کورونا کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر کس کا؟

یہ سارے انتظامات اس لئے کہ تدبیر کا حکم خدا کی طرف سے ہے اور تدبیر کے بعد تقدیر کا فیصلا اللّٰہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب ہم یہ سگرے انظامات کر چکیں اور احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ قرار دے کر اپنا چکیں تو پھر ہم خدا وند کریم پر توکل کریں، توکل کا مطلب کسی شاعر نے کیا خوب بیان کیا ہے۔
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر رکھ تیز اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر
پتہ چلا ہمیں موجودہ وباء سے محفوظ خدا ہماری کوشش (احتیاط) کے بدلے اپنے خاص فضل وکرم سے فرمائے گا۔
حالات کا ایک دوسرا رخ ہمارے اعمال کی تصحیح اور عقائد و نظریات کی درستگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہمیں اپنے عقائد و نظریات کو بھی خوب پرکھنا چاہیے۔ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے، اللّٰہ سے سب کچھ ہونے اور غیراللّٰہ سے کچھ بھی نہ ہونے کے عقیدہ پر قائم رہ کر اللّٰہ سے لو لگا لینی چاہیے مگر اللّٰہ سے سب کچھ ہونے کے مفہوم کو خوب خوب گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہیے کہ وہ رب جو سب کچھ کر سکتا اس ”سب کچھ“ میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو اپنے (اللّٰہ کے حکم کے تحت) وہ سب کرنے کا اختیار بھی دے سکتا ہے جو عام انسانوں کی عقل سے ماوراء ہوتا ہے۔
اسی ضمن میں ایک مشہور اور سچے واقعہ کے بعد میں واپس پھر کورونا پہ آتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ؛
چانڈیو یا چانڈیہ قبیلے کی ایک شاخ ”ٹوٹانی“ سے تعلق رکھنے والا لاڑکانہ (موجودہ ضلع قمبر) کا رہاہشی، سیدھا سادہ، انپڑھ، ٹریکٹر ڈرائیور محمد پناہ ٹوٹانی ولد محمد ملوک ٹوٹانی بائیس سال کی میں ”ہارون گایمچو“ نامی شخص کے ساتھ حاضر و ناظر پر بحث میں الجھ پڑتا ہے، بحث طول پکڑتی ہے، لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر ان دونوں کے درمیان کوئی بات طے نہیں پاتی کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے؟ بالآخر طے پاتا ہے کہ آگ جلائی جائے اور دونوں نوجوان ایک ساتھ آگ میں جائیں، جسے آگ نے نقصان پہچایا وہ جھوٹا اوr جسے آگ کچھ نہ کہہ سکی وہ سچا قرار پائے گا۔
ایس ہی ہوا آگ جلائی گئی اور بحث میں الجھے دونوں نوجوان آگ میں جا گھسے، نتیجہ یہ نکلا کہ جبتک محمد پناہ ٹوٹانی نے ہارون گایمچو کا ہاتھ پکڑے رکھا تب تک دونوں محفوظ رہے اور جب محمد پناہ نے ہارون کا ہاتھ چھوڑا، آگ نے ہارون کو جھلس دیا اور ہارون چیخ مار کر باہر نکلا اس کے دوستوں نے اسے ہسپعتال پہنچایا جبکہ محمد پناہ کو آگ نے کچھ نہ کہا۔ کچھ لوگ حیران رہ گئے اور کچھ نے کہا محمد پناہ آگ میں نہیں گیا اس نے ہارون کو دھکا دے کر آگ میں پھیکا اس لیے ہارون جلا اوr محمد پناہ بچ نکلا۔
لوگوں کی یہ باتیں سن کر محمد پناہ دوبارہ آگ میں کود پڑا اور مسلسل گیارہ منٹ دہkتی آگ میں کھڑا رہا، آگ محمد پناہ کو کچھ نقصان نہ پہچا سکی۔ واقعہ بڑا مشہور ہوا، لوگ توبہ تائب ہوئے اور محمد پناہ کے پاؤں پڑ کر معافی مانگنے لگے۔ یہ واقعہ 1998 ء میں پیش آیا اور بڑا مشہور ہوا، اس واقعہ پر کتاب ”شخصیات اسلام“ میں تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے اور چھ چشم دید گاؤں کے بیانات بھی اسی کتاب کے صفعہ دو سو پچس، چھبیس پر درج ہیں۔

