جب کوئی دوپہر انگڑائی لے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ای ایم فوسٹر اپنے ناول ’اَ روم وِد اَ ویو‘ (A Room with a View) میں لکھتا ہے ”کوئی نفاست کے لئے اٹلی نہیں آتا، زندگی کے لئے آتا ہے۔ بون جورنو بون جورنو (صبح بخیر) ۔“ ناول میں مرکزی کردار مِس لوسی ہنی چرچ کو شکایت ہوتی ہے کہ اسے کمرائے موعود نہیں دیا گیا، جس کی کھڑکی دریائے آرنو کی طرف کھلتی ہے بلکہ جو کمرا دیا گیا ہے، اس کی کھڑکی ایک بے رنگ صحن کی طرف کھلتی ہے، جو مِس لوسی کی نگاہ میں ایک بے کیف زندگی کا اشارہ ہے۔

اسی اٹلی میں جہاں لوگ نفاست کی تلاش میں نہیں بلکہ زندگی کو زندہ، حسن کو حسین، لمحوں کو امر اور وقت کو جذب کرنے آتے تھے، نیز مناظر فطرت سے حیات کی ملاحت، جمال کی نزاکت، مذاق کی سطوت اور شرار کی طراوت کشید کرتے تھے، اب کوئی بہشت نہیں جی رہا ہے، اب کوئی صبح بخیر نہیں ہوتی، کوئی مست نیم دوپہر انگڑائی نہیں لیتی اور کوئی سرمئی شام بادہ آشام نہیں ہوتی، امید کی کھڑکیاں اب جب کھلیں گی تب کھلیں گی، فی الحال تو ’بون جورنو‘ کہنے والوں سے کہہ دیا گیا ہے کہ آپ دیوار سے باتیں کریں، کھڑکیوں سے سرگوشیاں کریں یا چھت کو وسعت گردوں سمجھ کر کہکشاں کی مالا کو ’دانہ دانہ شمار کریں‘ جو چاہیں کریں، صبح اندر نہیں آئے گی، رات باہر نہیں جائے گی، گردشِ لیل و نہار کو سوا نیزے پر ایستادہ کردیا گیا ہے۔ وقت کو موت کے سپرد کردیا گیا ہے، موت غیر مرئی وائرس کی شکل میں فضائے بسیط و بیکراں میں تحلیل ہو گئی ہے، ہر سو موت کا مہیب سایہ پھیل گیا ہے۔

میرے گھر کی کھڑکیاں فوسٹر کی اطالوی کھڑکیوں سے قدرے مختلف ہیں، یہ کسی مثل بہشت براعظم کے کسی خوب صورت ثقافتی و اسقفی شہر کی کھڑکیاں نہیں ہیں، یہ دریائے آرنو کی طرف بھی نہیں کھلتی ہیں، یہ ایک ارب پچیس کروڑ آبادی کی سڑاند و بساند والے ملک ہندوستان کے ایک مکدر مضافات کی کھڑکیاں ہیں، سامنے ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے جسے قدرت نے بطور میخ گاڑ دیا ہے کہ کہیں ساحل بہہ کر گھر تک نہ آجائے۔ پہاڑ کے نشیب میں میدانی علاقہ ہے، کچھ سال قبل تک سبزہ زار تھا، خود رو برگ و بار تھے، موسم برشگال میں اس کے شباب کی طرفگی بانوئے حسن کی دوشیزگی کے مثل تھی۔

اب وہاں ایک تہائی حصے میں غیر قانونی عمارتیں، یوں ٹیڑھی میڑھی کھڑی ہیں، جیسے کوئی عورت ادرک کی طرح پھیل کر سوکھ جائے، یا بعد از آبرو ریزی کسی گل بدن کو بے پیرہن پھینک دیا جائے، حسن فطرت کے ساتھ یہ بدترین مذاق تھا، ایک تہائی حصے کو کباڑیوں نے کباڑخانے بنا کر اس کا کباڑا کر دیا ہے۔

اب جو چھوٹا سا حصہ بچا ہوا اور جو میری کھڑکی سے مزید چھوٹا نظر آ رہا ہے، وہ بازیچۂ اطفال ہے۔ اب وہاں بچے نظر نہیں آتے۔ صبح ہو، دوپہر یا شام، جب بھی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا ہوں، منڈیر پر بیٹھا کوا کائیں کائیں کرکے بھاگ جاتا ہے، پیچھے ایک آسیب چھوڑ کر، ویرانی کا، خوف کا، موت کا آسیب۔

فاختاوں نے تینوں کھڑکیوں کے چھجوں پر گھونسلے بنا رکھے تھے۔ صبح کاذب یا فجر کی اذان و ما بعد کے وقت ان کی آواز نیند میں خلل پیدا کرتی تھی، کئی بار ان کو بھگانے کی کوشش کی، اب یہ سطور لکھتے وقت خیال آ رہا ہے کہ عرصے سے ان کی آواز سنائی نہیں دی ہے۔ میدان میں بے حال و بے فکر بچے، منڈیر پر کوے اور گھونسلوں میں فاختائیں نہیں ہیں۔ تو کیا واقعی نہیں ہیں؟ یا میرا خوف میرے وہم اور وہم یقین پر حاوی ہو گیا ہے؟

کھڑکیاں فوسٹر والی نہیں ہیں، لیکن ہیں تو سہی، دریائے آرنو کا دل کش لینڈ اسکیپ نہیں دیکھ سکتا، لیکن دھول دھپے سے اٹے پٹے، غل گپاڑا مچاتے ہوئے بچوں، ویرانی کی یاد دلانے والے کووں اور پیش از ’عذاب‘ گھونسلے خالی کر دینے والی فاختاؤں کو تو دیکھ سکتا ہوں لیکن فضا میں کثافت، تعفن میں دبازت اور ہوا میں گھٹن کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا۔

یہ میدان کب تک ویران رہے گا اور جب کبھی آباد ہو گا تو کیا بچے وہی ہوں گے، کچھ کہنا مشکل ہے، کچھ کہنا مشکل ہے کہ بات صرف بازیچہ اطفال کے آباد ہونے کی نہیں، میری اپنی کھڑکیوں کی بھی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ جب یہ قیامت خیز سانحہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا، تب تک دنیا میں کتنی کرسیاں خالی ہو جائیں گی، کتنے در ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے اور کتنی کھڑکیاں یوں ہی نیم وا رہ جائیں گی، کہ پردے کے پیچھے آسیب کے سناٹے پھڑپھڑاتے رہیں گے اور کوئی مانوس ہاتھ تھپتھپانے والا نہیں ہو گا۔

دنیا بدل جائے گی، یقیناً پہلے جیسی نہیں رہے گی لیکن پہلے سے بہتر بھی نہیں ہو گی۔ کرہء ارض صاف و شفاف ہو جائے گا۔ نیلگوں آسمان کی وسعت میں تارے کچھ زیادہ نیر و تاباں نظر آئیں گے، ممکن ہے دو پانچ تارے زیادہ نظر آئیں۔ عالمی حدت اور فضائی آلودگی کم ہو جائے گی، گلیشئر کے پگھلنے کی رفتار سست ہو جائے گی، ڈائی آکسائڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں ساٹھ فی صد کمی آ جائے گی، ہوا کی کوالٹی بہتر ہو گی، دمہ، فالج، عارضہ قلب اور پھیپھڑوں کی بیماری کا خطرہ کم ہو جائے گا۔

من جملہ کرہء ارض کی کسی حد تک مرمت ہو جائے گی، سب کچھ ہو جائے گا، لیکن یہ سب عارضی طور پر ہو گا، دنیا پہلے سے زیادہ خراب اور یک قطبی ہو جائے گی کہ ہم نے جس وبا کو امیروں کے عدوان کا رد عمل قرار دیتے ہوئے عذاب کہنا شروع کر دیا تھا، اس نے اب غریبوں کو ایندھن بنانا شروع کر دیا ہے۔ جس وبا سے ہم نے یہ امید وابستہ کی تھی کہ یہ افراط و تفریط کو برابر کر دے گی، وہ اندھی اور بہری ہو گئی ہے۔ لاک ڈاون میں غذائی اجناس کا سارا کچرا ہم نے صاف کر دیا ہے، اگر سرد خانوں میں کچھ ذخائر رہ گئے ہیں تو وہ بھی جلد ہی صاف ہو جائیں گے۔

فی الحال فطرت کی سانسیں بحال ہو گئی ہیں، اسے کھانسی، بخار نہیں ہے لیکن عالمی کساد بازاری کے ساتھ ڈارون کے بقائے اصلح کا دور شروع ہو چکا ہے، جو زیادہ فٹ ہو گا وہی زندہ رہے گا۔ غریب بیماری سے بھی مرے گا اور بھکمری سے بھی۔ اصل جنگ تو کورونا کے بعد شروع ہو گی، جو خالص معاشی ہو گی۔ امیر ہر حال میں زیادہ فٹ ہے اور آنے والے دنوں میں مزید فٹ ہو گا، کہ یہ ’فٹنس‘ اسے معاشی استحکام نے بخشا ہے۔ سانس بہ سانس مرنے والا مزدور مزید سستا ہو جائے گا کہ فروری سے مارچ تک 30 ملین ہنر مند ملازم بے روزگار ہو چکے ہیں۔

حکومت سے انصاف کی کوئی امید نہیں کر سکتے، کہ وہ حق و انصاف نہیں بلکہ ’طاقتور کمزور سے بہتر ہے، کے اصول پر پالیسیاں مرتب کرتی ہے۔ اور ایسی حکومت سے تو کوئی امید نہیں کر سکتے، جس نے عوام کو ’ہیلپ یور سیلف‘ کے سہارے چھوڑ دیا ہے۔ متاثرہ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے گھریلو مجموعی پیداوار کا 10 تا 20 فی صد عوام کی امداد کے لئے جھونک دیا ہے اور ہمارا وزیر اعظم ’امریکا فرسٹ‘ کا پلے کارڈ لے کر گھوم رہا ہے۔

یہ وبا ووہان میں یقیناً کسی غریب سے شروع ہوئی ہو گی اور واپس غریبوں میں لوٹ آئی ہے۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ جب یہ وبا گزر جائے گی، رمضان، عید اور دوسرے ایام سرک جائیں گے، جب واپس کوئی نیم مست دوپہر انگڑائی لے گی، کوئی نسیم سرگوشی کرے گی تو ہم میں سے کتنے لوگ اس خوف سے باہر نکل سکیں گے، خالی کرسیوں، ادھ کھلے دروازوں اور نیم وا دریچوں کے بارے میں سوچیں گے، جہاں کبھی زندگی رہی ہو گی اور جو اپنے آباد کاروں کے لمس، آہٹ اور سرگوشی کے منتظر ہوں گے اور وہ کبھی نہیں آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ہاشم خان، ہندوستان

مصنف افسانہ نگار ناقد اور صحافی ہیں، ممبئی، ہندوستان سے تعلق ہے

hashim-khan-mumbai has 13 posts and counting.See all posts by hashim-khan-mumbai

One thought on “جب کوئی دوپہر انگڑائی لے گی

  • 12/04/2020 at 4:57 pm
    Permalink

    بہت خوب
    وبا کے دنوں میں تخلیق ہونے والے ادب میں یاد رہ جانے والی تخلیق.
    ڈھیروں داد

Leave a Reply