، اور تم؟“

”ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ میں اس دنیا میں صرف دو سال کا مہمان ہوں۔ میں سرطان کا مریض ہوں۔“
”نہیں نہیں، میں تمہیں اس طرح مرنے نہیں دوں گی۔ تم ٹھیک ہو جاو گے۔ میں نے ساری عمر زاہد کی کنیز بن کر گزاری ہے۔ میں اپنی خوشی سے تمہاری دیکھ بھال کروں گی۔“

”میں بہت بیمار ہوں۔ میں تمہیں پریشانی اور تکلیف کے سوا کچھ بھی نہیں دے سکتا۔“
”لیکن میں تمہیں کچھ سکون اور آرام دے سکتی ہوں۔“
”کیا زاہد کو ہماری ملاقات کے بارے میں پتا ہے؟ اوہ سوری! یہ کیا بے وقوفی کا سوال ہے۔“
”اگر اسے پتا ہوتا تو شاید میں یہاں موجود نہ ہوتی، وہ مجھے مار چکا ہوتا۔“

رابعہ کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے۔ عدنان کا دل چاہا کہ ان آنسوؤں کو سمیٹ کر امر کر لے۔
”تم کچھ دنوں کے لئے اپنے بھائی کے پاس چلی جاو۔ پھر وہیں سے خلع کے لئے درخواست دینا۔ اس کے بعد کی ساری کارروائی کو میں سنبھال لوں گا۔“

پھر رابعہ اُس کو اپنی مظلومیت کے قصے سناتی رہی۔ عدنان نے اپنی ساری ہمّت کو زبان پر اکٹّھا کیا اور دونوں طرف دیکھا کہ اور کوئی اس کی بات نہ سننے پائے۔ ”رابعہ، میں نے ہمیشہ تم سے محبت کی ہے۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی چھپ چھپ کر۔ جب میں سارہ کے پاس ہوتا تھا تو تم ہمیشہ ہمارے درمیان تھی۔ لاکھ بھلانے کی کوشش کے باوجود۔ تم جو چاہو گی میں وہی کروں گا۔“

عدنان نے رابعہ کو گھور کر دیکھا تو چونک گیا۔ اب رابعہ کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی، زندگی کی چمک۔ عدنان کو محسوس ہوا کہ رابعہ کی دبی دبی مسکراہٹ، شوخ و شرمیلی آنکھیں، اس کا سانولا حسن عمر کی ڈھلتی ہوئی شام کے باوجود لوٹ آیا تھا۔

شادی کرنے کے کچھ ہی روز بعد عدنان ایک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ رابعہ کی ذہین نظروں نے اس کو جان لیا تھا کہ یہ عدنان کے چہرے کا اضطراب اُس کی بیماری نہیں ہے۔ رابعہ کے پوچھنے پر وہ چپ نہ رہ سکا۔

”رابعہ، مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے دل تک پہنچ نہیں پایا۔ اس شادی میں بھی تین لوگ ہیں۔“
رابعہ کا چہرہ ایسے بن گیا جیسے ابلتا ہوا سمندر۔ اس نے تیز لہجے میں پوچھا۔ ”تم نے مجھے دھوکا دیا؟ تیسرا کون ہے؟“
”تم میرے پاس ہو لیکن ہمارے درمیان سارہ ہے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply