ابنِ صفی کے ناول ”وبائی ہیجان“ سے حقیقی وبائی ہیجان تک



ابنِ صفی اردو جاسوسی ناول نگاری کا ایک زندہ و جاوید نام ہیں۔ انہوں نے جاسوس نگاری کے میدان میں ایک ایسی روایت قائم کی کہ ان کے بعد آنے والے ہر لکھاری نے ان کی تقلید کرنے کو اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھا۔ حتی کہ اشتیاق احمد مرحوم جیسے عہد ساز بچوں کے ادیب بھی ابنِ صفی کو اپنا غائبانہ استاد کہا کرتے تھے۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنے استاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے ”عمران کی واپسی“ کے عنوان سے عمران سیرز کا ناول بھی لکھا۔

ابنِ صفی کے عہد کے نوجوان ان کے قلم کے سحر میں جکڑے ہوئے تھے۔ جس دن ان کا ناول شائع ہونا ہوتا تھا، اس دن کتاب فروشوں کی دکانوں کے باہر قطاریں لگ جاتی تھیں۔ خریداری کا یہ عالم تھا کہ مارکیٹ میں آنے کے چند گھنٹوں کے بعد ناول کا نسخہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا تھا۔ ابنِ صفی کے ناول بار بار شائع ہوئے اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔ جاسوسی ناول نگاری میں ان کے علاوہ یہ خصوصیت اگر کسی کو حاصل ہو سکی ہے تو وہ اشتیاق احمد ہیں۔ ورنہ عام طور پر اس طرح کے ناولوں کی عمر یومیہ اخبار اور ہفتہ وار جریدے کی طرح اتنی ناپائیدار ہوتی ہے کہ دوسری اشاعت کی نوبت ہی نہیں آتی۔

ابن صفی کا بڑا کمال یہ تھا کہ ان کے ناول ان کے عہد کے مروجہ فیشن کے برعکس فحاشی اور مخربِ اخلاق مواد سے پاک، زبان و بیان کی حلاوت سے لبریز، ادب کی چاشنی سے مرصع اور گاہے گاہے فکری راہنمائی اور ذہن سازی کے جوہر کو بھی اپنے اندر سموئے ہوتے تھے۔

ان کی ”کرنل آفریدی سیرز“ کا چھہترواں ناول ”وبائی ہیجان“ ہے۔ یہ ناول شہر میں سازش کے ذریعے پھیلائی گئی ایک وبا کی کارگزاری ہے۔ ڈاکٹر سانگلو ایک مغربی عالمی طاقت کے ایجنڈے کے تحت شہر کی واٹر سپلائی ٹینکیوں میں مردہ کتے پھینکوا دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں شہر کے لوگ باؤلے پن کی وبا میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ابنِ صفی وبا کے پھیلنے اور شہر کی صورتِ حال کی منظر کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں :

” فریدی کا خیال درست نکلا یہ وبا شہر کے جدید حصے میں بھی پھیلنے لگی اور پھر سڑکیں ویران ہو گئیں۔ ۔ ایک ہفتے کے اندر ہی اندر ایسا معلوم ہونے لگا جیسے اساطیری عفریتوں نے کسی قدیم شہر کو تاراج کر دیا ہو۔ حکومت کی ذمہ دار شخصیتیں بھی منظر سے ہٹ گئی تھیں اور سارے دفاتر ہٹا دیے گئے تھے۔ اس حیرت انگیز وبا نے ساری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا۔ مختلف ممالک سے طبی مشن آنے لگے لیکن خود ان مشنوں کے بیشتر افراد بھی اسی وبا کا شکار ہو گئے۔ ابھی حالات پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔ بڑی بڑی طبی تجربہ گاہیں دن رات کھلی رہتیں۔ اس مرض کے متعلق چھان بین ہوتی لیکن اسے ختم کرنے کا کوئی مستقل ذریعہ ہاتھ نہ آتا۔ “

جس مغربی ملک کے ایما پر ڈاکٹر سانگلو یہ حیاتیاتی دہشت گردی پھیلاتا ہے اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وبا کے پھیلنے کے بعد امدادی سامان اور طبی مشن بھیج کر اس ملک کے لوگوں کی مدد کی جائے، ان کی ہمدردیاں سمیٹی جائیں، ان کا اعتماد حاصل کی جائے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جائے۔ تاکہ قریب میں واقع ایشیا کی مستحکم اقتصادی قوتوں کے خلاف کام کرنے کے لیے ہمیں اس ملک میں بآسانی جگہ مل سکے۔ کرنل فریدی ان کی اس سازش کا سراغ لگا کر، ڈاکٹر سانگلو کا پول کھول دیتے ہیں اور ان کے اس وار کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ ناول کے اختتام پر وہ ان الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں :

”ارے! یہ بڑی طاقتیں اسی طرح تو ایشیا پر قبضہ جمارہی ہیں۔ کہیں غلہ تقسیم ہو رہا ہے، کہیں کپڑے بانٹے جا رہے ہیں اور کہیں کسی وبا کا خاتمہ کرنے کے لیے مفت دوائیں تقسیم کی جارہی ہیں۔ جہاں ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی وہاں بھی ضرورت پیدا کر لی جاتی ہے۔ طریقہ کار یہی ہوتا ہے جو ہمارے یہاں اختیار کیا گیا۔ مصنوعی قحط پیدا کیے جاتے ہیں، مصنوعی وبائیں پوری پوری بستیوں پر دھاوا بول دیتی ہیں۔ پھر یہ فرشتے آکر ہمارے آنسو پونچھتے ہیں اور ہماری دعائیں بھی لے جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جو اپنے اقتدار کے لیے رسہ کشی کر رہی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ گر سکتی ہیں۔ ان کے بلند بانگ نعرے جو انسانیت کا بول بالا کرنے والے کہلاتے ہیں کتنے زہر آلود ہیں اس کا اندازہ مشکل ہے۔ “

دنیا میں رونما ہونے والے بعض حادثات و واقعات اور تیار ہونے والی بعض ایجادات پہلے اشاروں، کنایوں یا صریح الفاظ کی شکل میں کسی نثر نگار یا شاعر کے قلم سے قرطاس پر منتقل ہوتی ہیں۔ پھر لوحِ محفوظ سے زمین اور انسانی ذہن پر ان کا نزول ہوتا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں کی زندگی کا یہ کشفی پہلو دنیائے ادب کی ایک پیش افتادہ پا بات ہے، جس کا مشاہدہ بکثرت ہونے میں آیا ہے۔ قلم کے ہاتھ بعض دفعہ اتنے لمبے بھی ہوجاتے ہیں کہ مستقبل کی سرحد کو چھو لیتے ہیں، تخیل کی آنکھ کبھی کبھی اتنی بابصر ہوتی ہے کہ ان دیکھی دنیا بھی ادیب کو نظر آنے لگ جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اشتیاق احمد نے ”وادیءِ مرجان“ لکھنے سے پہلے چناب نگر کو نہیں دیکھا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر انہوں نے اس شہر کا جو نقشہ اس ناول میں کھینچا ہے بعد میں جب اسے دیکھنے کا اتفاق ہوا تو انہوں نے اسے بعینہ ویسا ہی پایا جیسا کہ وہ اپنے ناول میں لکھ چکے تھے۔

اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں پھیلی ہوئی متعدد افواہوں، سازشی نظریات اور من گھڑت توہمات کے پیچھے انہی ادبی فن پاروں میں مضمر تخیلات کارفرما ہوتے ہیں۔ خلائی مخلوق سے لے کر ڈریکولا تک کے فرضی کرداروں کو حقیقی اور واقعی موجودات سمجھنے والوں نے یہیں سے ”راہنمائی“ حاصل کی ہے۔ ابنِ صفی اور اشتیاق احمد سمیت مشرق اور مغرب کے بہت سے ناول نگاروں، افسانہ نویسوں، ڈرامہ لکھنے والوں اور شاعروں وغیرہ کی تخلیقات کے اس الہامی یا پھر وہمی پہلو کا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے۔

کیا یہ کہا جائے کہ ہم آج جس ”وبائی ہیجان“ سے گزر رہے ہیں اس کے متعلق پھیلائی جانے والی سازشی تھیوریوں کا مصدر ابنِ صفی و غیرہ کے ناول ہیں یا یہ کہا جائے کہ ابنِ صفی کا ”وبائی ہیجان“ دراصل مستقبل (اور ہمارے حال) کی ایک تصویر ہے جو آج سے نصف صدی قبل ایک عبقری مصور نے اپنے تخیل، اپنے ادبی کشف اور اپنے تحریری الہام کے جھروکے سے جھانک کر تیار کی؟ کیا ان نظریات کو محض ”سازشی تھیوریاں“ کہہ کر رد کردینا کافی ہے جب کہ ہم ایک ایسی دنیا میں بس رہے ہیں جہاں ہمہ وقت افراد اور قومیں ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں؟ کورونا سے چین، امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سمیت دنیا کا کوئی بھی خطہ نہیں بچا، کیا یہ اس کے فطری و قدرتی ہونے کی دلیل ہے یا پھر لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

Facebook Comments HS